ہیکرز امریکہ اور یورب کے بینکوں سے ایک ڈالر ارب لے اڑے

ہیکرز امریکہ اور یورب کے بینکوں سے ایک ڈالر ارب لے اڑے

  



 نیویارک(آن لائن) دنیا کی سب سے بڑی سائبر واردات میں ہیکرز نے 30 ممالک کے 100 بینکوں سے ایک ارب ڈالر سے زائد رقم چرالیے ہیں . روسی سکیورٹی کمپنی کے مطابق ہیکرز نے امریکا اور یورپ کے مختلف بینکوں سے ایک ارب ڈالر چوری کیے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے یہ سائبر حملے روس، جرمنی، امریکا، چین، یوکرین اور کینیڈا سمیت 30 ممالک کے 100 سے زائد بینکوں پر کیے گئے اور ان سے ایک ارب ڈالر چرائے گئے۔ یعنی ہر بینک سے تقریبا 10ملین ڈالر کی رقم چوری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ان حملوں کے پیچھے روس، یوکرین اور چین سے تعلق رکھنے والے ہیکرز کا ہاتھ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیکرز نے ان سائبر حملوں میں صارفین کی معلومات چرانے کے بجائے براہ راست انہیں رقم سے محروم کیا ہے۔اْدھر روس کے اینٹی وائرس سوفٹ وائر بنانے والے ادارے کا کہنا ہیکہ اسے 30 ممالک میں ایسی کمپیوٹر ہارڈڈرائیوز ملی ہیں جن میں جاسوسی کے پروگرامز انسٹال کئے گئے ہیں۔ یہ پروگرامز ہارڈ ڈرائیو فارمیٹ کرنے پر بھی موجود رہتے ہیں اور ہر بار کمپیورٹر ان کرنے پر از خود کام کرنے لگتے ہیں۔ روسی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ہارڈڈرائیوز روس، پاکستان ،افغانستان، چین، مالی، شام، یمن اور الجیریا میں پائی گئی ہیں۔کیسپرسکی کا کہنا ہے کہ ہیکرز کو پکڑنے کے لئے انٹرپول اور یورو پول کی مدد لی جا رہی ہے۔ واضع رہے کہ ہیکرز کمپیوٹر پروگرامنگ کے ماہر ہوتے ہیں اور وہ کسی بھی سسٹم یا نیٹ ورک کی سکیورٹی میں موجود خامی ڈھونڈ کر اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہیکرز دنیا بھر میں کمپیوٹر سسٹمز کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے ہیک کرتے ہیں۔ ان کا مقصد یا تو کسی کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے یا پھر انکا ڈیٹا چوری کرکے اس سے پیسے کمانا۔ اسی طرح یہ ہیکرز ویب سائیٹس اور کریڈٹ کارڈ وغیرہ کی معلومات بھی چوری کرتے ہیں۔ دنیا کے کم و بیش تمام ممالک میں بلیک ہیٹ ہیکرز کو ناپسند کیا جاتا ہے اور قانون میں انکے لیے سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔روسی سوفٹ وئیر بنانے والے ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارہ کمپیوٹر ہارڈ ڈرائیوز میں جاسوسی کے پروگرامز انِسٹال کررہا ہے۔یہ ہارڈ ڈرائیوز پاکستان میں بھی پائی گئی ہیں۔روس کے اینٹی وائرس سوفٹ وائر بنانے والے ادارے کا کہنا ہے کہ اسے 30 ممالک میں ایسی کمپیوٹر ہارڈڈرائیوز ملی ہیں ، ادارے نے اس منصوبے کو شروع کرنے والے ملک کا نام نہیں بتایا تاہم یہ واضح کیا ہے کہ جاسوسی کے یہ پروگرام،امریکی ادارے این ایس اے کے بنائے گئے ایک کمپیوٹر وارم سے قریب ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...