امریکی جنرل ملی کی قطر میں طالبان لیڈر سے ملاقات،تشدد میں کمی پر زور

  امریکی جنرل ملی کی قطر میں طالبان لیڈر سے ملاقات،تشدد میں کمی پر زور

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی فوج کے چوٹی کے جنرل ملی نے بغیر اطلاع کے اچانک قطر میں طالبان کے مذاکرات کا روں سے ملاقات کر کے ان پر تشدد میں کمی کرنے پر زور دیا ہے، امریکی ٹی وی چینل نیوز میکس نے اپنی تازہ نشریات میں یہ بریکنگ نیوز دیتے ہوئے بتایا کہ کسی سرکردہ امریکی جنرل کی طالبان لیڈروں کیساتھ آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کی بہت اہمیت کی حامل ہے،چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی منگل کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے تھے۔ بعد میں وہ بدھ کے روز کابل چلے گئے جہاں انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے قیام امن کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ چینل کی نشریات میں بتایا گیاہے کہ جنرل ملی نے اپنے ساتھ سفر کرنیوالے امریکی میڈیا کے تین رپورٹرز کو بتایا کہ ان کے دونوں فریقوں سے رابطے کا بنیادی مقصد انہیں تشدد میں کمی پر آمادہ کرنا ہے کیونکہ افغانستان میں قیام امن کیلئے سب سے بنیادی بات یہی ہے۔ جنرل ملی قبل ازیں جون میں بھی قطر میں طالبان لیڈروں سے ملاقات کر چکے ہیں۔ اسوقت امریکہ افغانستان سے بتدریج اپنی افواج کا انخلاء کر رہا ہے تاہم مکمل انخلاء کا انحصار اس بات پر ہے کہ طالبان کی طرف سے تشدد میں کتنی کمی واقع ہوتی ہے۔ اسوقت صورتحال یہ ہے کہ طالبان نے ایک مرتبہ پھر اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے امن مذاکرا ت خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ خاص طور پر ہلمند اور قندھار کے صوبوں میں سڑکوں اور انفراسٹرکچر کونشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نیوز میکس کی رپورٹ کے مطابق جنر ل ملی نے افغان حکام سے ملاقاتوں کے بعد کابل میں ایک انٹرویو میں بتایا کہ افغان امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کیلئے تشدد کا خاتمہ یا نمایاں کمی ضروری ہے۔ یاد رہے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ نے قطر میں طالبان کیساتھ ایک جامع امن سمجھوتہ طے کیا تھا جس کے تحت امریکہ افغانستان سے امن افواج کے بتدریج انخلاء کیلئے تیار ہو گیا تھا اور مئی 2021ء تک یہ انخلاء مکمل ہو جاتا تھا۔ اس معاہدے کی شرط کے مطابق طالبان نے بھی تشدد میں کمی کا وعدہ کیا تھا جس کے بعد ملکی سطح پر سیزفائر کا اعلان ہونا تھا۔ طالبان نے کابل انتظامیہ کیساتھ انتقال اقتدار کی تعطیلات طے کرنے کی شرط بھی تسلیم کی تھی اور اسوقت کابل انتظامیہ اور طالبان کے مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ طالبان نے مطالبہ کیا تھا امریکہ کے فضائی حملے بند کر دیئے جائیں، امریکی حکام کے مطا بق اسوقت یہ فضائی حملے صرف افغان فوج کو بچانے کیلئے کئے جاتے ہیں جو طالبان حملوں کی زد میں آتی ہے۔ جنرل ملر نے انٹرویو میں بتایا کہ انہیں یہ سن کر بہت صدمہ پہنچا ہے کہ طالبان جان بوجھ کر سڑکوں اور پلوں کو تباہ کر رہے ہیں تاکہ کابل انتظامیہ اپنی افواج کو کمک نہ پہنچا سکے۔

مزید :

صفحہ اول -