قبائلی ضم شدہ اضلاع میں جرگہ سسٹم 

قبائلی ضم شدہ اضلاع میں جرگہ سسٹم 
قبائلی ضم شدہ اضلاع میں جرگہ سسٹم 

  

قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختوانخوا کے جنوبی اضلاع اور پختون کلچر میں جرگہ سسٹم ایک مربوط اور  قدامت پسند تاریخ رکھتا ہے اور یہ نظام اتنا ہی قدیم ہے جتنی قبائلی اور پشتون روایات، انصاف کا حصول اور تنازعات  کا جلد اور کم خرچ پر حل ہمیشہ انسان کی خواہش رہی ہے   جس کی وجہ سے وہ مسائل بالخصوص تصفیہ طلب معاملات کے حل کیلئے آسان ترین عمل کا انتخاب کرتا ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ پختون علاقوں بالخصوص قبائلی علاقوں میں  عوام انصاف کے حصول اور تنازعات کے حل کے لئے روایتی عدالتی اور پولیس نظام کی بجائے جرگہ سسٹم پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، جس کی ایک سےزائد  وجوہات ہیں مثلًا فریقین کو آزادانہ اپنے اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم ہو جاتا ہے، جرگہ ثالثان کا انتخاب بھی فریقین باہمی مشاورت سے کرتے ہیں اس عمل میں اخراجات بھی کم ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کریہ کہ    فریقین کو آئندہ خلاف ورزی نہ کرنے کا پابند بھی بنایا جاتا ہے، فیصلے فریقین تسلیم بھی کرتے ہیں اور اس کی پاسداری بھی۔

اگرچہ حکومت نے پشتون ایریا اور قبائلی علاقہ جات میں عدالتی نظام متعارف کرا رکھا ہے مگر  80 فیصد تک  آبادی اس نظام پر جرگہ کے نظام کو ترجیح دیتی ہے، اس کو پختون کلچر کا اہم حصہ سمجھاجاتا ہے۔عدالتی نظام قائم ہے مگر یہ تاحال عوام اور قبائل میں مقبول نہیں ہو سکا ،  قبائل میں تعلیم کے فروغ ،  عدالتی نظام میں آسانیوں  اور پھر عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے عملی اقدامات سے یہ نظام خود کو مضبوط کر سکتا ہے تا ہم اس کے لئے دیگر پشتون روایات میں بھی انقلاب برپا کرنا ہوگا اور اس منزل کے حصول کے لئے 2 سے 3 دہائیوں کی سماجی ترقی اشد ضروری ہے۔

تحریک اصلاحات پاکستان کے مرکزی رہنما،  اورکزئی قبائل کے ملک حبیب نور اورکزئی نے جرگہ سسٹم کو قبائل کی تاریخ اور قبائلی روایات کا ایک اہم ستون قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ جرگہ سسٹم بروقت انصاف فراہم کرنے کا اور تنازعات کے خاتمے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جو صدیوں سے اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے، قبائلی عوام اور پشتون بھی جرگہ سسٹم کے روایات طور طریقوں اور انداز سے مکمل طور پر جان کاری رکھتے ہیں، ان جرگوں کے ذریعے صرف فیصلہ کرنا مقصد نہیں ہوتا ، اس میں مصالحت ہوتی ہے اور فریقین کے ددمیان ہر قسم کی  ناراضگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے  تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا  کہ جرگے کی اہمیت کو ایسے عناصر نے متاثر کیا ہے جو تنازعات کے حل کے بجائے ذاتی مفادات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سابق وفاقی وزیراور سنئیر سیاست دان ڈاکٹر غازی گلاب جمال اورکزئی نے جرگہ سسٹم کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے  کہا کہ فاٹا کے صوبے میں ضم ہونے  اور عدالتوں کے قیام کے باوجود قبائل  جرگہ سسٹم پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سسٹم کے تحت نا صرف فوری انصاف ملتا ہے،  جرگہ ثالثان دونوں فریقین کو فیصلے پر عمل درآمد کا سختی سے پابند بنا دیتے ہیں۔

سابق ڈپٹی کمشنر اور سینیئر بیوروکریٹ  عطاء الرحمان اورکزئی سے جب جرگہ سسٹم کی افادیت یا اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے اپنی ہی کہانی دہرا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خاندان کی ایک دوسرے فریق کے ساتھ کئی دہائیوں سے کچھ معاملات پر تنازعات چل  رہے تھےجس کے لئے 30 سال تک عدالتی نظام پر انحصار کیا، اس دوران خاندان والوں نے کئی بار جیل بھی کاٹی لیکن مسئلہ حل نہ ہوا ، جب علاقائی دستور کے مطابق ہم نے جرگہ سسٹم کےذریعے مسئلے حل کرنے کی کوشش کی تو چند ہفتوں کے اندر کئی سال پرانہ مسئلہ افہام و تفہیم سے نا صرف حل ہو گیا بلکہ دونوں فریقین باہم شیر و شکر ہو گئے۔

خاتون سوشل ایکٹیویسٹ نوشین فاطمہ نے  بتایا کہ   50 فیصد پر مشتمل خواتین کی آبادی کو ابھی تک جرگہ سسٹم کا حصہ نہیں بنایا گیا ،  یہ نظام اس طریقے سے بھی قبائل کی ترجمانی نہیں کرتا، جن قبائلی روایات کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزی  ہوتی ہے ، ان کا موقف تک نہیں لیاجاتا تو  ایسے نظام سے خواتین کیسے مطمئن ہو سکتی ہے۔ ماضی میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جہاں جرگوں کے ذریعے فیصلے میں قانونی اور شرعی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ وومن رائٹس کی بھی خلاف ورزیاں سامنے آئیں،  اب عدالتی نظام کے متعارف ہونے سے قبائلی خواتین کی توجہ آہستہ آہستہ عدالتوں کی طرف  ہوگی۔

جرگہ سسسٹم اور عدالتی نظام کے متعلق جب پشاور ہائیکورٹ کے ایک  سنئیر وکیل سیف اللہ محب کاکاخیل  کا مؤقف تھا کہ عدالتی نظام کو ہر قسم کا قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے  اور اس میں اگر فیصلے سے کوئی فریق مطمئن نہ ہو تو اس کے پاس بہت سے انصاف کے لئے آپشنز موجود ہوتے ہیں اور عدالتوں میں فیصلے شواہد اور قوانین کو سامنے رکھ کر کئے جاتے ہیں،  اس لئے عدالتی نظام کو پروان چڑھانا بہت ضروری ہے اس مقصد کے لئے حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کو جرگوں کے غیر قانونی اورغیر اسلامی فیصلوں پر نوٹس لینا ہوگا جب جرگہ سسٹم میں غلط فیصلوں کی حوصلہ شکنی ہوگی تو قبائلی عوام عدلتوں پر انحصار کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔

گزشتہ 20 برسوں سے قبائلی علاقہ اورکزئی پر نظر رکھنے والے صحافی طارق محمود مغل نے کہا  کہ جرگہ سسٹم سے جہاں عوام کو فائدہ ہوا وہاں نقصانات سے بعض لوگ متاثر بھی ہوئے ہیں، علاقائی روایات کی وجہ سے کافی حد تک امن اور رواداری ہے اور عوام کے مسائل حل ہو رہے ہیں،  خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے سمیت خواتین کے دیگر اہم معاملات پر جرگوں کے ذریعے کچھ مثبت فیصلے نہیں ہوئے، اس کے لئے بنائے گئے قوانین پر فوری عمل کرنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے  کہا کہ اگر عدالتی نظام کو مضبوط کرنا ہے تو اس کے لئے بنیادی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، عوام کو انصاف ملتا ہوا نظر آنا چاہیے۔

اسلامی اور شرعی اعتبار سے رائے جاننے کے لئے مفتی کریم اختر اورکزئی کیساتھ رابطہ کیا گیا تو ان انہوں کہا کہ عدالت اور جرگہ دونوں کا مقصد فریقین کے درمیان فیصلہ کرنا ہے، اسلام کے اندر 2 فریقین کے درمیان تصفیہ کرنے کی بہت اہمیت ہے۔ انگریز دور سے رائج ہمارے عدالتی نظام میں بہت سی خامیاں بھی موجود ہیں جس سے صرف قبائل نہیں بلکہ ملک کی اکثریت مطمئن نہیں، ایک عالم دین کی حیثیت قبائلی عوام کے مشران سے مطالبہ ہوگا کہ کسی بھی جرگے میں علماء کرام کو شامل کرنا یقینی بنائے تاکہ جرگہ میں اسلام اور شرعی قوانین کے مطابق انصاف پر مبنی فیصلے سامنے آئیں اور حکومت سے بھی مطالبہ ہے کہ عدالتی نظام میں فیصلہ دینے کے طریقہ میں اصلاحات کی جائیں تاکہ کوئی بھی فیصلہ جلد سے جلد اور بروقت ممکن ہو سکے۔

قبائلی علاقہ جات کو اگرچہ صوبے میں ضم کر دیا گیا ہے لیکن ابھی تک قبائلی علاقوں کا پرانا سیٹ اپ ہے ، قبائلی اضلاع  کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز قبائلی علاقوں کے اندر بنائے جائیں جہاں   تمام انفراسٹرکچر اور انتظامیہ ہونی چاہیے ، اس سے  قانون کی رٹ  مستحکم ہوگی، قبائل بھی عملی طور پر قومی دھارے میں شامل ہو جائیں گے اور عوام کا رجحان جرگہ سے عدالت کی طرف ہو جائے گا۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطۂ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -