آر ایچ سی خانقاہ شریف میں ڈاکٹرز نہ ادویات‘ مریض پریشان 

آر ایچ سی خانقاہ شریف میں ڈاکٹرز نہ ادویات‘ مریض پریشان 

  

 بہاولپور(بیورو رپورٹ) تحصیل صدر بہاولپور کا اکلوتا 20بستروں پر مشتمل رورل ہیلتھ سنٹرخانقاہ شریف سمہ سٹہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا عوامی اور سماجی حلقو نے بتایا کہ ہسپتال میں شوگر انسولین کتے کاٹنے کی ویکسین،خون ٹیسٹ ڈلیوری کیس،ادوایات،بچوں کے حفاظتی انجکشن ودیگر سہولیات نایاب تھی اور اب ڈاکٹر بھی نایاب ہوگئے ہیں سابق ایم ایس او ڈاکٹر خواجہ عامر ریاض تین ماہ قبل انچارج چھوڑ کرگیااور ان کی جگہ ابھی تک کوئی ایس ایم او تعینات نہ ہو(بقیہ نمبر28صفحہ 6پر)

سکا ہسپتال کی عارضی ذمہ داری ڈاکٹر طاہر برکت سونپ دی گئی جو ان کے بس سے باہر ہے ڈاکٹرز اوردیگرعملہ اپنی مرضی سے آتے جاتے ہیں جھنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں بائیو میٹرک سسٹم فیل ہوچکا ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیں ہسپتال تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہسپتال میں صفائی ستھرائی کا کوئی انتظام نہیں گٹر ابلل رہے ہیں واش روم بیسن گندگی سے بھرے ہوئے ہیں جن کی مہنیوں تک صفائی نہیں ہوتی عملہ صفائی کنٹرول سے باہر ہے ہسپتال کے باقی معاملات میں بھی ڈاکٹر طاہر برکت اناڑی ثابت ہوئے ہسپتال میں ہر وقت آوارہ کتے منڈلاتے پھرتے ہیں ہسپتال کا نظام پوری طرح درہم برہم ہوچکا ہے مریض گھنٹوں ڈاکٹرزکے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں ایوننگ اور نائٹ شفت میں ڈاکٹرز آن لائن حاضرہوتے ہیں جو ایمرجنسی میں گھنٹوں بعد پہنچتے ہیں رات کو ایک ڈسپنسر اور نرس ہسپتال کا نظام چلاتے ہیں ڈلیوری روم عرصہ دراز سے بند پڑا ہوا ہے جس کی تما م مشینری زنگ آلود ہوکر ناکارہ ہوچکی ہے لیڈی ڈاکٹرصرف ٹیسٹوں تک محدود ہے سیر یس کیس کو بہاولپور وکٹوریہ میں ریفر کردیا جاتاہے ہسپتال میں ڈلیوری سہولیات ہونے کے باوجود جان بوجھ کر ڈلیوری روم کو غیر فعال بنایا ہوا ہے صرف مفت کی تنخوائیں بٹوررہے ہیں سخت سردی میں دور دراز سے آنے والے مریض سہولیات ناپید ہونے اور ہتک آمیز رویے سے مایوس واپس لوٹ جاتے ہیں ڈاکٹر طاہر برکت نے اپنے موقف میں بتایا کہ مجھے چارج لیے ہوئے دو ماہ ہوئے ہیں ایوننگ اور نائٹ شفٹ میں ڈاکٹر کھبی کھبار غیر حاضر ہوتے ہیں ڈاکٹر ز کی کمی ہے آوارہ کتوں کے لیے ٹاون کمیٹی عملہ کو کہا ہے لیکن انہوں کچھ نہیں کیاآہستہ آہستہ تمام معاملات ٹھیک ہوجائے گئے شہریوں نے صوبائی وزیر صحت، سیکرٹری ہیلتھ اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور مستقل سرجن انچارج تعینات کیا جائے اور سہولیا ت مہیا کی جائیں ہسپتال انتظامیہ کے خلاف نوٹس لیا جائے۔

پریشان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -