پنجاب کابینہ، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اراضی کے حصول کیلئے 5ارب کا قرض دینے کی منظوری 

پنجاب کابینہ، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اراضی کے حصول کیلئے 5ارب کا قرض ...

  

 لاہور(جنرل رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 39واں اجلاس منعقد ہوا،جس میں پنجاب کابینہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ خیر سگالی کے جذبے کااظہار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ زید بن النیہان کو چولستان اوررحیم یار خان میں لیز پر دی گئی سرکاری اراضی میں پرانے نرخوں کے مطابق ہی مزید توسیع دینے کی منظوری دے دی -پنجاب کابینہ کے اس اقدام سے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں مزید بہتری آئے گی- اجلاس میں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اراضی کے حصول کیلئے5ارب روپے کا قرض دینے کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ اتھارٹی کو راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے ماسٹر پلان میں آنے والی سرکاری اراضی بھی دینے کی منظوری دی گئی-اتھارٹی اپنا بزنس پلان اور فنانشل ماڈل پیش کرے گی -ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین شیخ محمد عمران اور اتھارٹی کے چیئرمین راشد عزیز نے کابینہ کو راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے بارے میں بریفنگ دی -پنجاب کابینہ نے صوبے میں پٹرول پمپس لگانے کیلئے این او سیز کے اجراء کے طویل عمل کو آسان بنا دیا اورکابینہ نے پٹرول پمپس لگانے کے لئے این او سیز کے اجراء کی مدت 90روز سے کم کر کے 30روز کرنے کی منظوری دی -پنجاب کابینہ نے نابینا افرادکے لئے 3فیصد خصوصی کوٹے کے تحت نا بینا افراد کو ملازمتوں میں بالائی عمر میں خصوصی رعایت دینے کی منظوری دی-پنجاب کابینہ نے بڑے ہسپتالوں میں چارجز وصول کرنے کی تجویز پھر مستردکر دی-وزیراعلی عثمان بزدار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عام آدمی کو ریلیف دینے آئے ہیں - یوزرچارجز پر فی الحال نظر ثانی نہیں کرسکتے-پنجاب کابینہ نے صوبے میں یکساں نصاب کے نفاذ کی بھی منظوری دے دی-اجلاس میں عدالت عالیہ کے فیصلے کی روشنی میں رول 17-Aکے تحت مستقل بنیادوں پر ملازمتیں دینے کی منظوری دی گئی جبکہ پنجاب کی مختلف میڈیکل یونیورسٹیزکے وائس چانسلرز کے لئے پے پیکیج اورٹرمز اینڈ کنڈیشنز کی منظوری دی گئی-کابینہ نے محکمہ سپیشل ایجوکیشن کی ٹرانسفر پالیسی 2020کی منظوری دی گئی-پالیسی کے تحت اساتذہ اور دیگر عملے کا گھر کے پا س ادارے میں تبادلہ ہو سکے گا-نیشنل ٹورازم کوآرڈینیشن بورڈ/پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے انڈومنٹ فنڈکیلئے پنجاب حکومت کی جانب سے 10کروڑ روپے کی سیڈمنی دینے کی منظوری دی گئی-اجلاس میں دی پنجاب لوکل گورنمنٹس اراضی استعمال کرنے کے پلان(لینڈ یوزپلان) رولز2020کی منظوری بھی دی گئی جبکہ بہاولپور میں 410بستروں پر مشتمل سول ہسپتال کی تعمیر کے حوالے سے ادائیگیوں کا معاملہ کابینہ سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کے سپردکردیا گیا،کابینہ کمیٹی تمام امور کا جائزہ لیکر حتمی سفارشات پیش کرے گی-گوجرانوالہ میں چلڈرن ہسپتال کے قیام کیلئے اراضی دینے کامعاملہ بورڈ آف ریونیو کے سپردکردیا گیا- کابینہ اجلاس میں لاہورڈویلپمنٹ اتھارٹی ٹربیونل میں 2 ممبرز حسن احمد ریاض ایڈووکیٹ اور خالد محمود چودھری کی تقرری کی منظوری دی گئی-پنجاب ریونیو اتھارٹی کے اپیلیٹ ٹربیونل کے جوڈیشل ممبرکے عہدے کیلئے حاضر سروس جج حبیب اللہ عامر کو تعینات کرنے کی منظوری دی گئی-اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایگریکلچر،فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے امور کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی اور متعلقہ محکمے اتھارٹی کے معاملات کا جائزہ لیکر دوبارہ سفارشات پیش کریں گے- کابینہ اجلاس میں یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد ایکٹ 1973کے سیکشن21میں ترمیم اورہائر ایجوکیشن کمیشن پنجاب کے حوالے سے ایجنڈے کو موخرکردیا گیا- اجلاس میں پنجاب انڈسٹریل سٹیٹس ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (پیڈمک)کے چیف ایگزیکٹو آفیسرکی تقرری کامعاملہ بھی موخر کر دیا گیا- وزیراعلیٰ عثمان بزدار اورکابینہ نے نئے وزراء سیدیاوربخاری اورخیال احمد کاسترو کی اجلاس میں شرکت پر ان کا خیر مقدم کیا- صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹریزنے اجلاس میں شرکت کی-

عثمان بزدار

لاہور(جنرل رپورٹر)وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب حکومت سستی بجلی فراہم کرنے کے لئے سرگرم -پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ او ر6 بینکوں کے کنسورشیم کے درمیان 100ارب روپے کی فنانسنگ کا معاہدہ آج ہوگیا - وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار مقامی ہوٹل میں معاہدے کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے -معاہدے کے تحت بینکوں کا کنسورشیم 100ارب روپے کی فنانسنگ فراہم کرے گااور1263میگا واٹ کے پنجاب تھرمل پاور پلانٹ سے سالانہ10ارب یونٹس پیدا ہوں گے -وزیراعلی عثمان بزدار نے فنانسنگ کے لئے ہونے والے معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 6بینکوں کے کنسورشیم سے 100ارب روپے کی فنانسنگ کا معاہدہ قابل تحسین ہے اوراسے ملکی تاریخ کی سب سے بڑیSovereign گارنٹی کہا جا سکتا ہے۔صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک،چیئرمین منصوبہ بندی وترقیات،سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری توانائی اور ا ن کی ٹیم کو مبارکباد دتیا ہوں - انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں میں تعطل کے باوجود PPA اور GSA جیسے موثر معاہدے کئے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پنجاب تھرمل پاور پلانٹ تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہے اور اگلے سال کے آخر تک مکمل ہونے والے 1263میگاواٹ کے اس پراجیکٹ سے سالانہ 10ارب سے زائد یونٹ بجلی حاصل کی جاسکے گی۔ تریموں میں آر ایل این جی سے چلنے والا پنجاب پاور پلانٹ 80فیصد مکمل ہوچکاہے۔ 93کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن اور 48کلومیٹر طویل ٹرانسمشن لائن کے پراجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں۔ پنجاب پاور پلانٹ میں معروف بین الاقوامی کمپنی سیمنز سے مصدقہ جدیدترین ٹیکنالوجی پر مشتمل سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ ہائی ایفیشینسی کی وجہ سے یہاں بجلی کی پیداواری لاگت انتہائی کم ہو گی اورگھروں اور صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ روپے میں ادائیگی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ضیاع کو بچایا جا سکے گا اور اس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی ہو گی- گردشی قرضے کے بوجھ میں نمایاں کمی ہو گی اور اس پراجیکٹ کی بدولت ہزاروں لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی میسر ہوں گے۔ سولر، ونڈپاور اور ہائیڈروپاور پلانٹ کے ذریعے حاصل کی جانے والی بجلی کی لاگت نسبتاً کم ہوتی ہے اورپنجاب میں توانائی کے متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے- وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کو کم لاگت بجلی پیدا کر کے سستے داموں فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ گزشتہ ادوار میں لگائے جانے والے پاور پلانٹس سے 9.29سے 27.12 روپے فی یونٹ تک بجلی پیدا کی جاتی رہی جبکہ پنجاب تھرمل پاور پلانٹ کے ذریعے 8.95 روپے فی یونٹ کی شرح سے بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ 2سال میں ہم پاکپتن اورمرالہ میں دو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس مکمل کرچکے ہیں اوران سے  2کروڑ70 لاکھ سے زائد یونٹ بجلی حاصل کی جاچکی ہے۔7 ہزار سرکاری اداروں کو سولر توانائی پر منتقل کیا جا چکاہے اوران میں 6991پرائمری سکول اورایک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بھی شامل ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب

مزید :

صفحہ اول -