بھارتی متنازع زرعی قوانین کیخلاف احتجاج جاری، کاشتکار کی خودسوزی

بھارتی متنازع زرعی قوانین کیخلاف احتجاج جاری، کاشتکار کی خودسوزی

  

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں متنازع زرعی قوانین کیخلاف کسانوں کا احتجاج چوتھے ہفتے بھی جاری ہے، کاشت کار احتجا ج کے مقام پر خود کشیاں کرنے لگے، بابا گرورام سنگھ نے دہلی میں احتجاج کے مقام پر خود کو گولی مار لی، کسانوں نے سپریم کورٹ کی نام نہاد تجاویز بھی مسترد کردیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت میں کسانوں کے احتجاج میں صورت ِحال سنگین ہو گئی، مودی سرکار کی ہٹ دھرمی سے تنگ آ کر مظاہرے کے دوران کسان بابا گرو رام سنگھ نے احتجاجا خود کو گولی مار لی۔ ہریانہ کے گوردوارے کے 65 سالہ بابا رام سنگھ دلی سونی پت کی سرحد پر احتجاج میں شریک تھے۔ بابا رام نے اپنے آخری پیغام میں لکھا کہ وہ سرکار کی ناانصافی کیخلاف اپنی جان دے رہے ہیں۔متنازع زرعی قوانین کیخلاف احتجاج میں 26 نومبر سے لاکھوں کسان دہلی کی سرحد پر موجود ہیں، مظاہرین نے ٹرالیوں اور خیموں میں پنا ہ لے رکھی ہے۔ اب تک 21 کسان اپنی جان دے چکے ہیں۔ کسانوں نے سپریم کورٹ کی نام نہاد تجاویز بھی مسترد کردی ہیں۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ زرعی اجناس کی تجارت کو بڑی کارپوریشنوں کے ہاتھ میں دینے کا قانون واپس لیا جائے۔

کاشتکار 

مزید :

صفحہ آخر -