سانحہ ء مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کا انجام! (3)

سانحہ ء مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کا انجام! (3)
سانحہ ء مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کا انجام! (3)

  

جب 16دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہوا تو اس وقت مسٹر بھٹو پاکستان کی مسندِ اقتدار پر فائز نہیں تھے۔ جنرل یحییٰ خان صدر پاکستان بھی تھے اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر (CMLA) بھی۔ اس لئے میں اگر مسٹر بھٹو کو بالواسطہ سانحہء مشرقی پاکستان کا ذمہ دار گردانتا ہوں تو جنرل یحییٰ براہ راست اس سانحے کے ذمہ دار تھے…… اس حوالے سے وہ اس شکست کے اصل ذمہ دار بھی تھے۔

اگر وہ (یحییٰ خان) بھٹو کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے تو قصور بھٹو کا نہیں، یحییٰ کا تھا…… وہ کیوں کھیلتے رہے؟…… ظاہر ہے جنرل کے ذاتی مفادات تھے۔ انہوں نے کیوں آئینی راستہ اختیار نہ کیا؟ جب وہ اقتدارسے الگ کر دیئے گئے تو 20دسمبر 1971ء کی شام کو بھٹو نے صدرِ پاکستان کا حلف اٹھایا اور پی ٹی وی نے ان کی تقریر اسی شام براہِ راست نشر کی۔ اور جب یحییٰ خان سے اقتدار چھن گیا تو اُسی بھٹو نے ان کو قید رکھا جو ان کو شکار کے لئے اپنے ساتھ لاڑکانہ لے کر جاتے تھے۔ یحییٰ کو 1979ء تک نظر بند رکھا گیا۔انہوں نے 10اگست 1980ء کو انتقال کیا اور راولپنڈی میں دفن کئے گئے۔

یحییٰ خان کی کچن کابینہ میں جنرل حمید وغیرہ بھی شامل تھے اور ان کا حشر بھی وہی ہوا جو یحییٰ خان کا ہوا۔ 1971ء کی اس جنگ میں لیفٹیننٹ جنرل گل حسن، پاک آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف (CGS) تھے۔ آرمی میں آرمی چیف کے بعد CGS کو اہم اور نمایاں ترین مقام حاصل ہوتا ہے۔ بھٹو نے ان کو اپنا آرمی چیف بنایا۔ تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھیں تو جنرل گل حسن اور ائر مارشل اے آر خان مسٹر بھٹو کو دسمبر 1971ء میں اقتدار میں لانے کے اصل کردار تھے۔ جنرل گل،20دسمبر 1971ء سے 3مارچ 1972ء تک آرمی چیف رہے۔ اس طرح صرف اڑھائی ماہ بعد بھٹو نے ان کو اس عہدے سے سبکدوش کر دیا۔ کہانی یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ پستول کی نوک پر اس عہدے سے برطرف کئے گئے اور مصطفی کھر نے ان کو لاہور لا کر ان سے زبردستی استعفیٰ دلوایا۔ کہانی بیان کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ جب جنرل گل راولپنڈی سے لاہور آ رہے تھے تو مسٹر کھر کی کار کو وزیرآباد کے پھاٹک پر رکنا پڑا۔ اسی اثناء میں آرمی کا ایک ٹرک کار کے پیچھے آکر پارک ہوا جس میں درجن بھر سولجرز سوار تھے۔ یہ منظر دیکھ کر مسٹر کھر کو گمان گزرا کہ ان کا منصوبہ فیل ہو گیا ہے لیکن ’خیریت‘ گزری وہ ٹرک معمول کی پیٹرولنگ پر تھا۔ اگر جنرل ہمت کرتے اور کار سے باہر چھلانگ لگا کر فوجیوں کو آواز دیتے اور اپنا تعارف کرواتے تو تاریخ آج شاید مختلف ہوتی…… لیکن ’عدلِ ایزدی‘ یہی تھا کہ جس کسی نے پاکستان کے ساتھ غداری کی اس کا انجام بخیر نہیں ہوا۔ تقریباً یہی حال چیف آف ائر سٹاف کا بھی ہوا۔ائر مارشل رحیم کا انجام بھی وہی ہوا جو جنرل گل حسن کا ہوا۔

اب ہم سقوطِ ڈھاکہ کے تیسرے بڑے کردار کا ذکر کرتے ہیں …… اس کا نام شیخ مجیب الرحمن تھا…… 1970ء میں جو عام انتخابات ہوئے تھے اس میں شیخ مجیب کو قومی اسمبلی میں اکثریت ملی تھی۔ لیکن اس سے پہلے وہ اگر تلہ سازش کیس میں حوالہ ء زنداں کئے جا چکے تھے۔ جب بنگلہ دیش وجود میں آیا تو مجیب مغربی پاکستان میں قید تھا۔بھٹو نے اس کو رہا کیا اور بنگلہ دیش بھیج دیا۔ اس کو بنگلہ دیش کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ وہاں ڈھاکہ جاکر وہ پہلے 1971ء میں وزیراعظم بنا اور پھر 1975ء میں بنگلہ دیش کا صدر بنایا گیا (یا بن گیا)۔

لیکن اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو اندرا گاندھی اور ذوالفقار بھٹو کے ساتھ ہوا۔ 15اگست 1975ء کو بنگلہ دیش آرمی نے ایک خونیں انقلاب (Coup d, etate) کے ذریعے مجیب کے سارے خاندان کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ ان کی ایک بیٹی زندہ بچی کیونکہ وہ 15اگست 1975ء کو ملک سے باہر تھی۔ اس کا نام حسینہ واجد ہے اور وہ آج بنگلہ دیش کی وزیراعظم ہے۔ شیخ حسینہ واجد انڈیا کی پروردہ ہے۔ایک دن اس کا حشر بھی وہی ہوگا جو اس کے خاندان کا ہوا تھا……

اب آتے ہیں اس بنگالی کی طرف جس کا نام میجر ضیاء الرحمن تھا۔ اس نے 1965ء کی جنگ لاہور محاذ پر ایک ایسٹ بنگال رجمنٹ کے سیکنڈ اِن کمانڈ کی حیثیت میں لڑی تھی۔ 1971ء کی جنگ میں وہ میجر تھا۔ باغی ہو کر بنگلہ دیش چلا گیا۔ انڈیا نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس نے مشرقی پاکستان میں ’مکتی باہنی‘ کو منظم کیا۔ اس کے کمانڈروں کا انتخاب کیا اور ان کو ٹریننگ دی۔ گولہ بارود، ہتھیار اور ہر طرح کی انصرامی مدد اسے انڈیا نے فراہم کی۔ اس نے درجنوں معصوم پاکستانی اور بہاری فوجیوں اور سویلین کو قتل کیا۔ اس کے بعد وہ بنگلہ دیش کا صدر بنا۔ لیکن 1981ء میں اس کے اپنے ٹروپس نے چٹاگانگ میں اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ وہی شہر تھا جس میں اس نے پاکستان آرمی کے بہت سے ٹروپس کو تہہ تیغ کیا تھا۔

25مارچ 1971ء کو جب مشرقی پاکستان میں پاک آرمی نے آرمی ایکشن لانچ کیا تھا تو بعض بنگالی سیاستدان، فرار ہو کر بھارت چلے گئے تھے۔ ان میں نمایاں نام تاج الدین احمد، سید منظر الاسلام، منصور علی خان اور قمر الزمان تھے۔ ان چار لوگوں نے وہاں جا کر کلکتہ کے نزدیک ایک قصبے میں بنگلہ دیشی حکومت قام کر لی اور اس کا نام ’مجیب نگر‘ رکھا۔جب بنگلہ دیش قائم ہوا تو اس جلا وطن حکومت میں یہ لوگ نمایاں عہدوں پر فائز تھے۔ لیکن جب مجیب الرحمن قتل ہوا تو مجیب نگر کے ان بھگوڑوں اور باغیوں کو بھی قید کر لیا گیا اور ڈھاکہ بھیج دیا گیا۔ نومبر 1975ء میں ڈھاکہ کی سنٹرل جیل میں گولی چلی جس کو ”سپاہی بغاوت“ کا نام دیا  گیا۔ اس بغاوت کے دوران یہ تمام باغی بھی جہنم رسید کر دیئے گئے۔ تاج الدین شدید زخمی ہوا جبکہ باقی تین فی الفور مارے گئے۔ تاج الدین نے بعد میں سسک سسک کر جان دی۔

ایک اور بنگالی فوجی آفیسر کا نام میجر عبدالمنظور تھا۔ وہ 1971ء میں مغربی پاکستان میں ایک انفنٹری بریگیڈ میں بریگیڈ میجر (BM)تھا۔ وہ فرار ہو کر سرحد پار کرکے انڈیا چلا گیا اور پھر مکتی باہنی کے ساتھ مل گیا۔ (مکتی باہنی کا لغوی معنی ”نجات دلانے والی فوج“ ہے) چونکہ وہ بریگیڈ میجر تھا اس لئے اس کے پاس اپنے بریگیڈ اور ڈویژن کے آپریشنل پلان بھی تھے۔ اس نے بہت سے پاکستانی سولجر کو مشرقی پاکستان میں جا کر شہید کیا اور کئی معصوم سویلین بہاریوں کو بھی موت کے گھاٹ اتارا۔ بعد میں وہ بنگلہ دیش آرمی میں میجر جنرل کے رینک تک پہنچا۔ بڑا جاہ پرست (Ambitious) انسان تھا وہ اپنے صدر، جنرل ضیاء الرحمن کا تختہ الٹنا چاہتا تھا۔ لیکن مئی 1981ء میں مارا گیا اور کئی روز تک اس کی لاش کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر پڑی گلتی سڑتی رہی۔

باغی فوجیوں کی بات آئی ہے تو انڈین آرمی کے ایک میجر جنرل شاہ بیگ سنگھ کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔ وہ بھی 1971ء کی اس جنگ میں مکتی باہنی کو ٹریننگ دینے کا ذمہ دار تھا۔ اس وقت وہ میجر تھا۔ وہ بہت سے مغربی پاکستانی سولجرز اور بے گناہ بہاریوں کو قتل کرنے کا ذمہ دار تھا۔وہ ریٹائرمنٹ کے بعد جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کے ساتھ جا ملا اور گولڈن ٹمپل پر انڈین آرمی کے قبضے کا ماسٹر مائنڈ بھی تھا۔وہ 1984ء میں اپنے ہی سکھ سپاہیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ بظاہر وہ سکھوں کے مقامِ مقدس (گولڈن ٹمپل) کی توہین کے جرم میں قتل ہوا لیکن اس کا اصل جرم پاک فوج کے ٹروپس کو قتل کرنا اور معصوم بہاریوں کو موت کے گھاٹ اتارنا تھا۔

قارئینِ کرام! میرا خیال تھا کہ اس موضوع کو ایک کالم میں سمیٹوں لیکن یہ تین کالموں تک پھیل گیا۔ تین بڑے کرداروں (اندرا، بھٹو اور مجیب) کے ساتھ جن ذیلی کرداروں کا تذکرہ کیا گیا ان کے انجام پر نگاہ جاتی ہے تو خیال کرتا ہوں کہ 1971ء میں پاکستان کو دونیم کرنے والوں کا جو حشر ہوا وہ ’دونیم‘ سے نکل کر ’صد ہزار نیم‘ تک جا پہنچا…… آج بھی ان جیسے لوگ موجودہ پاکستان کو ضعف پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہیں وہ خواہ ملکی ہوں یا غیر ملکی ان کا انجام وہی ہوگا جو 1971ء کی جنگ میں پاکستان توڑنے والوں کا ہوا۔ یہ لوگ براہ راست اس جرم کے شریک تھے یا بالواسطہ تھے یا سہولت کار تھے لیکن کسی نہ کسی حوالے سے پاکستان کو دولخت کرنے کے ذمہ دار تھے۔

پاکستان کو خدا نے قائم رہنے کے لئے بنایا ہے اور اس کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے والوں کو فنا ہونا ہے۔ ہماری گزشتہ 73سالہ تاریخ کا لبِ لباب یہی نکتہ ہے۔آخر میں دعاگو ہوں:

تو سلامت رہے ہزار برس

ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -