بھارت میں ریپ کے ملزم سے متاثرہ لڑکی کی شادی

بھارت میں ریپ کے ملزم سے متاثرہ لڑکی کی شادی

  



  نئی دہلی (آئی این پی)بھارت کی شمالی ریاست اوڑیسہ میں ریپ کے ملزم سے متاثرہ لڑکی کی شادی کردی گئی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست اوڑیسہ میں ایک لڑکی نے اس شخص کے ساتھ شادی کی ہے جس پر اس نے مبینہ طور پر ریپ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔لڑکی کے خاندان کے مطابق ان کے پاس اس کے علاوہ ’کوئی اور چارہ نہیں‘ تھا۔لڑکی کے والد نے بتایا کہ ان کا خاندان ضمانت پر رہا ہونے والے ملزم کے خلاف دائر درخواست واپس لینے پر سوچ رہا ہے۔اس سے قبل اس لڑکی نے بتایا تھا کہ شادی ان کی مرضی سے ہو رہی ہے۔ریپ اور دیگر جنسی جرائم جیسے موضوعات پر بھارت میں اب بھی کھل کر بات نہیں کی جاتی۔متاثرین کے لیے شادی کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور ان پر اکثر اوقات یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ ریپ کی ذمہ دار بھی وہ ہی ہیں۔ اس کے ساتھ شادی کرنے کا فیسلہ میرا اپنا ہے۔ ہمارے ماں باپ بھی اس پر راضی ہیں۔ میں پر امید ہوں کہ ہماری زندگی اچھی گزرے گی لڑکی کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس اپنی بیٹی کی شادی مبینہ طور پر ریپ کرنے والے مرد کے ساتھ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ان کا کہنا تھاکہ اس کی ساری زندگی برباد ہو جاتی اور ہمیں تمام عمر اس شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔‘شادی کی یہ تقریب 28 جنوری کو اوڑیسہ کے دارالحکومت بھوبنیشور میں واقع جھاڑپڑا جیل میں ادا کی گئی جہاں یہ مرد گذشتہ سال کے شروع میں ریپ کے الزام میں قید ہے۔ایک جج نے الزام عائد کرنے والی لڑکی اور ملزم کی درخواست پر جیل حکام کو شادی کی اس تقریب کے انعقاد کے حکم دیا تھا۔ دسمبر 2012 میں دہلی میں ایک بس میں گینگ ریپ کے واقعے سے اس مسئلے کے بارے میں عوامی غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے اور کئی روز تک جاری رہنے والے عوامی احتجاج کے بعد ریپ کے جرم میں زیادہ سخت قانون سازی کی گئی تھی۔

مزید : عالمی منظر


loading...