برآمدات بڑھائے بغیر تبدیلیاں

برآمدات بڑھائے بغیر تبدیلیاں
برآمدات بڑھائے بغیر تبدیلیاں

  

نوے کی دہائی میں ، میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا، اردو کے ہمارے استاد  نے عمران خان کا ذکر کیا، ان دنوں نئی نئی تحریک انصاف وجود میں آئی تھی ،  استا د نے بھی سوال اٹھایا کہ اب پاکستان میں کھلاڑی سیاست کرے گا؟ کیا زمانہ آگیا،  ارے سیاستدان ختم ہو گئے؟  یہ ضرور لندن والوں کی چال ہے  کیونکہ اس کی بیوی   دولت مند گورے کی بیٹی ہے. گھر میں   صرف رات کو والد صاحب کے ساتھ بیٹھ کر 8 بجے بی بی سی کے خبریں ریڈیو پر سنتا تھا لیکن سکول میں اس دن دل میں استاد کی باتوں پر بہت غصہ آیا،  میں عمران خان کو  پسند کرتا تھا لیکن  ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے آج تک ووٹ کبھی نہیں ڈالا۔

کئی برسوں بعد عمران خان کی حکومت بنی تو  میں بہت خوش تھا کہ اب پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی لیکن شروع دن سے عمران خان کے طرز حکومت کی ایک دن بھی سمجھ نہیں آئی،  کسی ایک ادارے کو ٹھیک سے نہیں چلایا گیا، اسد عمر  کے بارے سب لوگوں کو خیال تھا کہ یہ معیشت ایک دن میں ٹھیک کرے گا لیکن حکومت میں آنے کے بعد پتہ چلا کہ خواب بھی ٹوٹا ہی سمجھیں۔  پہلا منی بجٹ پیش کیا اور تقریر کرنے اٹھ کھڑے ہوئے  تو سوچا  کہ  اب سب پاکستانیوں کو اور خصوصاً اپوزیشن والوں کو اپنی کارکردگی اور اپنے تجربے سے روشناس کریں گے کہ معیشت میں یہ خرابی تھی،   یہ یہ تبدیلیاں کر کے اس طرح اتنے دنوں میں  معیشت ٹھیک کردکھاؤں گا لیکن وہ  عملی اقدامات گنوانے کی  بجائے جگت بازی اور پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کے نعروں کے جواب دینے لگ گئے،ان کے پاس نہ کوئی پلان تھا اور  نہ معیشت ٹھیک کرنے کا طریقہ یا تجربہ ۔۔۔سب نے دیکھا کہ ان کو استعفیٰ دے کر جانا پڑا۔ایک  آزمودہ شخص کو لایاگیا ،  اس نے بھی پرانے طریقے سے وزارت چلائی اور قرض لے کر ملک چلتا رہا، یہ 75 برسوں کا آزمایا ہوا طریقہ تھا لیکن بہتری نہ آسکی۔ خیر عمران خان کی حکومت چلی گئی۔شہباز شریف  نے وزارت عظمیٰ سنبھالی ،دکھ ہوا لیکن پھر دل کو تسلی دی کہ یہ تو وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں،  کام اور محنت کی وجہ سے مشہور ہیں،   اب ترقی ہوگی لیکن مفتاح اسماعیل نے بھی وہی دوسرے ملکوں اور آئی ایف سے قرضے لینے شروع کیے،  سوچا کہ خزانہ خالی ہوگا ، دو چار مہینے میں سب کچھ  ٹھیک ہو جائے گا  لیکن اسی دوران اسد عمر کی طرح  مفتاح اسماعیل کی بھی چھٹی ہوگئی اور ان کی جگہ  برطانیہ سے اسحاق ڈار  آگئے ۔

  ایک بات سمجھ میں آگئی ہے کہ ہمارے برآمدات 32 ارب ڈالر زجو کے اعداد وشمار کی ہیر پھیر بھی ہو سکتی ہے شاید کم ہو ں لیکن مان لیا اور درآمدات 72 ارب ڈالرز جو تقریباً برآمدات سے دگنا ہیں  تو اس طرح ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا ۔عمران خان ہوں یا  نواز شریف، یا پھر  زرداری صاحب کوئی بھی حکومت میں آجائے، کسی بھی معیشت کے آئن سٹائن کو وزیر خزانہ لگا لیا جائے ، برآمدات بڑھانے تک معیشت ٹھیک نہیں ہوسکے گی ۔ برآمدات بڑھانے کے لئے سب کو بیٹھ کر ایک قانون اور منصوبہ سازی کرنی چاہیے ،  حکومت کسی کی بھی ہو اس میں ایک حرف کو بھی حذف کرنے یا اضافہ کرنے کی   جرأت نہ ہو  تا وقتیکہ اپنے اہداف حاصل کرلیں،  طویل مدتی پالیسی بنائیں،  جس دن ہماری برآمدات درآمدات سے بڑھ گئیں پھر ملک دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گا۔

 کب تک دوست ممالک ساتھ دیتے رہیں گے؟ہمیں بیٹھ کر برآمدات بڑھانے کے لیے دن رات کام کرنا چاہیے، برآمدات بڑھانے کے لیے وسائل موجود ہیں، صرف نیت اور مل بیٹھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انتخابات ایک سال کے بعد ہوں  یا ایک مہینے کے بعد انتخابی اصلاحات سے پہلے معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے اور ان اصلاحات کے بغیر  سب کچھ بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطۂ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -