بین الافغان مذاکرات سے وابستہ امیدیں 

بین الافغان مذاکرات سے وابستہ امیدیں 

  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ بندی کے لئے تمام فریقوں کو  تشدد میں کمی لانا ہو گی،انہوں نے امن عمل میں خلل ڈالنے اور اسے سبوتاژ کرنے والوں سے بھی خبردار رہنے پر زور دیا اور افغانستان میں قیام امن کے لئے تعاون کی یقین دہانی کرا دی۔ دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے میں پاکستان نے ہر ممکن حد تک مصالحانہ کردار ادا کیا، بین الافغان مذاکرات کے قواعد و ضوابط پر اتفاق انتہائی خوش آئند ہے۔ پاکستان شروع سے کہتا چلا آ رہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کا واحد راستہ نتیجہ خیز اور جامع مذاکرات کا انعقاد ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن پورے خطے کے امن و استحکام کے لئے لازم و ملزوم ہے۔ہم عالمی برادری سے تعاون کی درخواست کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، وزیر خارجہ نے اِن خیالات کا اظہار افغان طالبان کے نو رکنی وفد کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا، جس کی  سربراہی مُلا عبدالغنی برادر کر رہے ہیں۔افغان حکومت کے اعلیٰ نمائندوں کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کے دوران بھی اس امر پر اتفاق ہوا تھا کہ امن کے لئے تشدد کے واقعات میں کمی ناگزیر ہے،لیکن ابھی تک یہ مقصد حاصل نہیں ہو پایا ابھی دو روز قبل تشدد کے ایک واقعہ میں نائب گورنر جاں بحق ہو گئے ہیں،دھماکوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اگرچہ اب بین الافغان مذاکرات کی امید پیدا ہو گئی ہے اور اس کے قواعد و ضوابط بھی طے پا گئے ہیں تاہم مذاکرات ابھی عملاً شروع نہیں ہوئے، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماحول کو سازگار بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ عبداللہ عبداللہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور انہوں نے دوحہ امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کو سراہا تھا اور آئندہ کے لئے نیک توقعات وابستہ کی تھیں، اب طالبان وفد کے ساتھ ملاقات میں بھی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان میں تشدد کے واقعات کم ہو جائیں گے، اس کے لئے ہر کسی کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہئے،افغانستان میں ایسی قوتیں موجود ہیں جو امن نہیں چاہتیں،کیونکہ اُن کا ایجنڈا امن کے ماحول میں تکمیل نہیں پاتا، تشدد کا ماحول ہی اُن کے لئے سازگار ہے اور وہ یہی چاہتے ہیں کہ افغان آپس میں لڑتے مرتے رہیں اور وہ اپنے مقاصد پورے کرتے رہیں، بھارت ایسی قوتوں کا سرپرست ہے اور اُن کی حوصلہ افزائی کے لئے اُنہیں ہر قسم کی معاونت فراہم کرتا ہے،افغانستان میں بھارت کے کئی قونصل خانے ایسی سرگرمیوں کی آماج گاہ ہیں۔ یہ قونصل خانے افغان  سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال کا ذریعہ بنتے ہیں، پاکستان نے اب تو وہ تمام شواہد دُنیا کے سامنے رکھ دیئے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت اُن دہشت گردوں کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں، اُنہیں فنڈز مہیا کئے جاتے ہیں اور پاکستان میں اہداف تک پہنچنے کے لئے رہنمائی کی جاتی ہے۔ اب تو ایسی جعلی ویب سائٹس کی نشاندہی بھی ہو گئی ہے جو پاکستان کے خلاف جھوٹے معاندانہ پروپیگنڈے کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔پاکستان اور افغان حکومت کے نمائندے جب بھی ملتے ہیں، افغانستان میں امن اُن کا سب سے اہم موضوعِ گفتگو ہوتا ہے، اور ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے، کیونکہ ایسا امن خود پاکستان کے مفاد میں ہے۔ قیام امن کے لئے پاکستان ہر قسم کی عملی معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ بات بھی ہمیشہ کہی جاتی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے استعمال نہیں ہو گی، اب بھی یہی باتیں ایک بار پھر طالبان وفد کے ساتھ کی گئی ہیں اِس لئے امید تو یہی کرنی چاہئے کہ افغان حکومت آئندہ اس امر کا اہتمام کرے گی کہ وہ اُن قوتوں پر نظر رکھے جو اس کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتی ہیں اور اس طرح دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کے بیج بھی بوتی ہیں۔ یہ قوتیں کوئی ڈھکی چھپی نہیں اور نہ ہی اُن کے ارادے خفیہ ہیں، بلکہ یہ سب کچھ آشکار ہے اور ہر چشم  ِ بینا کو نظر بھی آتا ہے کہ افغانستان میں امن کن قوتوں کو مطلوب نہیں ہے اور کون سی قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان اور افغانستان میں غلط فہمیاں پھیلتی اور  وسیع ہوتی رہیں۔اگلے ماہ بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے، امن کے متلاشیوں کی ساری نگاہیں انہی مذاکرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ انہی کے نتیجے میں راستہ نکلے گا، جس پر چل کر افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ امریکہ تو بیس سال بعد اس سرزمین میں سر پٹختے پٹختے اب واپس جا چکا، بہت تھوڑی افواج باقی رہ گئی ہیں یہ بھی اس وقت واپس چلی جائیں گی جب افغان قوتیں اپنے ملک کے امور خود سنبھال لیں گی اور امن و امان کا کنٹرول بھی مقامی فورسز کے ہاتھ میں آ جائے گا۔ افغان معاشرے کے تضادات کے پیش ِ نظر وہاں امن کا قیام کوئی آسان کام نہیں ہے یہ دشوار گذار راستہ ہے، لیکن ان مذاکرات کے نتیجے میں امید ہے حکومت اور مخالف قوتیں کوئی ایسا فیصلہ کر کے اٹھیں گی جو افغانستان میں تشدد کا خاتمہ کر کے ایک نئی صبح کے طلوع ہونے کے آثار پیدا کر دے گا، پاکستان ایسی ہی نوید کا منتظر اور امن کا خواہاں ہے۔ 

مزید :

رائے -اداریہ -