پرائمری سطح پر مادری زبانوں کا مضمون

پرائمری سطح پر مادری زبانوں کا مضمون
پرائمری سطح پر مادری زبانوں کا مضمون
کیپشن: mudasar iqbal

  

 دنیا بھر میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مادری زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے زیادہ ذہین اور ہوشیارہوتے ہیں ،کیونکہ وہ نصاب کو زیادہ تیزی سے سمجھتے ہیں اور اس کے پس منظرمیں موجود حقائق سے بھی نسبتاً جلد آشنا ہوجاتے ہیں، یوں شرح خواندگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔دنیا بھر میں جہاں شرح خواندگی 70فیصد سے 100فیصد تک ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہاں ذریعہ تعلیم مادری زبانوں میں ہے، لیکن افسوس کہ پنجاب میں نہیں اور یہ سب ہماری حکمران اشرافیہ کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے ہے، بلکہ وہ پالیسی جو انگریزوں نے پنجاب کو فتح کرنے کے بعد پنجاب، پنجابیت اور پنجابی کے خلاف بنائی تھی، آج بھی اسی کا تسلسل جاری ہے اور یہ اس وقت تک چلتی رہے گی جب تک کہ خود پنجابی اپنی زبان کی حفاظت وبحالی اور اپنے حقوق کے لئے میدان میں نہیں نکلتے۔

سچ یہی ہے کہ غاصب کبھی حقوق نہیں دیا کرتے، ان سے حقوق چھینے جاتے ہیں، جیسا کہ1948ءمیں بنگالیوں اور پھر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد سندھیوں نے حاصل کئے تھے۔مَیں یہاں بغاوت ، احتجاج یا ہنگامہ آرائی کی بات نہیں کر رہا، صرف اتحاد و اتفاق کی بات کر رہا ہوں کہ جب تک پنجابی اپنی تہذیب و ثقافت پر فخر نہیں کریں گے اور زبان کی بحالی کے لئے مشترکہ جدوجہد نہیں کریں گے، انہیں اپنا ورثہ میسر نہیں آ سکتا،لیکن افسوس کہ پنجابیوں کو ہمیشہ منتشر رکھا گیا ہے، بلکہ ان میں اختلافات کو ہمیشہ ہوا دی گئی ہے۔ یہ کام انگریزوں نے تو اپنی ضرورت ”لڑاﺅ اور حکومت کرو“ کے تحت کیا تھا، مگر اس کے جانشینوں نے بھی اسی کو ضروری سمجھا۔ کبھی زبان، کبھی ثقافت، کبھی تاریخ پر اختلافات پیدا کئے اور ایک نئی تہذیب و ثقافت اور تاریخ کو مسلط کیا ،جس کا اس دھرتی ،اس زمین سے کوئی تعلق نہیں تھا ، پھر مزید ستم یہ کہ ایسے نصاب ترتیب دے کر بچوں کو پڑھنے کے لئے دیئے، جن کا اس دھرتی سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔

 یہاں ایک اور بین الاقوامی طور پر مسلمہ حقیقت تو یہ ہے کہ جہاں مادری زبانوں کو بچوں کی تعلیم کے لئے ضروری اور لازم قرار دیا جاتا ہے، وہاں نصا ب کی ترتیب و تشکیل بھی اسی پس منظر میں ہوتی ہے، تاکہ وہ اپنے ماحول میں موجود چیزوں کے ذریعے تعلیم بھی حاصل کریں اور اپنے شعوری سفر کو بھی آگے بڑھائیں، مگر افسوس کہ ہم کو جو نصاب دیا گیا ہے،وہ ہماری زمین کا نہیں، بلکہ حملہ آوروں اور غاصبوں کا تھا۔ہم کو راجہ پور س، دلابھٹی، احمد خان کھرل کی تاریخ نہیں پڑھائی گئی تو بابا فرید، شاہ حسین، باہو، بلھے شاہ، وارث شاہ اور میاں محمد بخش کی فکری تہذیب کی تدریس بھی نہیں ہونے دی گئی۔ یہ الگ بات کہ آج کی افراتفری اور انتشار بھی اسی کا نتیجہ ہے اور یہ انتہاپسندی ، دہشت گردی، خودکش حملے اور بم دھماکے بھی اسی بے سمتی کا ہی زہریلا پھل ہیں ، جس کی سزا غیریقینی موت کی شکل میں عوام بھگت رہے ہیں اور نہ جانے کب تک بھگتیں گے۔

 مجھے یہ ساری کہانی، سارا المیہ ایک بار پھر اس لئے یاد آیا ہے کہ بلوچستان حکومت نے مادری زبان کو پرائمری سطح پر لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کا قانون منظور کر لیا ہے۔ اب مادری زبان باقاعدہ مضمون کے طور پر نصاب میں شامل ہوگئی ہے، گویا ذریعہ تعلیم تو وہاں پہلے ہی مادری زبان تھا تو یہ اس سے اگلا مرحلہ ہے جو سب سے پہلے بلوچستان نے طے کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب مادری زبان باقاعدہ مضمون کے طور پر شامل ہوگی۔ زبان کی اپنی تاریخ و تہذیب اور اس کے ماخذ کا بھی تذکرہ ہوگا تو زبان کی ترقی و ترویج کے لئے جدوجہد کرنے والوں کی باتیں ہوں گی۔ادیبوں، صوفیوں اور ہیروز کی داستانوں کو بھی نصاب میں شامل کرنا ہوگا ۔ زبان کی ترقی و ترویج کے لئے جدوجہد کرنے والوں کی باتیں ہوں گی ۔ادیبوں، صوفیوں اور ہیروز کی داستانوں کو بھی نصاب میں شامل کرنا پڑے گا اور جو ولن ہوں گے ان کے کردار کی نشاندہی بھی کرنا پڑے گی، بلکہ ترقی و زوال کی کہانیاں بھی بیان کرنا پڑیں گی، ظلم اور استحصال کے خلاف جدوجہد کو بھی نمایاں کرنا پڑے گا۔

 شاید....یہی وہ خوف ہے جو پنجاب کے حکمرانوں کے پاﺅں میں زنجیریں ڈالے رہتا ہے اور وہ پنجاب کے عوام کو اپنی زبان اپنی ثقافت سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ سیاسی صورت حال تو بلوچستان میں مبینہ طور پر اس سے بھی خراب ہے کہ وہاں سرداری نظام کے استحصال نے لوگوں کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے ۔اہل بلوچستان اس قانون کی منظوری کے حوالے سے مبارکبادکے مستحق ہیں کہ انہوں نے مادری زبان کو بطور مضمون نصاب میں شامل کرکے پہلا پتھر پھینک دیا ہے، دیکھئے اب اس کی لہریں کہاں تک اس ٹھہرے ہوئے پانی کو متاثر کرتی ہیں۔ پنجاب کے حکمرانوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ مادری زبان میں ذریعہ تعلیم ہی قومی اور معاشرتی ترقی کے دروازے کھول سکتا ہے۔

مزید :

کالم -