بھارتی گجرات میں مسلم کشی کے ذمہ دار مودی

بھارتی گجرات میں مسلم کشی کے ذمہ دار مودی
بھارتی گجرات میں مسلم کشی کے ذمہ دار مودی

  



بھارتی ریاست گجرات کے ضلع بنساکانتھا کی مقامی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج وی کے پوجارا نے عدم ثبوت کی بنیاد پر 14 مسلمانوں کے قتل عام میں گرفتار 70 ملزمان کو بری کر دیا۔ ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر ڈی وی ٹھاکر کے مطابق واقعے کے 109 عینی شاہدین اپنے بیانات سے منحرف ہو چکے ہیں اور ٹرائل کے دوران انہوں نے واقعہ میں ملوث ملزمان کا نام نہیں لیا ،جبکہ وہ درخواست گزار کی اس کیس میں مدد بھی نہیں کر رہے۔ واقعے میں ملوث قرار دیئے جانے والے 8 ملزمان ٹرائل کے دوران مر چکے ہیں، جبکہ اس کیس کے دوران 12 سپلیمنٹری چارج شیٹس بھی دائر کی جاچکی ہیں۔ مارچ 2002ء میں پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر دو ہندوؤں کے قتل کے خلاف جاری پُرتشدد احتجاج کے دوران ایک گاؤں میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔ 2 مارچ 2002ء کو 5 ہزار مسلح افراد کے ایک گروہ نے صبرماٹی ایکسپریس کو آگ لگانے کے بعد مذکورہ گاوں پر حملہ کر کے بلوچ مسلم کمیو نٹی سے تعلق رکھنے والے 14 افراد کو،جن میں بچے بھی شامل تھے کو، قتل کر دیا تھا۔ اس سے قبل 5 فروری کو گجرات میں قائم سی بی آئی کی عدالت نے 2004ء میں 3 مسلمان طلبہ کو جعلی مقابلے میں قتل کرنے والے پولیس آفیسر پی پی پانڈے کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

بھارتی وزیرنے کہا ہے کہ گجرات فسادات میں نریندر مودی کو کلین چٹ نہیں ملی۔ مودی کو بری کرنے والی خصوصی ٹیم کی رپورٹ کو عدالت میں چیلنج کردیا گیاہے، جبکہ بہوجن سماج وادی پارٹی کی رہنما مایاوتی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد دوبارہ مسلمانوں کی نسل کشی شروع ہوسکتی ہے۔

بھارت کی ریاست گجرات میں فروری اور مارچ 2002ء میں ہونے والے یہ فرقہ وارانہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب ریل گاڑی میں آگ لگنے سے 59 انتہاپسند ہندو ہلاک ہو گئے۔ اس کا الزام مسلمانوں پر لگایا گیا، اور گجرات میں مسلمانوں کے خلاف یہ فسادات گجرات کی ریاستی حکومت کی درپردہ اجازت پر کئے گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ مسلمانوں کی نسل کشی تھی۔ اس میں تقریباً 2500 مسلمانوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا یا زندہ جلا دیا گیا۔ سینکڑوں مسلمان خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ہزاروں مسلمان بے گھر ہوئے۔

ان فسادات کو روکنے کے لئے پولیس نے کوئی کردار ادا نہ کیا ،بلکہ گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ مودی نے اس قتل و غارت کی سرپرستی کی۔اس وقت کی بھارت کی وفاقی حکومت، جو بی۔جے۔پی۔ پارٹی کی تھی، نے بھی گجرات میں فسادات روکنے کی کوشش نہیں کی۔اب تک کسی ہندو کے خلاف عدالتی کارروائی نہیں کی گئی۔ یورپی یونین نے اس نسل کشی پر کھلے عام احتجاج کرنے سے گریز کیا، یہی طرز عمل امریکہ کا بھی رہا۔ اب بھی مسلمان اس ریاست میں مہاجروں کی طرح رہ رہے ہیں، اور دوسرے درجے کے شہری سمجھے جاتے ہیں۔ نریندر مودی حکومت 2002 ء گجرات فسادات کو بڑھاوا اور ہوا دینے کی ذمہ دار ہے، جبکہ کانگریس حکومت نے 1984 ء میں فسادات کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے کہاکہ حقیقت تو یہ ہے کہ 1984ء میں بے قصور لوگ مارے گئے ، اس طرح وحشت ناک انداز میں لوگوں کی موت نہیں ہونی چاہئے تھی، لیکن گجرات اور 1984 ء کے واقعات میں فرق یہ ہے کہ ان فسادات میں حکومت گجرات ملوث رہی۔ جب گجرات فسادات ہوئے ،اْس وقت نریندر مودی چیف منسٹر تھے ، حکومت گجرات درحقیقت فسادات کو مزید ہوا دے رہی اور معاونت کررہی تھی۔

نریندر مودی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2002ء میں گجرات کے وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجودہندوؤں کی جانب سے بلوے کے دوران نگاہیں چرائے رکھیں۔گجرات میں مسلمانوں کے خلاف یہ فسادات گجرات کی ریاستی حکومت کی درپردہ اجازت پر کئے گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ مسلمانوں کی نسل کشی تھی۔ ہندو بلوائیوں کے لئے مسلمانوں کا قتل انتقام نہیں، بلکہ کھیل کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ ریاستی پولیس موجود تھی ،لیکن بالکل لاتعلق۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ مسلمانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مارا جا رہا ہے۔ یہ شیطانی کھیل تین راتیں اور تین دن تک جاری رہا۔ ہندو دہشت گردوں سے معصوم بچے یا بوڑھے کوئی بھی محفوظ نہیں تھا۔ بہت سے بچوں اور عورتوں نے چھتوں سے ہندو ہمسائیوں کے گھروں میں کود کر پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن ہمسائیوں نے انتہائی بے رحمی سے انہیں ہندو دہشت گردوں کے حوالے کر دیا۔یہاں تک کہ ہزاروں مسلمانوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر حکومت کی طرف سے بنائی گئی پناہ گاہوں میں پناہ لینی پڑی۔یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف پُرتشدد واقعات سب سے زیادہ گجرات ہی میں پیش آتے ہیں۔ یہ سلسلہ کئی سال سے جاری ہے۔

مزید : کالم