داخلوں کی بندش کا فیصلہ تعلیمی فروغ کی پالیسی کے منافی، پروفیسرافتخار 

داخلوں کی بندش کا فیصلہ تعلیمی فروغ کی پالیسی کے منافی، پروفیسرافتخار 

  

ڈیرہ اسماعیل خان (بیورورپورٹ)ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا ماسٹرز ڈگری پروگرام کے داخلوں کی بندش کا فیصلہ تعلیمی فروغ کی پالیسی کے منافی ہے،چیئرمین HECطارق بنوری سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے،چیئرمین و ایگزیکٹیو ڈائریکٹرHEC سے مثبت پیشرفت کی امید ہے۔ ان اخیالات کا اظہاروائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے میڈیا سے ایک خصوصی نشست کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گومل یونیورسٹی میں کوئی پریشر گروپ نہیں ہے ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے 31دسمبر2020کے بعد سے ماسٹر ڈگری پروگرامز کے داخلوں کی بندش کے فیصلے کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل کیلئے خیبر پختونخواہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈیرہ اسماعیل کی مادر علمی میں منعقد ہونے والی وائس چانسلرز کانفرنس موجودہ حالات کے پیش نظر آن لائن کانفرنس میں تبدیل کی ہے۔ماسٹرز ڈگری پروگرامز میں پرائیویٹ طلبا سے حاصل ہونے والی داخلہ و امتحانی فیسیں یونیورسٹی کی آمدن کا 25فیصد ہیں،ایچ ای سی کے موجودہ فیصلے سے یونیورسٹیاں مزید مالی بحران کا شکار ہونگی۔HECکے فیصلہ کو سنڈیکیٹ میں لے جائینگے، یونیورسٹیز ایکٹ کے تحت یونیورسٹیوں کو ڈگری کے اجرا کا اختیار ہے،HECصرف ڈگری کی ویریفکیشن کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایٹ ڈگری اور بی ایس پروگرام کی پالیسی غلط تھی، جاری پروگرام کے تحت2+2کا ماڈل دیا تھا جس پر مجھے سول ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ماسٹرز ڈگری داخلوں کو نہ چھیڑیں، کالجز میں BA, BSc پروگرام بند کریں،BAپرائیویٹ کے حوالے سےHEC  نے کوئی پالیسی نہیں دی۔ موجودہ فیصلے سے عام طبقے پر اعلی تعلیم کے راستے بند کرنے کی بجائے تعلیم تک رسائی کے حکومتی پروگرام کے تحت متبادل پروگرام بنانالازمی ہے۔ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی مخالف مافیا کی جانب سے اس اہم پروگرام کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، مگر ان کی یہ چال بھی ناکام ہوئی۔مافیاز کیخلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں، یونیورسٹی سے نکالے گئے افراد جعلی اکاؤنٹس سے یونیورسٹی کیخلاف سازشیں کر رہے ہیں، ان کیخلاف قانونی کاروائی کرینگے۔گومل یونیورسٹی میں جاری ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں ان ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں میں ایک اینٹ کا بھی خرچہ نہیں، موجود میٹریل اور یونیورسٹی میں بھرتی شدہ لیبر سے کام لے کر لاکھوں روپے بچائے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -