سندھ حکومت کا بڑا اعلان،پارکنگ جگہوں میں دکانیں بنانے والے شاپنگ سینٹرز کو نوٹس دینے کا فیصلہ

سندھ حکومت کا بڑا اعلان،پارکنگ جگہوں میں دکانیں بنانے والے شاپنگ سینٹرز کو ...
سندھ حکومت کا بڑا اعلان،پارکنگ جگہوں میں دکانیں بنانے والے شاپنگ سینٹرز کو نوٹس دینے کا فیصلہ

  



کراچی(صباح نیوز)  وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹ کمیشن (پی پی ایس اینڈ پی سی سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سندھ پولیس کو ہدایت کی ہے کہ صوبے کے عوام کی مکمل سیکیورٹی اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ جن شاپنگ سینٹرز نے اپنی پارکنگ جگہوں میں دکانیں بنائی ہیں ان کو نوٹس دئے جائیں گے۔

اجلاس میں کمیشن کے تمام اراکین سمیت شرجیل انعام میمن، امداد پتافی، شمیم ممتاز، شہناز بیگم، محمد علی عزیز، حسین علی مرزا، کرامت علی، بیرسٹر حیا ایمان، جھمت مل، قربان علی ملانو جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کی خصوصی دعوت پر چیف سیکرٹری سید ممتاز علی شاہ، مشیرقانون مرتضیٰ وہاب، آئی جی پولیس ڈاکٹر کلیم امام، سیکرٹری داخلہ عثمان چاچڑ، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی، کمیشن سیکرٹری سیف اللہ ابڑو نے شرکت کی۔ اجلاس کے5نکاتی ایجنڈے میں گٹکے، مین پوری اور منشیات کی سمگلنگ کیخلاف کارروائی، آئی جی پولیس کی شہید بینظیر آباد یونیورسٹی کے طلبا  کا معاملہ، محراب پور میں بچے پر تشدد کا واقعہ اور پیر جوگوٹھ میں بچے کی خودکشی کا واقعہ، صوبائی سالانہ پولیس پلان کا جائزہ، پولیس کمیشن کو سٹاف دینا اور کراچی میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل پر گفت و شنید ہوئی۔ اجلاس میں گٹکا، مین پوری بنانے اور منشیات سمگلرز کیخلاف کارروائی کے حوالے سے آئی جی پولیس نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ گٹکا، مین پوری کے مقدموں میں5714ایف آئی آر رجسٹر کی گئی ہیں۔6995ملزماں کو گرفتار کیا گیا۔3526470کلوگرام گٹکا اور مین پوری برآمد کیا گیا۔ منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی میں8995ایف آئی آر رجسٹرڈ ہوئی ہیں۔11056ملزمان گرفتار کئے، اس میں کل12.884کلوگرام منشیات برآمد ہوئی۔ ایرانی ڈیزل کی سمگلنگ سے متعلق آئی جی نے اجلاس کو بتایا کہ 1141111 لیٹرز ڈیزل پکڑا گیا اور448ملزمان گرفتار ہوئے ،182کیخلاف کارروائی کی گئی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیس ایرانی ڈیزل کی سمگلنگ کے خلاف کارروائی کرنے کی مجاز نہیں لیکن انہوں نے پولیس کو یہ کام اس لئے سونپا ہے کہ جو رقم سمگلنگ سے حاصل ہوتی تھی وہ دہشتگردی کی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی تھی۔ اجلاس میں ڈی آئی جی ٹریفک جاوید مہر نے صوبائی پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹس کمیشن کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شہر کراچی 3527کلومیٹر پر محیط ہے جس میں1000کلومیٹر سڑکوں کا جال بچھا ہے۔ شہر کی آبادی16ملین ہے اور53لاکھ سے زیادہ گاڑیاں ہیں جن میں65فیصد بائیکس ہیں۔

اجلاس میں 147 سڑکوں پر لائن مارکنگ، اسٹاپ لائن، زیبرا کراسنگ بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا اور 178 جگہوں پر ٹریفک سگنلز بورڈ لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں لائنز ایریا پارکنگ پلازہ اور بارا دری انڈرگرائونڈ پارکنگ کیلئے عوام کو آگاہ کرنے کی تجویز دی گئی۔ جن شاپنگ سینٹرز نے اپنی پارکنگ جگہوں میں دکانیں بنائی ہیں انکو نوٹس دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ پارکنگ ایریاز کو صرف پارکنگ کیلئے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ جی پی او کے قریب ریلوے گرائونڈ، کشمیر روڈ پر چائنہ گرائونڈ پر پارکنگ کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز دی گئی۔ ڈی آئی جی ٹریفک نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مچھر کالونی کے بالکل عقبی ساحل سمندر کے ساتھ ویسٹ وہارب تا ناردرن بائی پاس تک بائی پاس روڈ ،سی ویو کلفٹن بیچ کے ذریعے کے پی ٹی سے کورنگی صنعتی علاقے تک ٹریفک کی روانی کو موڑنے کیلئے سدرن بائی پاس کی تعمیر ، ایم ٹی خان روڈ کے ساتھ پی آئی ڈی سی پل پر ٹی پی ایکس کنٹینر یارڈ تک ہیڈ برج کی تعمیر کی جائے۔ اگلی میٹنگ میں آئی جی پولیس سالانہ پولیس پلان پیش کریگی۔ کمیشن کے قواعد وضع کرکے جانچ کیلئے محکمہ قانون کو بھیج دئے گئے ہیں۔ آئی جی پولیس کے خلاف کمیشن کے اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے پر منظور کی گئی قرارداد آئی جی پولیس کی درخواست پر واپس لی گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ماضی میں عوام کا پولیس پر سے اعتماد اٹھ گیا تھا لیکن اب پبلک سیفٹی کمیشن کے قیام کے بعد پولیس کی جوابدہی کا  ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے تحت پولیس قاعدے قانون کے مطابق کام کریگی ۔ وہ بدھ کو سندھ اسمبلی میں محکمہ داخلہ سے متلعق وقفہ سوالات کے موقع پر انچارج وزیرکی حیثیت سے ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ میں2017 سے 2018 تک  2900سے زائد افراد قتل ہوئے، ہماری تو خواہش ہے کہ ایک بھی قتل نہیں ہونا چاہئے، اب نیا پولیس قانون پاس کرلیاگیا ہے۔ پولیس جب بالکل آزاد تھی تو 2993قتل ہوئے اب پبلک سیفٹی کمیشن کو نگرانی کا کام سونپ دیا گیا ہے۔ اس موقع پر جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے دریافت کیا کہ کیا اب پولیس آزاد نہیں ہے؟ جس پر وزیراعلیٰ نے وضاحت کی کہ اب پولیس جوابدہ ہے، ماضی میں ٹرانسفر پوسٹنگ آئی جی کرتے تھے، لوگوں کا پولیس سے اعتماد اٹھ گیا تھا لیکن اب ان شااللہ حالات بہتر ہوںگے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی