شاہدخاقان عباسی اور ندیم بابر میں انرجی سیکٹر پرعظیم الشان مناظرہ، کون سچا کون جھوٹا؟ آپ خود فیصلہ کریں

شاہدخاقان عباسی اور ندیم بابر میں انرجی سیکٹر پرعظیم الشان مناظرہ، کون سچا ...
شاہدخاقان عباسی اور ندیم بابر میں انرجی سیکٹر پرعظیم الشان مناظرہ، کون سچا کون جھوٹا؟ آپ خود فیصلہ کریں

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعظم و لیگی رہنما شاہدخاقان عباسی نے کہا ہے کہ  مجھے خوشی ہے کہ اس حکومت نے اعتراف تو کیا کہ ایل این جی ہمارے ملک کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ ہم مانتے ہیں کہ ایل این جی ملک کی ضرورت ہے لیکن بات یہ ہے کہ ن لیگ ایل این جی کو پٹرول ڈکلیئر کروا کر ملک میں لائی تھی۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز پر شاہدخاقان عباسی اور ندیم بابر کے درمیان انرجی سیکٹر پر بڑا مناظرہ ہوا جس میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ لوگ ڈھائی سال سے کہہ رہے تھے کہ ملک میں ایل این جی لا کر بہت ظلم کیا ہےجس کے  جواب میں ندیم بابر نے کہا کہ   آپ لوگ مہنگی ایل این جی لے کر آئے،  سابق دورمیں پاورپلانٹس کوایل این جی پرمنتقل کرنااچھااقدام تھا، پاورپلانٹس 7 نہیں ڈھائی سال ایل این جی پرچلے۔

شاہدخاقان عباسی نے دعوی کیا کہ اگر ایل این جی ہمارے پاس نہ آتی تو ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ابھی سردیوں میں ایل این جی کی بہت ضرورت ہے کیونکہ سردیوں میں گیس کی کھپت بڑھ جاتی ہے،ہماری ایل این جی کی طلب بہت واضح ہے۔ ہمیں مزید ایل این جی ٹرمینل لگانے کی ضرورت ہے، موجودہ حکومت نے نئے ٹرمینل نہیں لگائے۔ ان کا مزید کہنا تھاحکومت کی ذمہ داری ہے گیس خریدے اور سسٹم میں ڈالے۔ ہمیں پاورپلانٹس چلانے کے لیے ایل این جی کی ضرورت ہے۔

جس کے جواب پرندیم بابر نے کہا کہ ایک ٹرمینل جنوری میں تعمیراتی کام شروع کررہا ہے، دوسرے ٹرمینل کا تعمیراتی کام 2021 کے وسط میں شروع ہوگا۔ 

شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ میں کسی پر الزام نہیں لگا رہا ، میں خود ملزم ہوں،میں حقائق پر بات کررہا ہوں کہ ایگزون موبل دنیا کی سب سے بڑی کمپنی پاکستان میں پلانٹ لگانے آئی، وہ ڈھائی سال انتظار کرتے رہے لیکن پلانٹ نہ لگنے دیا گیاانہوں نے کہا کہ  پرویز مشرف دور میں 4 پاورپلانٹ لاہور میں لگے۔ مشرف دور میں لگائے گئےپلانٹ 7سال ڈیزل پرچلتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے 226ارب روپے جی آئی ڈی سی کی مدمیں جمع کیےبتائیں وہ پیسے کہاں ہیں؟ سابق حکومت نے 226 ارب روپے پائپ لائن بچھانے میں نہیں لگائے۔ گیس خریداری کی اوسط گزشتہ معاہدوں سے 20فیصد کم آئی،ہم یومیہ 5 لاکھ 27 ہزار ڈالر ایل این جی ٹرمینلز کو دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قیمتیں کم ہونی تھیں اس لیے 10سال کامعاہدہ نہیں کرناچاہیئے تھا،10 سال بعدمعاہدہ ختم نہیں کرسکتےدوبارہ قیمتیں طےکرسکتےہیں۔

ندیم بابر نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ کوبیرون ملک بھیجنےمیں شاہدخاقان عباسی نے معاونت  کی تھی لہذا اب درخواست ہے کہ ان کو دوبارہ ملک میں لانے کے لیے بھی معاونت کریں۔ 

مزید :

قومی -