تائیوان نے کورونا پر کیسے قابو پایا؟

تائیوان نے کورونا پر کیسے قابو پایا؟
تائیوان نے کورونا پر کیسے قابو پایا؟

  

کورونا کے مسکن ووھان چین سے محض 81 کلو میٹر کی دوری پر واقع ساحلی پٹی کے ملک تائیوان نے ساری دنیا کے سامنے مثال قائم کر دی۔ تائیوان میں صرف 553 لوگ متاثر ہوئے اور 7لوگ لقمہ  ئ اجل بنے۔ آخر انہوں نے ایسا کیا جادو کیا کہ وہاں 200 دن میں مقامی طور پر کورونا کا کوئی ایک تازہ کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا۔

بات بڑی سادہ سی ہے۔تائیوانی قوم نے یک جان،یک زبان ہوکر فیصلہ کیا۔ انہوں نے کورونا سے چھٹکارا پانے کا پہلا سبق جو یاد کیا وہ اس وائرس کو انتہائی سنجیدہ لینا۔ کورونا کوئی ڈرامہ، لطیفہ یا شغل نہیں، ایک حقیقت ہے۔ماسک لگانا، سماجی فاصلہ، صفائی و ستھرائی، ہائی جین کا خاص خیال رکھنا، غیرضروری طور پر سفر سے اجتناب کرنا ان کے ہتھیار تھے۔

کورونا کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ میں تائیوانی قوم نے ذمہ داری کا ثبوت تو دیا سو دیا۔ تائیوانی سابق صدر اور موجودہ صدر نے اپنی حکومت کو ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھنے۔عالمی ادارہ صحت یا چین کے ایکشن کا انتظار کرنے کے بجائے تمام اتھارٹیز کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کرنے عوام کو فوری، جامع اور مکمل معلومات دینے کے ساتھ، قوم کو اعتماد میں لے کر بروقت اقدامات کر کے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تائیوانی قوم نے ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کے بجائے اس بات کا پاس رکھا اگر معیشت کو بچانا ہے تو خود اپنا اور دوسروں کا خیال رکھنا ہے۔ بیمار ہو کر نہ تو ہسپتالوں کو  رش سے بھر کر افراتفری مچانی ہے اور نہ ہی لاک ڈاؤن کرکے غریب کے منہ سے نوالہ چھیننا ہے اور نہ ہی اپنے کسی فعل سے دنیا میں جگ ہنسائی کرانی ہے۔

لیں جی،تائیوان نے دسمبر 2019ء میں اپنے تمام بارڈر سیل کر دیئے۔بیرون ملک سے آنے والوں کے ایئرپورٹ پر بخار، نمونیا چیک کرنے کے ساتھ 14 دن کا قرنطینہ لازمی قرار دے دیا گیا۔ موبائل ایپ کے ذریعے سب کی نگرانی کی گئی۔قانون کی خلاف ورزی پر 3000 سے 33000 ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا۔مارچ میں ایک شخص جو اپنے قرنطینہ کئے گئے مقررہ وقت سے پہلے باہر نکلا اسے 33000 ڈالر جرمانہ کر دیا گیا، جو لوگ تائیوان سے بیرون ملک گئے ان سے رابطہ رکھا گیا کہ کہیں وہ یہاں سے جاکر کورونا میں مبتلا تو نہیں ہو گئے۔ حال ہی میں تائیوان سے تھائی لینڈ، جاپان جانے والے 3 مسافروں کے ٹیسٹ مثبت آئے۔اسی طرح امریکہ، فلپائن اور انڈونیشیا سے تائیوان آنے والے 20افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے، چونکہ تائیوان میں سیاح کافی زیادہ تعداد میں آتے ہیں اور کورونا نے امریکہ، یورپ کو بہت متاثر کیا، چنانچہ تائیوانی حکومت نے سیاحوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہاں خصوصی اجازت کے تحت لوگ آ سکتے تھے۔ مارچ سے جون تک پابندی رہی حتیٰ کہ تائیوانی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے بشمول چینی طالب علموں کو بھی واپس آنے کی اجازت نہ تھی۔اگست میں طلبا کی واپسی ہوئی۔ یہ سب کچھ عوام کے تعاون سے ممکن ہوا یہ ناچیز بھی 2016ء میں تائیوان گیا۔ ائیرپورٹ پر امیگریشن کاؤنٹر پر مسافروں کی سہولت کے لئے نزدیک کی نظر کے مختلف نمبرز کے چشمے پڑے ہوئے تھے،جو شاید ہی دنیا کے بڑے بڑے ائیرپورٹس پر ہوں۔یہ چیز دیکھ کر اندازہ ہوا۔ مہذب لوگوں کے دیس آئے ہیں۔اپنے  پانچ دن کے قیام میں یہ ثابت ہوا۔ تائیوان دیکھنے لائق ہے۔

تین دن اور رات کو ہونے والی مسلسل بارش کا پانی مجال ہے کسی شاہراہ پر جمع ہوا ہو۔تائپے شہر کی ایک خاص بات جو لکھنا ضروری۔بارش کے دوران ہر ہوٹل، دکان، بازار،شاپنگ مال، پلازوں کے باہر چھتریوں کا پڑا ہونا تھا۔اسے کوئی بھی مفت میں استعمال کرکے چاہے تو اپنی منزل مقصود پر رکھ دے یا گھوم پھر کر واپس اپنے ہوٹل کے باہر رکھ دے۔ سڑک پر دھواں، دھول، مٹی، ہارن کا نام ونشان نہ تھا۔ ٹریفک کا اعلیٰ نظام۔انڈر گراؤنڈ فراٹے بھرتی میٹرو ٹرین کے کیا کہنے۔ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں میں مسافر کو کھڑا ہوکر سفر کی اجازت نہ تھی۔پیدل چلنے والے کا حق سب سے پہلے۔سگریٹ پینے کے لئے جگہ مخصوص تھی۔صفائی کا زبردست انتظام۔ کوڑا و کرکٹ، بدبو، مکھیاں، مچھر، آوارہ کتے، بلیاں، گدھے، کم ازکم مجھے تو نظر نہیں آئے۔ہاں حلال کھانے کا مسئلہ تھا۔ہم نے مکڈونلڈ کے مچھلی والے برگر پر اکتفا کیا۔ خدا خدا کرکے رات کو ریستوران پر کھانا کھانے گئے جہاں پاکستانی ہوٹل مالک نے ہماری خوب آؤ بھگت کی۔اللہ کا شکر ہے۔تائیوان کی خوبصورت صاف ستھری جامع مسجد میں جمعتہ المبارک کی نماز ادا کرنے موقع ملا۔ وضو خانے میں بازو صاف کرنے کے لئے بڑا ٹشو پیپر اور پاؤں کا پانی خشک کرنے والے چھوٹے تولیے بھلا کون فراموش کر سکتا ہے۔

ایک دن کیا ہوا ہم بازار میں راستہ بھول گئے۔کمال حیرت نوجوان تائیوانی لڑکے نے ناصرف ہمیں راستہ بتایا بلکہ کافی دور تک ہمیں چھوڑنے آیا۔ہمارے گائیڈ کے مطابق یہاں کے باشندے ملنسار، ایک دوسرے کا خیال رکھنے والے شریف النفس انسان۔یہاں جاہل،ان پڑھ، ضدی لوگ نہیں بستے۔ چھوٹی چھوٹی بات پر گالم گلوچ، لڑائی جھگڑا، قتل و غارت، جھوٹ، دھوکہ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی یہاں کے لوگوں کی ڈکشنری میں شامل نہیں۔ہر چیز خالص، کھانے پینے کی اشیا کی کوالٹی لاجواب۔ ہر شخص اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔ اپنی صحت و تعلیم کا خیال رکھنا ان کا فرض اولین ہے۔ یہ باتیں سن اور دیکھ کر دل تو کرتا تھا تائیوان کا ہو کر رہ جاؤں اس لئے بھی کہ وہ بھلے مانس لوگ دوسروں کے لئے جیتے ہیں۔جبھی تو آج وہ کورونا سے سرخرو ہو کر نکلے ہیں۔ایک ہم ہیں۔ابھی تک اپنی شغل اعظم قوم اس شش و پنج میں مبتلا۔ کورونا کس بلا کا نام۔کورونا ہے بھی سہی یا سنی سنائی باتیں۔ اپنی فارغ البال قوم کا پسندیدہ مشغلہ تماش بینی۔

مجال ہے کورونا کو سنجیدہ جانتے کوئی چھوٹا بڑا ماسک لگا لے۔سماجی فاصلہ برقرار رکھتے مجمع نہ لگائے اور صابن سے ہاتھ دھونے پر عمل پیرا ہو۔ آج کل اگر کسی کو بخار، جسم درد، نزلہ، زکام ہو بھی رہا ہے تو وہ یہ کہتے نہیں تھکتا، او جی کچھ نہیں ہے۔ٹیسٹ تو بالکل کرانے کی ضرورت نہیں۔جو لوگ شوگر،بلڈ پریشر دل گردوں کے مریض اس خطرناک وبا میں کوئی فکر والی بات نہیں۔خدانخواستہ کسی کو کورونا چمٹ جائے۔اس کو حقارت سے دیکھنا۔لوگوں کا یہ کہنا۔او جی فلاں کو کورونا ہو گیا ہے۔لوگوں کا محبوب ترین مشغلہ۔ایک اور بات جو مشاہدے میں آئی،جن کو کورونا ہو گیا۔ان کا علاج کرانے میں حیل وحجت سے کام لینا۔گھر پر بغیر دوا پڑے رہنا۔کورونا کی پیچیدگی کا باعث بن کر بہت سے لوگوں کو آئی سی یو بھیج رہا۔

ہماری قوم کا یہ غیر سنجیدہ رویہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ المناک بات یہ لوگ کورونا کو ڈاکٹرز کا ڈھکوسلا اور پیسہ کمانے کا نیا ذریعہ قرار دے رہے۔میری ان احباب سے درخواست ہے۔ کوئی جاکر حال تو پوچھے شہید پروفیسرز، ڈاکٹرز، طبی عملے اور ان تمام جانے والوں پاکستانیوں کے گھر والوں سے کہ اپنوں کے بچھڑنے کا غم کیا ہوتا ہے۔کوئی تو جاکر بیوہ ہونے والی عورت، ماں، بہن، یتیم بچے، بچیوں سے ہی مل آئے جو اپنے شوہر، ابا، بھائی کا روزانہ انتظار کرتے ہیں۔

خدارا! دسمبر، جنوری موت کے مہینے۔آپ کی تھوڑی سی بے احتیاطی آپ کو سب سے جدا کرکے موت کی وادی میں دھکیل دے گی۔

مزید :

رائے -کالم -