جس ملک میں اظہار رائے کو دبایا جائے و ہ اقتصادی لحاظ سے پیچھے چلا جاتاہے : اسلام آباد ہائیکورٹ 

جس ملک میں اظہار رائے کو دبایا جائے و ہ اقتصادی لحاظ سے پیچھے چلا جاتاہے : ...
جس ملک میں اظہار رائے کو دبایا جائے و ہ اقتصادی لحاظ سے پیچھے چلا جاتاہے : اسلام آباد ہائیکورٹ 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ جس ملک میں اظہار رائے کو دبایا جائے وہ اقتصادی لحاظ سے پیچھے چلا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سوشل میڈیا رولز کے خلاف پی ایف یو جے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیے کہ سوشل میڈیا رولز کو آئین کے مطابق پرکھ کر چیلنج کیا گیا ہے، پی ٹی اے نے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بجائے از خود رولز بنا کر عدالت میں پیش کیے، یہ رولز آئین سے متصادم ہیں انہیں فی الفور ختم کیا جائے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے عدالت سے کہا کہ اٹارنی جنرل خود پیش ہو کر دلائل دینا چاہتے ہیں کچھ مہلت دی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ نے بتانا ہے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کون ہیں؟ کیا ان کے ساتھ مشاورت ہوئی؟ جہاں آزادی اظہار رائے کو دبایا جاتا ہے وہ ممالک اقتصادی لحاظ سے پیچھے چلے جاتے ہیں، جو رولز بنائے گئے اس میں اختیارات کا غلط استعمال بھی نہیں ہونا چاہیے، پی ٹی اے نے جو رولز بنائے ہیں وہ آپ ان تمام اسٹیک ہولڈرز کو بھجوا دیں۔عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 25 جنوری تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ پی ٹی اے رولز کو پاکستان بار کونسل کی جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے ذریعے پی ایف یو جے نے چیلنج کیا۔

مزید :

قومی -