آپ چلئے ۔۔۔میڈیا آپ کے ساتھ ہے

آپ چلئے ۔۔۔میڈیا آپ کے ساتھ ہے
آپ چلئے ۔۔۔میڈیا آپ کے ساتھ ہے

  



جی ہاں ! آپ چلئے میڈیا آپ کے ساتھ ہے ،آپ پسینہ گرائیے پریس لہو بہائے ہے ،آپ استقامت کی روشنی بکھیر یئے اخبار نویس لغزش کی تاریکی تحلیل کرنے پر تُلے ہیں ۔ حکمران دہشت گردوں کے خلاف بولیں تو سہی .......میڈیا تو ایک طرف شنوائیاں بھی پکار اٹھیں گی کہ ہاں کوئی بولنے والا بولا ،بستیاں کہہ اٹھیں گی ہاں ہم نے سُنا ،فاصلے دور سے صدا دیں گے ٹھہرو ! تمہاری مسافت ہم خود طے کریں گے اور دروازے خود بھاگے آئیں گے کہ آؤ ہمارے اندر داخل ہو جاؤ۔

دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں حکومت کو جتنا تیز چلنا چاہیے تھا شاید نہ چل سکی ہو ،لیکن تسلیم کیجئے اب وہ آگے بڑھنے میں کوتاہی نہیں کر رہی ۔یہ سفر ہے دور دراز کا اور ضروری ہے کہ حکام مختلف مراحل اور منازل سے گزرتے جاتے،یہ ہر منزل پر ٹھہرے ضرور مگر رکے کہیں نہیں۔ہمارے رہبروں نے ہر مقام کو دیکھا بھالا،جانچا اور ٹٹولاپر یہ اٹکے کہیں نہیں ۔ طرح طرح کے اتار چڑھاؤ اور رنگا رنگ کے نشیب وفرازآئے مگر ان کی نگا ہ سامنے منزل کی جانب ہی رہی ۔دنیا بھر کو پاکستان کے اداروں کے بارے میں شک رہا ہو ،سو رہا ہو ........لیکن ہمارے رہنماؤں کو اپنے فیصلوں اور ارادوں پر یقین رہا ۔یہ راستہ تھا مشکلوں سے اَٹا ہوا،یہ سفر تھا کانٹوں سے لپٹا ہوا ،قدم قدم پر تھیں رکاوٹیں اور گام گام پر تھیں الجھنیں......پھر بھی یہ سلسلہ کبھی اُفتاں و خیزاں اور کبھی کشاں کشاں رواں دواں رہا ۔دہشت گردوں سے مذاکرات کے سراب میں منزلِ مقصود کی راہ کا نشان آنکھوں سے اوجھل تھا ۔ اب نظر اٹھا یئے ،سامنے دیکھئے ...... نہ صر ف کہ نشانِ منزل کی پہچان پڑتی ہے بلکہ خود منزل بھی دور کہاں !

وزیر اعظم نے لاہور میں اخبارات کے مدیران کی تقریب میں باتیں کیا کیں ...... باتوں باتوں میں باغ لگا دیا ۔قول کہا جا چکا ،اب فعل ہو اور عمل میں ڈھل ڈھل جائے تو بگڑی بن بن جائے ۔سب باتیں بجا ،سب کہا سُنا رَوا...... لمحہ بھر کو تو ایسا لگا کہ حقیقت قریب سے قلب کو چھو کر گزر گئی ہو ،جیسے مسیحا نے مریض پر ہاتھ رکھ دیا ہو ،جیسے ستا روں کے جھرمٹ میں ماہتاب نکل آیا ہو۔مصیبت اور آفت یہ کہ وصال یا ر اگر فقط آرزو ہی کی بات ہوتی تو میر کی غزل کا رنگ اور مومن کی شاعری کا آہنگ کچھ اور ہوتا ۔

سو سوالوں کا ایک سوال یہ کہ کراچی میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے ملزموں کو واقعی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا ؟ سندھیوں کے پُرکھوں کی نشانی اور مجید نظامی کے ’’مرد حر‘‘ ان دونوں سے اس کارِخیر کی توقع عبث اور خیال خام ہے ۔بنیادی و جوہری طور پر تو یہ ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اس نے یہ کام یزداں پر چھوڑ رکھا ہے کہ کچھ بھی ہو آبگینوں کو ٹھیس نہیں لگنی چاہیے۔غضب خدا کابھتہ کے لئے سینکڑوں انسان زندہ جلا دیئے گئے ،مگر پھر بھی سب زبانیں گنگ ،ضمیر مردہ اور ریاستی عملداری بے حسی کی چادر اوڑھے سوئی رہی ۔کراچی میں قتل وغارت اور ٹارگٹ کلنگ پر تو سب آوازیں بے اثر ہو گئیں جو سنائی دیتی ہیں ،تمام فکریں اور عبرتیں ڈوب گئیں جن سے دل بے قرار ہو تے اور روحیں تڑپتی ہیں۔ جو کچھ کہا گیا اور کہا جا رہا سب لاحاصل ،جو کچھ کیا گیا اور جو کیا جا رہا سب بیکار ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو جو ہو چکا اور جو ہو رہا ،وہ تو ایسا ہے کہ اندھے بینا ہو جاتے ،لنگڑے چلنے لگتے،بہروں کی چیخوں سے دنیا دہل جاتی اور کمزوروں کے ہاتھ شیروں کے پنجوں کی طرح قوی ہو جاتے ۔

میڈیا کاروبار اور ریٹنگ چھوڑ کر قومی ایکشن پلان پر خیر حکومت کا ساتھ تو یقیناًدے گا ہی ،کیا پھر دہشت گردوں کے سہولت کاروں اورمعاونت گاہوں کے خلاف بھی ضربِ عضب ایسا آپریشن کیا جائے گا ؟ قصاص گو اور سادہ لوح مبلغوں اور واعظوں کی مانند قصہ گو کالم نویسوں اور فسانہ نما میزبانوں نے بھی پاکستان کو دہشت گردی کی جہنم میں جھونکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔بہت سے سرکاری ملازمت کا مزہ لوٹنے کے ساتھ ساتھ کالم کی آڑ اور اوٹ میں دہشت گردوں کے لئے آج بھی نرم گوشہ پیدا کرنے میں غلطاں و پیچاں ہیں ۔ رات گئے مقدس کتابوں سے ضعیف الاصل ایسے حوالے تلاش اور تراش کر یہ لوگ صبح اخبارات کے ادارتی صفحات میں گوٹے کنارے لگا کر ٹانک دیتے ہیں ۔کیا میڈیا کسی ضابطہ اخلاق کے تحت خود ہی ان کا محاسبہ و محاکمہ کرے گا ؟

وزیر اعظم کی تقریر کا سب سے اہم اور خاص ٹکڑا اور نکتہ وہ تھا، جو انہوں نے نرم و ملائم سا شکوہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ دھرنوں کے دوران میڈیا کے بعض اداروں نے منفی کردار اداکیا ۔انتہائی سنگین و تلخ حقیقت اور شدید کرب کو انہوں نے جس طرح ہلکی پھلکی شکایت میں پیش کیا ........ وہ انہی کا خاصہ ہے ۔اختیار و اقتداربھی ہو اور طاقت و قوت بھی .....پھر بھی انسان رعونت و تمکنت کا اظہار نہ کرے تو کیا کہئے ؟ شعور کی علامت یا جبری جلا وطنی میں صبر و توکل کی عنایت !

ہر گز ہرگز کوئی کلام نہیں کہ دھرنوں کے دوران متعدد من پسند صحافتی سورماؤں نے کھل کر کھیل کھیلا ۔تبصرہ و تجزیہ اور کالم کو تو چھوڑیئے کہ اس میں ذاتی آراء کا ہونا باعثِ تعجب نہیں ،دہائی خدا دی خبر میں بھی ڈنڈی ماری گئی ۔جان بوجھ کر اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر خبر کے ایسے گوشوں کواجاگر کیا گیا ،جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا ۔حقائق سے ہٹ کر جی چاہتی سرخیاں جمائی گئیں کہ سونامیوں او ر انقلابیوں کو ولولہ تازہ ملے ۔کئی تو ایسے نکلے کہ روز دھرنوں کے کرتا دھرتا کی بلائیں لیتے رہے ،صفحہ اول پر گز گز بھر لمبے بیانات شائع کر کے تخت اچھالنے اور تاج گرانے کا تاثر تخلیق کیا گیا ۔بعضے تو آج بھی ہر روز کالم میں لکھتے نہیں تھکتے کہ ......... دھرنوں کے بعد نواز شریف اسمبلی کا راستہ بھول گئے ہیں ۔جی نہیں ! وہ اسمبلی کا راستہ بھولے ہیں یا نہیں ،البتہ آپ کا نام ضرور بھول گئے ہیں ۔سچی بات کہ یہ ان کے دل کی ناراضگیاں ہیں جو چھپائے نہیں چھپتیں۔’’ درد اٹھ اٹھ کے بتاتا ہے ٹھکانہ دل کا‘‘۔کسی کو ٹکٹ نہیں ملا ،کسی کو ملنے کا ٹائم نہیں ملا ،کسی کو صلہ نہیں ملا ،کسی کو منصب نہیں ملا اور بہتوں کو دسترخوان اور دل ویسا کشادہ نہیں ملا۔بس پھر کیا دنیا بھر کی خامیاں شریف برادران میں در آئیں ۔ چلئے چھوڑیئے چلتے چلتے میر تقی میر کا شعر سنئے اور سر دھنیے:

چلتے ہو تو چمن کو چلئے ،سنتے ہیں کہ بہاراں ہے

پھول کھلے ہیں ،پات ہرے ہیں ،کم کم بادو باراں ہے

مزید : کالم


loading...