قومی سلامتی اور میڈیا

قومی سلامتی اور میڈیا
قومی سلامتی اور میڈیا

  



پاکستانی اخبارات و جرائد کے مدیران کی نمائندہ تنظیم سی پی این ای کہلاتی ہے، جس کے چیئرمین پاکستان کے سینئر صحافی، مدیر، تجزیہ نگاراور کالم نگار مجیب الرحمان شامی ہیں۔ 14فروری کو سی پی این ای کا سالانہ اجلاس لاہور کے رائل پام کلب میں منعقد ہوا، جس کے مہمان خصوصی وزیراعظم میاں محمد نوازشریف تھے۔ اس اجلاس میں ملک کے تمام اہم مدیران اور صحافی خواتین و حضرات موجود تھے۔ اجلاس میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور چیئرمین سی پی این ای مجیب الرحمان شامی نے انتہائی اہم خطابات کئے۔ ملک کو درپیش مسائل اور خطرات کے پیش نظر اس وقت ملک بہت مخصوص حالات سے گزر رہا ہے۔ مَیں نے اجلاس کے دوران تمام مقررین کی باتیں انتہائی غور سے سنیں ،کیونکہ ملک میں موجود حالات سخت سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ قومی سلامتی میں پاکستان کے ہر شہری کو اپنے اپنے رول اور اہمیت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، لیکن میڈیا ایک ایسا شعبہ ہے جس کا قومی سلامتی کے معاملے میں براہ راست اہم کردار ہے۔ یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ مجموعی طور پاکستان کا میڈیا اپنی ذمہ داریاں بہت احسن طریقے سے نبھا رہا ہے اور اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے خوش گوار انداز میں، لیکن انتہائی سنجیدگی سے ملک کو درپیش حالات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے میڈیا کو ایک بار پھر یاد دلایاکہ ملک کو درپیش حالات میں میڈیا اپنا کردار اور زیادہ توجہ سے ادا کرے۔ آج کل میڈیا کی اہمیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ ملکی دفاع میں یہ فرسٹ لائن آف ڈیفنس کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے اپنے خطاب میں یہ بات زور دے کر کہی کہ قومی سلامتی کے امور پر میڈیا دانشمندی سے رپورٹنگ کرے۔ اگر ملک حالت جنگ میں ہو، لیکن ملک میں موجود کچھ عناصر افراتفری میں اضافہ کر رہے ہوں تو اسے بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ جاری ہے۔ اس جنگ کے دوران کچھ سیاسی عناصر نے افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن عوام کی غالب اکثریت نے اس افراتفری کی سیاست کوپسند نہیں کیا اور اس سے دور رہے۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے میڈیا کو ایک بار پھر یاد دلایا کہ اسے کاروبار اور ریٹنگ کو بھول کر نیشنل ایکشن پلان پر حکومت کا ساتھ دینا چاہیے، کیونکہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس ایکشن پلان پر متحد اور یکسو ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے سی پی این ای پر زور دیا کہ وہ میڈیا کی خود احتسابی کے لئے ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کے لئے سنجیدگی سے کام کرے۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے دھرنوں کے موقع پر بعض میڈیا ہاؤسز کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر ان کا کردارقابل ستائش نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ میڈیا کی آزادی کے بڑے علمبردار ہیں، تاہم میڈیا کو بھی حکومتی امور پر غیر ضروری تنقید، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی اور بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے صحافتی اداروں میں ایسے نظام کی حمایت کی جو آئین اور قانون کے خلاف چلنے والوں کا محاسبہ کرسکے۔

مَیں بہت سنجیدگی سے سوچتا رہا کہ ان کا یہ کہنا کس قدر درست اور وقت کی ضرورت ہے کہ میڈیا دو سال کے لئے اپنے کاروبار اور ریٹنگ کو بھلا کر نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کے لئے سیاسی اور عسکری قیادت کا ساتھ دے۔ ملک کے حالات نارمل ہو جانے کے بعد ہر کوئی اپنی دوسری خواہشات کی تکمیل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، لیکن ابھی ملک کی خاطر ایسی تمام باتوں کو کم از کم دو سال کے لئے موخر کر دینا چاہیے، ملک سلامت ہوگا تو سیاست بھی ہوتی رہے گی اور کاروبار بھی ہوتا رہے گا۔ مَیں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی تقریر سے اس لئے بھی بہت متاثر ہوا کہ نہ صرف یہ وقت کا تقاضا ہے، بلکہ انہوں نے انتہائی شائستگی سے میڈیا کو پیار کی تھپکی کے انداز میں وارننگ بھی دے ڈالی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے میڈیا کو آفر بھی کر ڈالی کہ انہیں حکومت سے جو بھی تعاون درکار ہے ،وہ انتہائی فراخدلی سے مہیا کیا جائے گا۔

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے اپنی تقریر میں ملک کودرپیش تمام مسائل اور چیلنجوں کا ذکر کیا اور انہیں حل کرنے کے لئے حکومتی کوششوں کی تفصیل بھی بتائی ، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حکومت کی نہ صرف میڈیا کے کردار پر گہری نظر ہے، بلکہ وہ اسے درپیش مسائل کا ادراک اور انہیں حل کرنے کے لئے بہترین جذبات بھی رکھتی ہے، اس میں صحافیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے پانچ کروڑ روپے کی خطیر رقم سے انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کی مثال بھی دی جا سکتی ہے۔ بات بہت سیدھی سی ہے، ملک ہے تو سب کچھ ہے، کاروبار بھی ہے، سیاست بھی ہے اور تنقید و توصیف بھی ہے۔ آج کے حالات کا تقاضا ہے کہ میڈیا سمیت پوری قوم اپنے اختلافات بھلا کر ملک کی کشتی کو بھنور سے نکالنے میں یکسو ہو جائے، کیونکہ باقی تمام چیزیں تو ہوتی رہیں گی، ملک بچانا سب سے ضروری ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی تقریر سے پہلے سی پی این ای کیصدر جناب مجیب الرحمان شامی نے ان تمام حالات کا بہت خوبصورتی سے احاطہ کیا جو وطن عزیز کو بالعموم اور میڈیا کے شعبے کو بالخصوص درپیش ہیں۔ ان مسائل ،خاص طور پر پاکستان کے دستور کے ساتھ کھیلے جانے والے کھلواڑوں کا انہوں نے بہت تفصیل سے ذکر کیا، جن کی وجہ سے آج ہم اس حال کو پہنچے ہیں۔ قومی سلامتی اس وقت ملک کا اہم ترین چیلنج ہے اور فرسٹ لائن آف ڈیفنس کی حیثیت میں میڈیا کا کردار اس میں سب سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔

مزید : کالم