کسبِ حلال… معاشرتی فریضہ!

 کسبِ حلال… معاشرتی فریضہ!

  

شریعتِ اسلامی اس حوالے سے کیا کہتی ہے؟

مولانا محمد الیاس گھمن 

اللہ تعالیٰ ہمارے”رازق“ ہیں یعنی تمام مخلوقات کوساری ضروریاتِ زندگی عطا فرمانے والے ہیں۔ اپنے محض فضل و احسان کی وجہ سے اس رزّاق ذات نے تمام مخلوقات کی روزی کا ذمہ خود لے لیا ہے اور ہمیں رزقِ حلال کمانے کا حکم دیا ہے۔ اُس مسبب الاسباب ذات نے رزقِ حلال کو اِس دنیا(دارالاسباب)میں تحت الاسباب رکھا ہے لیکن ان اسباب کو اختیار کرنے میں محض عقل کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا بلکہ شریعت کی تعلیمات کا مکلف بنا دیا ہے کیونکہ محض عقل حلال و حرام میں فرق اور تمیز نہیں کر سکتی جب تک کہ شریعت کی تعلیمات کو اس کے ساتھ دل و جان سے تسلیم نہ کر لیا جائے۔ 

حصولِ رزق کا معتدل اسلامی نظریہ:

اسلام وہ اعتدال والا دین ہے جس میں نہ افراط کی گنجائش ہے اور نہ ہی تفریط کی بلکہ اس کے تمام ارکان میں اعتدال ہی اعتدال ہے۔ نہ تو اسلام رہبانیت کا درس دیتا کہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہو اور نہ ہی نکمے پن اور بھکاری پن کو کسی صورت تسلیم کرتا ہے بلکہ کسبِ حلال کی نہ صرف ترغیب بلکہ حکم دیتا ہے۔ اسلام میں واضح طور پر اس کے تمام جائز ذرائع کی حوصلہ افزائی اور اس سے متعلق تفصیلی احکامات موجود ہیں۔ 

زبانِ فطرت کی صدا:

جس جہان میں ہم آباد ہیں اس جہان میں انسان کے علاوہ دیگر کئی جاندار وغیر جاندار مخلوقات ہیں: زمین، آسمان، سورج، چاند، ستارے،حجر و شجر، آگ،پانی، مٹی۔ بری /بحری اور فضائی جانور اور چرند و پرندوغیرہ سب کے سب خدا تعالیٰ کے حکم کے پابند ہو کراپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں تو اشرف المخلوقات انسان کیوں عضو معطل کی طرح نکما اور بے کار بیٹھا رہے؟

احسانِ خداوندی:

انسان کے سمجھنے کے لیے ارض و سما کا فطری نظام بھی کافی تھا لیکن خدائے بزرگ و برتر کا احسان دیکھیے کہ ان سب کے باوجود حصولِ رزق کے لیے جائز ذرائع اپنانے کا واضح طور پر انسان کو حکم دیا: وَ ابتَغُوا مِن فَضلِ اللہِ۔(سورۃ الجمعۃ، رقم الآیۃ:10)

ترجمہ: اور اللہ کے فضل(رزق/روزی)کو کمانے کے لیے شرعاً جائز ذرائع استعمال کرو۔ 

حصولِ رزق کے جائز ذرائع:

جیساکہ پہلے عرض کیا ہے کہ اسلام نے حصول رزق کے معاملے میں انسان کو عقل کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا بلکہ اس کو شریعت کی تعلیمات پر عمل کرنے کا پابند کیا ہے اور شریعت میں حصول رزق کے ذرائع میں ایسی وسعت رکھی ہے کہ ہر طبقے کا انسان اس میں شامل نظر آتا ہے۔اجمالی طور پر ہم اسے چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:1:تجارت2:صنعت3:زراعت 4:مزدوری

تجارت اور تاجر:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچائی اور ایمانداری کے ساتھ کاروبار کرنے والا تاجر(روز محشر)نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔ (جامع الترمذی، رقم الحدیث:1209)

 ذخیرہ اندوز تاجر ملعون ہے:

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جائز طریقے سے نفع کمانے والے تاجر کو(برکت والا)رزق ملتا ہے جبکہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا اللہ کی رحمت سے خود کو دور کر نے والا(لعنتی)ہے۔ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث: 2153)

صنعت اور صنعت کار:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ صنعت والے(مومن)کو پسند فرماتے ہیں۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث:13200)

خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل:

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین اور خلیفہ منتخب کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میری قوم یہ بات جانتی ہے کہ میرا تجارتی کاروبار ہے جو میرے اہل وعیال کی گزران کے لیے کافی ہے لیکن اب میں مسلمانوں کے انتظامی معاملات میں مشغول ہو رہا ہوں (اس وجہ سے خود کما نہیں سکتا) اس لیے میرے گھر والے بیت المال سے کھائیں گے اور میں مسلمانوں کا مالِ تجارت بڑھاتا رہوں گا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث2070)

زراعت اور کاشت کار:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان شجر کاری یا کھیتی باڑی کرتا ہے۔اس سے پرندے، انسان اور جانور اپنی غذا حاصل کرتے ہیں تو یہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 2320)

فائدہ: اسلام کے معاشی نظام میں زراعت کو جن اصولوں کی روشنی میں ذکر کیا گیا ہے ان میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زراعت سے صرف کاشت کار ہی فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ عشر کی وجہ سے غریبوں کو بھی اس فائدہ پہنچتا ہے۔ 

مزدوری اور مزدور:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے مالی امداد کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مالی تعاون کرنے کے بجائے انہی سے سوال کیا کہ آپ کے گھر میں کچھ سامان وغیرہ ہے؟ انصاری نے عرض کی: جی ہاں۔ ایک ٹاٹ ہے جس کے آدھے حصے کو میں نیچے بچھاتا ہوں اور دوسرے آدھے حصے کو اوپر لیتا ہوں۔ اس کے علاوہ ایک پیالہ ہے جس میں پانی پیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ!وہ گھر گئے اور دونوں چیزیں لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کو اپنے ہاتھ مبارک میں لیا اور حاضرینِ مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: یہ دونوں چیزیں خریدنے کے لیے کون تیار ہے؟ ایک شخص نے عرض کی: میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں خریدنے کو تیار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی اس سے زیادہ قیمت میں خریدنے والا ہو تو بتائے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو تین بار دہرائی۔ایک دوسرے شخص کہنے لگے: میں یہ چیزیں دو درہم میں خرید کرتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو درہم پیش کیے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں چیزیں دو درہم کے عوض اس کو بیچ دیں اور وہ دو درہم اس انصاری کو دیتے ہوئے فرمایا: آپ ایک درہم سے اپنے اہل خانہ کے لیے کھانے پینے کا سامان خرید لو اور دوسرے درہم سے بازار سے ایک کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاؤ۔ وہ انصاری صحابی گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں ایک درہم کا سودا سلف لے کر گھر دیا اور دوسرے درہم کی کلہاڑی خرید کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے کلہاڑی میں لکڑی کا دستہ ڈالا اور ان سے فرمایا: یہ کلہاڑی لو اور جنگل کی طرف چلے جاؤ، وہاں سے لکڑیاں کاٹو اور انہیں بیچو!مجھے پندرہ دن تک یہاں نظر نہ آؤ۔ وہ انصاری صحابی چلے گئے اور لکڑیاں کاٹ کاٹ کر بیچتے رہے جب ان کے پاس دس درہم جمع ہو گئے تو انہوں نے اپنے گھر والوں کے لیے کپڑے اور کھانے پینے کی اشیاء خریدیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ اپنے ہاتھوں سے محنت مزدوری کر کے کمانا دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور قیامت کے دن چہرے پر اس بھیک کا داغ ہونے سے بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث:1398)

ہاتھ کی کمائی بہترین روزی:

حضرت مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اولادِ آدم میں کوئی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھا سکتا جو اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتا ہو۔ اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کمایا کرتے تھے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث2072)

مزدور کی فضیلت:

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوعُبید کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لکڑیوں کا گھٹا اپنی کمر پر لاد کر لائے (محنت والا کام کرے)یہ شخص اُس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ جس کے سامنے اس نے ہاتھ پھیلائے ہیں چاہے وہ اسے کچھ دے دے یا نہ دے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 2074)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرزِعمل:

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اپنے کام خود کیا کرتے تھے اور زیادہ محنت و مشقت کی وجہ سے ان کے جسم سے پسینہ بہتا جس کی وجہ سے ان سے کہا گیا کہ اگر تم غسل کر لیا کرو تو بہتر ہوگا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث2070)

اللہ تعالیٰ ہماری حرام لقمے سے حفاظت فرمائے، وسیع رزق حلال نصیب فرمائیاور اپنے در کا محتاج بنا کر غیروں سے غنی فرما دے۔آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم

مزید :

ایڈیشن 1 -