نامور عالم دین اور شاعر علامہ رشید ترابی کا یوم وفات(18دسمبر)

نامور عالم دین اور شاعر علامہ رشید ترابی کا یوم وفات(18دسمبر)
نامور عالم دین اور شاعر علامہ رشید ترابی کا یوم وفات(18دسمبر)

  

رشید ترابی:

علامہ رشید ترابی کا اصل نام رضا حسین تھا اور وہ حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم علامہ سید علی شوستری‘ آغا محمد محسن شیرازی ، آغا سید حسن اصفہانی اور علامہ ابوبکر شہاب عریضی سے حاصل کی، شاعری میں نظم طباطبائی اور علامہ ضامن کنتوری کے شاگرد ہوئے اور ذاکری کی تعلیم علامہ سید سبط حسن صاحب قبلہ سے اور فلسفہ کی تعلیم خلیفہ عبدالحکیم سے حاصل کی۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور الہٰ آباد یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔

علامہ رشید ترابی ایک قادر الکلام شاعر   تھے۔ ان کے کلام کا ایک مجموعہ ’’شاخ مرجان‘‘ کے نام سے اشاعت پزیر ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی مرتب کردہ کتابیں طب معصومین‘ حیدر آباد کے جنگلات اور دستور علمی و اخلاقی مسائل بھی شائع ہو چکی ہیں۔

علامہ رشید ترابی 18 دسمبر 1973ء کو کراچی میں وفات پا گئے اور حسینیہ سجادیہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئے۔

نمونۂ کلام

یہ وہ بستی ہے جہاں دل کو قرار آتا ہے

ذرہ ذرہ میں نظر نقش و نگار آتا ہے

قطرہ پانی کا خمِ مےِ بہ کنار آتا ہے

بہمن و دے میں بھی یاں لطفِ بہار آتا ہے

زندہ ہوں آج جو یہ شہر بسانے والے

خلد کا نام نہ لیں خلدکے جانے والے

شاعر: رشید ترابی

(’’تہنیتِ جوبلی‘‘ سے انتخاب)

Yeh   Wo    Basti   Hay   Jahan   Dil   Ko   Qaraar   Aata   Hay

Zarra   Zarra   Men   Nazar   Naqsh-o-Nigaar   Aata   Hay

Qatra   Paani   Ka   Khum-e-May-e-Ba   Kinaar   Aata   Hay

 Behmano   Day   Bhi   Yaan   Lutf-e-Bahaar   Aata   Hay

 Zinda   Hun   Aaj   Jo   Yeh   Shehr   Basaanay  Waalay

Khuld   Ka   Naam   Na   Len   Khuld   K   Jaanay   Waalay

 

Poet: Rasheed  Turabi

 

مزید :

ادب وثقافت -