کیمو فلاج 

کیمو فلاج 
کیمو فلاج 

  

کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ قوم کو مطالعہ پاکستان کے نام پر مغالطہ پاکستان پڑھنے اور سننے پر مجبور کیا جارہا ہے، حیرت اس وقت ہوتی ہے جب اچھی بھلی ساکھ کے حامل دانشورایسے تبصرے کرتے ہیں  جن کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، کسی دباو کے باعث یا مصلحت کے تحت بات گھما پھرا کر کی جائے تو شاید اتنا دھچکا نہ لگے لیکن اگر کسی طاقتور کو رعایت دینے کی خاطر بات کی بنیاد ہی بدل دی جائے تو یہ جھوٹ اور گمراہی پھیلانے کے سوا کچھ نہیں، اگر کوئی یہ کہے کہ مقتدر حلقے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانا چاہتے ہیں، مگر وزیراعظم عمران خان نہیں مان رہے۔ تو کیا اس دعوے کو سچ مانا جا سکتا ہے، پاکستان میں اختیارات اور طاقت کا مرکز صرف ایک ہے، اگر وہ فیصلہ کرلیں کہ وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کو ہٹانا ہے تو کون رکاوٹ بن سکتا ہے، اگر اس بات کو سچ مان بھی لیا جائے کہ وزیراعظم نہیں مان رہے تو کیا ان کے سرپرست اتنے ہی بے بس ہیں،ایسے کسی عہدیدار کو ہٹانے کے ایک سے زیادہ راستے ہیں،تاریخی ریکارڈ اور مائنڈ سیٹ کا جائزہ لیا جائے تو یہ جاننا بہت آسان ہے کہ اگر عثمان بزدار واقعی عمران خان کی دریافت ہیں تو اس پر سب سے زیادہ اطمینان مقتدر حلقوں کو ہی ہوگا بلکہ ہے، عام لوگوں یا میڈیا کے حلقوں کو یہ تاثر دینا کہ یہ اس معاملے میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں اختلاف ہے، محض کیمو فلاج ہے، تاکہ عوام یہ سمجھیں کہ ایک پیج ہر معاملے پر ایک نہیں، اس طرح حکومت کی ناکامیوں کا بوجھ اٹھانے میں شراکت داری سے  بھی بچا جاسکتا ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں آٹا، چینی، پٹرولیم، ادویات، پٹرولیم مصنوعات سمیت کسی بھی سکینڈل پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، آخر یہ سب کس کے شراکت دار ہیں کہ زبانی کلامی احتساب کا نعرہ لگانے کے بعد ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا، آج ہی کی رپورٹ ہے کہ چند ماہ میں صرف سیمنٹ کارٹل نے چالیس ارب روپے کا ناجائز منافع کمایا،یہ بھی ہر طرح کی پوچھ گچھ اور جواب طلبی سے ماورا رہیں گے، مختلف مافیاز یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ وہ اپنا مال قومی مفاد میں بھی خرچ کرتے ہیں سو انہیں کسی کا ڈر نہیں،ان حالات میں اگر کوئی یہ پوچھے کہ معاونین خصوصی، مشیروں، وزیروں سے ملک کو جو نقصان پہنچ رہا ہے یا عوام کو جو مشکلات پیش آرہی ہیں، کیا ان کا کسی کو احساس نہیں تو ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں بالکل نہیں، حکمران اشرافیہ کے اپنے مفادات کا تحفظ ہوتا رہے ان کی فرمائشیں پوری ہونے کے اسباب برقرار رہیں، ان کے کسی کام میں رکاوٹ نہ آئے تو باقی کاروبارِ مملکت جس طرح چاہے چلتا رہے،قومی مفاد کا نعرہ بھی ایک کیمو فلاج ہے، ان دو ڈھائی سالوں میں دیکھ لیں ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے،ہماری خارجہ پالیسی کا کیا حال ہوا، مسئلہ کشمیر پر کیا ہوا، ادارہ جاتی صورتِ حال کیا ہے، سیاسی محاذ آرائی کس نہج پر آ پہنچی ہے، پاکستان میں عالمی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ایک اٹل سچائی ہے، اور اس کا اثر کتنا ہے یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، زیادہ اہم بات یہ ہے ہمارے ہاں عالمی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار کون ہیں،بہر حال یہ تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ پاکستان کے موجودہ حکومتی سیٹ اپ کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے، ایسے میں یہ کہنا کہ اسٹیبلشمنٹ تو اپوزیشن سے مذاکرات چاہتی، مگر حکومت نہیں مان رہی ، کوئی وزن نہیں رکھتا،

ایسی پرانی باتیں یاد کرنا کہ اسٹیبلشمنٹ تو شہباز شریف کو آگے لانا چاہتی تھی مگر نواز شریف آڑے آگئے، مضحکہ خیز ہے، الیکشن 2018ء سے بہت پہلے جب شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو ان کے سٹار بیورو کریٹ احد چیمہ کو نیب نے دفتر سے گرفتار کرلیا وہ آج تک جیل میں ہے،ان دنوں بظاہر حکومت مخالف سمجھے جانے والے بعض صحافی تاثر دے رہے ہیں کہ کپتان کسی کی نہیں سنتا اور سیاست میں وہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ آج میکاولی زندہ ہوتا تو گْرو مان لیتا، غالب گمان ہے کہ یہ بھی کیمو فلاج ہے تاکہ اسٹیبلشمنٹ کے معصوم اور بے اختیار ہونے کے ساتھ کپتان کے ساتھ اٹ کھڑکے کا تاثر دیا جاسکے، ان محترم صحافیوں سے پوچھا جانا چاہیے کہ“آخر یہ سب کیسے کر لیتے ہو یار“؟ پیج ایک، گیم ایک،منزل ایک، مفادات ایک، اگر کسی کو اس حوالے سے کوئی شک ہے تو پی ڈی ایم کے لاہور والے حالیہ جلسے سے اگلے روز مولانا فضل الرحمن کی گفتگو یاد کرلے، جلسے کے حوالے سے منفی میڈیا کوریج کا الزام کس پر لگایا گیا، ویسے یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں سے مقتدر حلقوں کی جانب سے ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ پہلے کی طرح غیر مشروط طور پر حکومت کے ہر اقدام کی حمایت نہیں کر رہے، اس سے پہلے یہ بھی سننے میں آیا تھا کہ ایک اہم اجلاس میں کچھ شرکا کی رائے تھی کہ حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث تیزی سے پھیلتی عوامی بے چینی اداروں کو بھی ہدف تنقید بنانے کا سبب بن رہی ہے، سو بہتر ہوگا کچھ فاصلہ کرلیا جائے تاکہ حکمران اپنی غلط پالیسوں کا بوجھ خود اٹھائیں لیکن اس کے بعدہونے والی سرگرمیوں کے بعد اس بات کو تسلیم کرنا آسان نہیں،

اگر یہ کوئی سوچی سمجھی کوشش ہے تو زیادہ کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی، اپوزیشن جماعتوں کی پہلے مرحلے میں یہی کوشش تھی کہ صرف حکومت پر تنقید کی جائے، مقتدر حلقوں کے بارے میں کوئی مخالفانہ اشارہ نہ کیا جائے، یہ پالیسی اختیار کرنے والے بیک وقت سو جوتے، سو پیاز کھاتے رہے، سو پی ڈی ایم کی صورت میں نئے بیانیے کو فروغ دیا گیا، حکومت سے زیادہ اسے لانے والوں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے، فوری کامیابی ملے گی یا نہیں، اس سے قطع نظر اتنا تو ہوا کہ اپوزیشن اتحاد ڈھنگ سے سیاست کرتا نظر آیا، لیڈروں کی جانب سے منت ترلے کرنے کی بجائے جارحانہ رویہ نے سیاسی کارکنوں میں بھی خوب جوش و خروش پیدا کردیا، پی ڈی ایم نے اسی موقف پر قائم رہ کر اتحاد برقرار رکھا تو کوئی وجہ نہیں منزل کی جانب نہ بڑھ سکے۔

مزید :

رائے -کالم -