پاکستان کے خلاف بھارتی ہائبرڈ وار

پاکستان کے خلاف بھارتی ہائبرڈ وار
پاکستان کے خلاف بھارتی ہائبرڈ وار

  

 بھارت کی جانب سے انڈین کرونیکلز کے نام سے شائع دستاویز نے بے نقاب کردیا ہے کہ بھارت پاکستان کے تشخص کو متاثر کرنے کے لیے کیا کچھ کررہا تھا۔بھارت کا مقصد  پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے منسلک 10کے لگ بھگ جعلی این جی اوزکو استعمال  اور ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا رہا۔

کیا اب ہندوستان اس بات سے بھی انکاری ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف ایک ہائبرڈ وار میں ملوث ہے اور پاکستان کئی سال سے اس کا موثر طریقے سے مقابلہ کررہا ہے۔ 'یورپی یونین ڈس انفو' لیب کی تحقیق کے بعد جو حقائق سامنے آئے ہیں، وہ یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ پچھلے 15برسوں سے آن لائن اور آف لائن ہندوستان پاکستان کے تشخص  کو متاثر،اپنی اچھائیوں اور سوچ کو جھوٹا سچا کرنے کے لیے کیا کر رہا تھا اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر متاثر کرنے کے لیے جو  ان کا کردار تھا وہ بھی آپ سامنے ہے۔بھارت کی طرف سے یہ جعلی حکمت عملی اپنے اسٹرٹیجک مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے کی جا رہی تھی۔ 

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں غیررسمی پارلیمانی گروپس ترتیب دیے گئے۔ مثلا ساتھ ایشیا پیس فورم، فرینڈز آف گلگت بلتستان اور جب ہم 14نومبر پریس کانفرنس میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت دے رہے تھے تو میں نے کہا تھا کہ یہ الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد یہ وہاں قومیت کو ہوا دینے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ آج اس جعلی پارلیمانی گروپ سے ظاہر ہوا کہ یہ کیا کررہے ہیں۔انہوں نے پریس کانفرنس میں بلوچستان کا بھی حوالہ دیا تھا کہ کس طرح خاص طور پر سی پیک کا منصوبہ آگے بڑھناشروع ہوا۔ بلوچستان میں بالخصوص دہشت گرد سرگرمیاں بڑھتی چلی گئی۔ فرینڈز آف بلوچستان ایک جعلی آرگنائزیشن اور گروپ بنایا گیا ہے تاکہ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کا پرچار کیا جا سکے۔ یہ جعلی نیوز آوٹ لیٹس نہ صرف بھارت نے بنائے بلکہ بھارت انہیں فنڈ بھی کرتا ہے جس کا مقصد یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے نظام کو غلط معلومات دینا اور ان غلط معلومات کے ذریعے سے اپنے غلط مقاصد حاصل کرنا ہے۔ 

مشیر قومی سلامتی امور معید یوسف نے بھی بھارتی ہائبرڈ جارحیت پر کہا کہ ہندوستان پاکستان کے خلاف ایک ہائبرڈ وار میں ملوث ہے اور پاکستان کئی سالوں سے اس کا موثر طریقے سے مقابلہ کررہا ہے لیکن اب کیونکہ حقائق سامنے آئے ہیں توسیاسی و عسکری طورپر پاکستان کے لوگوں اور عالی برادری کے ساتھ شیئر کیا جائے۔میڈیامیں مرے ہوئے افراد کا نام بھی پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا جبکہ یورپی پارلیمنٹ کے لیٹر ہیڈ کو استعمال کیا گیا۔ سری واسترا گروپ نے جھوٹ اور پروپیگنڈا کے اس جال کی قیادت کی۔ اس حوالے سے عمل میں بین الاقوامی قوانین توڑے گئے۔ 

یہ بات ذہن میں رہے کہ اندرونی سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کے حالات مکمل ٹھیک ہو چکے ہیں۔ پاکستان دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے گا۔ اگر دنیا کو بھارت کے حوالے سے ابہام تھا تو ڈس انفولیب کی رپورٹ کے بعد وہ ابہام دور ہو گیا ہے۔ پاکستان، افغانستان میں امن کیلئے سہولت کاری کر رہا ہے۔ بھارت ایسا تاثر دینا چاہتا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاری نہ آئے اور پاکستان میں ترقی نہ ہو سکے پاکستان معاشی تحفظ کے فروغ پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔

بھارت کی پاکستان  میں مداخلت مسلمہ حقیقت ہے جس کے پاکستان نے ناقابل تردید ثبوت ڈوزئیرز کی صورت میں دنیا کے سامنے رکھے۔ بھارت کا رویہ ہمیشہ سے چور مچائے شور کا رہا ہے۔ ایک لمحے کے لیے پاکستان کے دنیا کے سامنے رکھے ڈوزئیرز کو الگ رکھ کر بات کر لیں تو بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں جن میں وہ مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی جدوجہد کا بدلہ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں چکانے کے اعتراضات کر چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کا پاکستان سے پکڑے جانا پاکستان میں بھارت کی طرف سے دہشتگردی کرانے سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -