جرمنی،ہٹلر کے ایس ایس دستوں سے تعلق رکھنے والے 93 سالہ سابقہ فوجی پر فرد جرم عائد

جرمنی،ہٹلر کے ایس ایس دستوں سے تعلق رکھنے والے 93 سالہ سابقہ فوجی پر فرد جرم ...

  



 بر لن(آن لائن)جرمنی کی ایک عدالت نے نازی دور میں ہٹلر کے ایس ایس دستوں سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے 93 سالہ سابقہ فوجی کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی ہے، جس پر ایک لاکھ ستر ہزار افراد کے قتل میں مجرمانہ مدد کا الزام ہے۔جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس سابقہ نازی فوجی پر الزام ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران، جب پولینڈ پر نازی جرمنی کا قبضہ تھا، آؤشوِٹس کے اذیتی کیمپ کے ایک محافظ کے طور پر وہ قریب پونے دو لاکھ انسانوں کے قتل میں معاونت کا مرتکب ہوا تھا۔جرمن شہر ڈَیٹمولڈ میں ایک صوبائی عدالت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس نازی جنگی ملزم نے، جس کا نام عدالت نے ذاتی کوائف خفیہ رکھے جانے سے متعلق مروجہ جرمن قوانین کی روشنی میں ظاہر نہیں کیا۔ جنوری 1943ء سے لے کر جون 1944ء4 تک آوشوِٹس کے بدنام زمانہ اذیتی کیمپ میں گارڈ کے فرائض انجام دیے تھے۔اس وقت اس نازی ملزم کی عمر 93 سال ہے اور اس پر الزام ہے کہ وہ نہ صرف آؤشوِٹس ون نامی اذیتی کیمپ میں فرائض انجام دیتا رہا ہے بلکہ وہ اسی کیمپ کمپلیکس کے آؤشوِٹس بِرکیناؤ نامی اس حصے میں بھی بطور نگران متعین رہا تھا جہاں زیادہ تر یہودیوں پر مشتمل نئے قیدیوں کو لایا جاتا تھا۔نازی جرمن دور کے مقبوضہ پولینڈ میں آؤشوِٹس ون اور آؤشوِٹس بِرکیناؤ اس اذیتی کیمپ کے وسیع تر کمپلیکس کا حصہ تھے، جہاں چند ہی برسوں میں مجموعی طور پر قریب گیارہ لاکھ انسانوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر مختلف یورپی ملکوں سے تعلق رکھنے والے یہودی تھے۔ملزم کے وکیل صفائی یوہانَیس سالمن کے مطابق اس کا مؤکل یہ اعتراف تو کرتا ہے کہ وہ نازی دور میں ہٹلر کے SS دستوں کے ایک رکن کے طور پر آؤشوِٹس ون نامی کیمپ میں متعین رہا تھا تاہم وہ اپنے خلاف ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ نازی گارڈ کے طور پر اپنے فرائض کی انجام دہی کے عرصے میں آؤشوِٹس بِرکیناؤ کے کیمپ میں بھی تعینات رہا تھا یا اس نے وہاں لاکھوں انسانوں کے قتل میں کسی بھی طرح حصہ لیا تھا۔جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ وفاقی صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر ڈَیٹمولڈ کی ایک صوبائی عدالت میں استغاثہ کی طرف سے ملزم کے خلاف جو دستاویزات جمع کرائی گئی ہیں، ان کے مطابق محض قریب 18 ماہ کے عرصے میں ملزم ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد قیدیوں کے قتل میں معاونت کا مرتکب ہوا تھا۔ڈی پی اے کے مطابق استغاثہ نے فرد جرم عائد کیے جانے کے وقت عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ملزم کس حد تک قصور وار ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مبینہ طور پر اس سلسلے میں پوری طرح باخبر تھا کہ آؤشوِٹس میں یہودیوں اور دیگر قیدیوں کے قتل عام کے لیے کیا طریقے اختیار کیے جاتے تھے۔

مزید : عالمی منظر


loading...