چیف جسٹس نے پہلے ہی عزائم ظاہرکردیئے تھے ،فوج اور عوام کی حمایت تمغہ ہے ،قبر میں ساتھ لیکرجاؤں گا:بستر علالت سے پرویز مشرف کا بیان

چیف جسٹس نے پہلے ہی عزائم ظاہرکردیئے تھے ،فوج اور عوام کی حمایت تمغہ ہے ،قبر ...
چیف جسٹس نے پہلے ہی عزائم ظاہرکردیئے تھے ،فوج اور عوام کی حمایت تمغہ ہے ،قبر میں ساتھ لیکرجاؤں گا:بستر علالت سے پرویز مشرف کا بیان

  



دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق صدرجنرل(ر) پرویز مشرف نے کہاہے کہ پاکستانی عدلیہ کا بہت احترام کرتا ہوں، چیف جسٹس کھوسہ نےفیصلے سےپہلےہی اپنے عزائم ظاہر کردیئےتھے، فیصلے پر پاک فوج اور عوام کی حمایت میرے لئے تمغہ ہے جس کوقبرمیں ساتھ لیکرجاؤں گا ۔

نجی نیوزچینل پرہسپتال سےنشرکی گئی جنرل(ر)پرویزمشرف کی ویڈیومیں سابق صدرنےکہاکہ میں نےخصوصی عدالت کافیصلہ ٹی وی پرسنا،خصوصی عدالت کے فیصلےکومشکوک کہتاہوں،ایسےفیصلے کی پہلےکوئی مثال نہیں ملتی،کیس میں صرف ایک فردکوٹارگٹ کیاگیاہے۔اُنہوں نےکہاکہ فیصلےمیں ملزم اورنہ ہی اُس کے وکیل کودفاع کاحق دیاگیا،میں پاکستانی عدلیہ کابہت احترام کرتاہوں تاہم خصوصی عدالت کاایسافیصلہ پہلی بارسناہے،میں نےکہاتھاسپیشل کمیشن کوبیان دینے کے لئے تیار ہوں لیکن تحقیقاتی کمیٹی کوبیان دینے کی میری پیشکش کومستردکیاگیا۔اُنہوں نے کہاکہ خدمات کویادرکھنے پرعوام اورپاک فوج کامشکورہوں،یہ میرے لئے تمغہ ہے جو ساتھ قبر میں لے کرجاؤں گا۔

جنرل(ر)پرویز مشرف کاکہنا تھا کہ میرےخلاف کیس کچھ لوگوں کی ذاتی عداوت سےسناگیا،اُن لوگوں نےمجھےٹارگٹ کیاجواعلیٰ عہدوں پرفائزہیں،ٹارگٹ کرنیوالوں نے اپنے عہدوں کاغلط استعمال کیا،میرے دورمیں فائدہ اُٹھانےوالے جج میرے خلاف کیسےفیصلہ دے سکتے ہیں؟۔اُنہوں نےکہاکہ اِس کیس میں قانون کی بالادستی کا خیال نہیں رکھاگیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز 17 دسمبر کو خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا جبکہ کیس کا تفصیلی  فیصلہجمعرات کو دن 12 بجے جاری کیا جائے گا۔ خصوصی عدالت نے گزشتہ روز مختصر فیصلہ سناتے ہوئے 48 گھنٹوں میں تفصیلی فیصلہ جاری کرنے کا کہا تھا۔دوسری طرف ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفورکا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کےفیصلے پرافواجِ پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے، جنرل پرویز مشرف آرمی چیف، چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور صدرِ پاکستان رہےاور اُنہوں نے 40 سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی ہے،کیس میں آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیےگئےجبکہ خصوصی کورٹ کی تشکیل کےلیےبھی قانونی تقاضے پورے نہیں کیےگئے۔اُنہوں نےکہاکہ جنرل پرویز مشرف کو اپنے دفاع کا بنیادی حق نہیں دیا گیا، عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر کی گئی اور کیس کو عجلت میں نمٹایا گیا ہے،افواجِ پاکستان توقع کرتی ہے کہ جنرل  پرویز مشرف کو آئین پاکستان کے تحت انصاف دیا جائے گا۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی


loading...