الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ،ایف بی آر نے اپنی غلطی پر ملک کے مایہ ناز سرمایہ کاروں پر پرچے کاٹ دئیے

الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ،ایف بی آر نے اپنی غلطی پر ملک کے مایہ ناز سرمایہ ...
الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ،ایف بی آر نے اپنی غلطی پر ملک کے مایہ ناز سرمایہ کاروں پر پرچے کاٹ دئیے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) نے اپنے سسٹم کی غلطی مایہ ناز صنعتکاروں کے سر ڈال دی ،ملک کے بڑے صنعتکا ر گروپس کے خلاف دس سے زائد مقدمات درج کر لیے اور نامور صنعتکاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں ۔

نجی نیوز چینل "24نیوز" کے مطابق اظہارایف بی آر نے سٹیل ملز،سرینا ٹیکسٹائل انڈسٹری اور کو ہ نور ٹیکسٹائل ملزکے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں ۔سرینا ٹیکسٹائلز ملز کے سی ای او حامد خان کے خلاف ان پٹ ایڈجسٹمنٹ اور جنرل سیلز ٹیکس کے الزام پر حامد خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ کوہ نو ر ٹیکسٹائلز ملز کے سی ای او توفیق سعید سہگل ،ڈائریکٹر طارق سعید سہگل کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں ۔سعید محسن رضا نقوی اور دانیا ل توفیق کو بھی مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر کاسسٹم ڈاون تھا جب سسٹم دوبارہ آن لائن آیا تو ایف بی آر کے سٹاف کی جانب سے کمپنیوں کو واجب الادا سیلز ٹیکس کی انٹریاں دوبارہ ڈال دی گئیں،اس پر کمپنیوں کو نوٹس دئیے گئے تو انہوں نے رقوم واپس جمع کروا دیں ،اس کے باوجود انہیں جرمانے کر دئیے گئے اور پھر اپیل دائر کرنے کا ایک ماہ کا وقت ختم ہونے سے قبل ہی پرچے کاٹ دئیے گئے ۔ 

بزنس کمیونٹی ایف بی آر کی اس حرکت پر سراپا احتجاج ہے اورانہوں نے وزیراعظم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔سرینا ٹیکسٹائل کے سی ای او حامد خان نے کہا ہے کہ ایف بی آر کا احتساب بہت ضروری ہے ،کئی کئی سال اربوں کے فنڈز نہیں دئیے جاتے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے سسٹم کی خرابی صنعتکاروں کے کھاتے میں ڈال دی ہے ،جو ایمانداری سے ٹیکس دیتا ہے وہی پھنس جاتا ہے جبکہ غیر رجسٹرڈ افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی ۔ دوسری جانب ایف بی آر کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کاروباری حضرات نے سیلز ٹیکس ایڈجسٹمنٹ میں فراڈ کیا جس کی وجہ سے پرچے کاٹے گئے ۔

مزید :

قومی -