”آئین وقانون کے خلاف فیصلہ سنائے جانے سے خطرناک ماحول بن گیاہے“،ائرمارشل (ر) شاہد لطیف

”آئین وقانون کے خلاف فیصلہ سنائے جانے سے خطرناک ماحول بن گیاہے“،ائرمارشل ...
”آئین وقانون کے خلاف فیصلہ سنائے جانے سے خطرناک ماحول بن گیاہے“،ائرمارشل (ر) شاہد لطیف

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)دفاعی تجزیہ کار ائرمارشل (ر)شاہد لطیف نے کہاہے کہ خطرے کی علامت یہ ہے کہ جب آئین وقانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اتنا بڑا فیصلہ سنایا جائے گا توایک ادارہ ہے اور وہاں پر لوگوں کے جذبات ہیں توپھر یہ خطرناک ماحول توبن گیا ہے۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”آن دافرنٹ“میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد لطیف نے کہا کہ پرویز مشرف نے فوج کی قائد کے طور پر خدمت کی ہے اور اس حوالے سے فوج میں جو تحفظات ہیں ، وہ پاک فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں بتادیے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کی غداری کونسی سی ہے کیا ان کی جانب سے ملک کی کوئی چیز کہیں پہنچا دی گئی ہے ؟ ایک طرف تو ایک آدمی ہے جو وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی کلبھوشن کا نام لیتے ہوئے گھبراتا ہے ،میمو گیٹ اور ڈان لیکس کیا کسی کی نظروں سے اوجھل ہیں ؟انہوں نے کہا کہ کیا آئین نہیں کہتا ہے کہ جو معاون کار تھے ، ان کوہرصورت کیس میں شامل کرنا ہے اور وقتاً فوفتاً یہ بات کی جاتی رہی لیکن کیا وجوہات تھیں کہ ان لوگوں کو مقدمے میں شامل نہیں کیاگیا ؟

شاہد لطیف کا کہناتھا کہ خطرے کی علامت یہ ہے کہ جب آئین وقانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اتنا بڑا فیصلہ سنایا جائے گا ،ایک ادارہ ہے اور وہاں پر لوگوں کے جذبات ہیں توپھر یہ خطرناک ماحول توبن گیاہے ۔انہوں نے کہا کہ آئین وقانون کی خلاف ورزی کرکے ایک فیصلہ کیاجائے تو یہ کونسا انصاف ہے کہ باقی لوگوں کواس مقدمے میں شامل نہیں کیاگیا ۔

مزید : قومی