ملک عبداللہ بن عبدالعزیزؒ کے دینی اور ملی زریں کارناموں پر نظر

ملک عبداللہ بن عبدالعزیزؒ کے دینی اور ملی زریں کارناموں پر نظر
ملک عبداللہ بن عبدالعزیزؒ کے دینی اور ملی زریں کارناموں پر نظر

  



اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورۃ الرحمن میں ارشاد فرمایا ہے (کل من علیھا فان) کہ ہر کوئی فنا ہو جائے گا صرف اللہ ذوالجلال کی ذات ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والی ہے،چنانچہ اس نظام فناء و بقا اور موت و حیات کے تحت مخلوق کی ہر چیز اپنے اپنے وقت پر دار فنا سے دار بقا کی جانب رواں دواں ہے، اس میں انبیائے کرام، صحابہ کرامؒ و اولیائے عظامؒ ، امیر اور غریب، رعایا اور بادشاہ سب شامل ہیں، کوئی بھی مستثنیٰ نہیں ہے، اسی نظام کے تحت سر زمین مقدس سعودی عرب کے حکمران خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز 91 برس کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔۔۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

شاہ عبداللہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خوبیوں اور محاسن سے خوب نواز تھا اور زندگی کے مختلف مراحل میں انہوں نے اس کا کمال مظاہرہ بھی کیا تھا۔ سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی کے دوش بدوش عالمِ اسلام کے اُلجھے مسائل حل کرنے اور ان کی مادی امداد کے لئے ہر وقت کمر بستہ اور مستعد رہتے تھے۔ حرمین الشرفین کی توسیع و تزئین کے سلسلے میں ان کے اقدامات لائق ستائش و آفرین ہیں، انہوں نے اپنی خاندانی روایت اور اپنے مرحوم بھائیوں کے زریں اقدامات کو ہی کافی نہ سمجھا، بلکہ مملکتِ اسلامیہ سعودی عرب کی ہمہ جہت ترقی و خوش حالی بالخصوص حرمین الشریفین کی حیران کن توسیع، عازمین حج و عمرہ کی سہولت اور ان کی روز افزوں آمد کے انتظامات کے سلسلے میں تسلی بخش اور سکون افزاد جو کارنامے انجام دیئے ہیں، ان کا مشاہدہ کر کے ہر شخص شاہ عبداللہ کی خدمات کے اعتراف میں دعائیہ کلمات کے ساتھ رطب اللسان ہے۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ کے دورِ حکومت میں مناسک حج و عمرہ ادا کرنے والوں کی سہولت اور آسائش کے لئے جدہ ایئرپورٹ سے لے کر مکہ معظمہ و مدینہ منورہ تک آرام دہ سفر کی سہولتوں کی فراہمی، مکہ شہر میں کئی کئی منزلہ عمارتوں کی تعمیر، منیٰ میں پانچ منزلہ ’’رمی جمار‘‘ (کنکریاں) مارنے کی سہولت، منیٰ اور عرفات کے درمیان ریل گاڑی کا اجراء، نیز جدہ، مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ تک ریل گاڑی کے اجراء کا منصوبہ بھی زیر تعمیل ہے، طواف کرنے والی عورتوں اور معذوروں کے لئے دو منزلہ تعمیر، سعی کنندگان کے لئے دو رویہ کشادہ راستے، مسجد الحرام اور مسجد نبویؓ کے بیرونی صحن میں چھتریوں کی تنصیب اور مسجد نبویؐ میں زمزم کی فراہمی کا نظام خصوصاً قابل ذکر ہے۔خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے ان زریں کارناموں میں مسجد الحرام مکہ مکرمہ اور مسجد نبویؐ مدینہ منورہ کی اندرونی توسیع و تزئین کے ساتھ ان مساجد کے بیرونی صحن میں بھی ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن سے حجاج و معتمرین اور مقامی باشندوں کے لئے عبادات کی خاطر خواہ سہولتیں میسر آ جائیں، مسجد الحرام میں باب الفتح کے اندرونی حصے میں توسیع کے ساتھ ساتھ اس کے باہر ’’سوق اللیل‘‘ (چھتہ بازار) اور باب العمرہ سے باہر محلہ شامی کی ’’جنۃ المعالیٰ‘‘ کی تعمیرات ختم کر کے وہاں پر حجاج کرام کی بلند و بالا رہائش گاہیں تعمیر کر دی گئی ہیں۔

محلہ شامیہ اور شارع ابراہیم خلیل اللہ پر واقع پہاڑ ختم کر کے وہاں بھی نئی تعمیرات کی گئی ہیں، اس طرح حجاج و معتمرین کو حرم شریف کے قریب رہائش گاہیں میسر آ سکیں گی، علاوہ ازیں شاہ عبداللہ نے سعودی عرب میں کئی نئے اصلاحی اقدامات بھی کئے، جن کے مطابق غیر مسلم پروپیگنڈا بازوں کے منہ بند کر دیئے ہیں، حتیٰ کہ ذرائع ابلاغ (میڈیا) کو بھی آزادی ہے کہ وہ حکومتی اقدامات کی بابت مثبت اور مفید تجاویز کے ساتھ تنقید بھی کر سکتے ہیں، غرضیکہ ملت اسلامیہ کے وسیع تر مفادات کی خاطر سعودی حکمرانوں نے ایسے ایسے اچھے قدم اٹھائے اور اسلامی ملکوں کی معیشت مستحکم کرنے کے سلسلے میں کسی نوعیت کی غفلت اور بے توجہی یا بخل سے کام نہیں لیا، بلکہ کھلے دل اور کشادہ دستی کا مظاہرہ کر کے اُخوت اسلامی کی شاندار روایات قائم ہیں۔ اُنہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے کثیر اخراجات کے ساتھ عالی شان مساجد تعمیر کی ہیں، شاہ عبداللہ نے اسلام کی بابت غیر مسلموں کے گمراہ پروپیگنڈے کا مسکت جواب دینے کے لئے مکالمہ بین المذاہب کے اقدامات کئے اور سیرت النبیؐ کی تعلیمات کے لئے سیرت ایوارڈ بھی عطا کئے ہیں، بعض مقامات پر خطباء دائمہ کرام بھی مقرر کئے ہیں، اور نئی مساجد کی تعمیر کے ساتھ کتاب و سنت کی تعلیم اور تحقیق کے ادارے قائم کر کے لوگوں کے لئے صحیح اسلامی افکار و عقائد کے وسائل فراہم کئے ہیں۔

بادشاہوں کا ’’قبرستان العود‘‘

خدام الحرمین الشریفین سعودی حکمرانوں کی حتیٰ الوسع کوشش کتاب و سنت کا اتباع اور اسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کے لئے ہوتی ہے، اسی لئے وہاں پر جرائم کی سزائیں عموماً اسلامی احکام کے مطابق دی جاتی ہیں، چنانچہ اسلام سے بغاوت، فساد فی الارض کے ارتکاب، چوری، ڈاکے اور دیگر بڑے جرائم کی سزائیں گردن زدنی اور ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے سعودی سرزمین میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ سعودی حکمران محض دنیا کی زندگی اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے کوشاں نہیں، بلکہ آخرت کی حیات ابدی بھی ان کے پیش نظر رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ شاہی حکمرانوں میں کسی کی وفات کے بعد جہاں ان کی تدفین ہوتی ہے، اس قبرستان کا نام بھی ’’العود‘‘ رکھا گیا ہے، یعنی لوٹنے کی جگہ، تعلیمات نبویؐ میں ہی ارشاد ہے کہ میت کی تدفین کے وقت قبر میں ڈالتے وقت یہ قرآنی آیت کریمہ پڑھی جائے، جس کا ترجمہ ہے کہ اسی مٹی سے تمہیں پیدا کیا گیا، اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے (نعید کم) اور پھر اسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

بعض حضرات راقم الحروف سے اکثر یہ دریافت کرتے رہتے ہیں کہ سعودی حکمران اپنی میت کی تدفین (مدینہ منورہ) کے قبرستان جنت البقیع میں کیوں نہیں کرتے؟ یہ اس لئے کہ رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ کسی مسلمان کی جس مقام پر وفات ہو جائے، اسے اسی جگہ دفن کیا جائے۔ خدا نخواستہ سعودی حکمران اگر ’’عامل بالسنۃ‘‘ نہ ہوتے تو مقام وفات کی پوری آبادی کو بآسانی ہوائی جہازوں یا دیگر سواریوں کے ذریعے مدینہ منورہ میں شریک جنازہ کر سکتے اور جنت البقیع میں تدفین کی جا سکتی تھی، مگر وہ کتاب و سنت پر عمل کو ترجیح دیتے ہیں، چنانچہ اس سلسلے میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ(مدینہ منورہ میں میزبان رسولﷺ) کی مثال پیش نگاہ رہنی چاہئے کہ ان کی تدفین استنبول (ترکی) میں ہوئی تھی، جبکہ وہ آخری لمحات زندگی میں مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں تدفین کی وصیت کر سکتے تھے، جبکہ انہوں نے یہ وصیت کی کہ مجھے ترکی کے جس قلعہ کو فتح کرنے کے لئے مجاہدین اسلام برسر پیکار ہیں، اس کی دیوار کے ساتھ میری چارپائی لے چلو اور میری وفات پر وہیں تدفین ہو جانی چاہئے۔ ان کی قبر استنبول کے علاقے ابو ایوبؓ میں واقع ہے، علاوہ ازیں بہت سے صحابہ کرامؓ کی قبریں مختلف ممالک میں واقع ہیں۔ نہ عہد رسالت میں اور نہ ہی خلفائے راشدین کے دور میں کسی نے بھی مقام وفات سے مدینہ منورہ کے قبرستان میں دفن کی وصیت نہیں کی تھی۔

تدفین کے تذکرہے میں برصغیر پاک و ہند سے متعلق چند عظیم شخصیات کے سفری احوال بھی ملاحظہ کیجئے کہ دارالعلوم دیو بند کے بزرگ استاد مولانا میاں اصغر حسین صحبؒ جن کی للہیت کا اندازہ اس سے لگایئے کہ مرشدی شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کی خدمت میں جب دعا کی درخواست کی جاتی تو فرماتے کہ مَیں نے میاں اصغر حسین کی خدمت میں دعا کی درخواست کر دی ہے اور مستجاب الدعوات ہیں (ان شاء اللہ دعا قبول ہو گی) وہی میاں اصغر حسین صاحبؒ 1943ء میں بمبئی کے سفر سے واپسی پر دارالعلوم ڈابھیل ضلع سورت میں مرض الموت کی حالت میں تشریف لائے، یہ فقیران دنوں جامعہ ڈابھیل میں دورہ حدیث کا طالب علم تھا، وہاں پر میاں صاحب کی زیارت سے مشرف ہوا، انہوں نے وصیت کی کہ اگر دوران سفر ریل گاڑی میں میری موت واقع ہو جائے تو جس مقام پر گاڑی رک جائے، وہیں مجھے دفن کر دیا جائے، کیونکہ فرمان نبویؐ کے مطابق مسافرت کی موت بھی موجب نجات ہو گی، چنانچہ میاں صاحبؒ کو ڈابھیل سے سورت، پھر دریا کے باہر واقع شہر اندھیر لے جایا گیا اور وہیں میاں صاحبؒ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے، وہیں ان کی تدفین ہوئی، حالانکہ وہ دیو بند کے باشندے تھے۔

اسی طرح مفتی محمد حسن امرتسریؒ بانی جامعہ اشرفیہ لاہور بیمار ہوئے تو ڈاکٹروں نے بیمار ٹانگ کاٹنے کا فیصلہ کیا اور مفتی صاحب نے کہا کہ آپریشن کا عمل کریں، مَیں اللہ کے ذکر میں مشغول ہو جاؤں گا، چنانچہ پاکستان کی تاریخ میں بے ہوش کئے بغیر آپریشن کا یہ واحد نادر واقعہ ہے، بعد ازاں مفتی صاحب کراچی گئے تو وصیت کی اگر میری یہاں پر موت واقع ہو جائے تو مجھے لاہور نہ لے جانا، بلکہ کراچی میں ہی دفن کر دینا، چنانچہ ان کی تدفین کراچی میں ہوئی تھی۔بہر نوع، اس سلسلے کے اور بھی واقعات ہیں، یہاں پر تدفین اور سفر آخرت کا تذکرہ عبرت اور فکر آخرت کی ترغیب و ترہیب کے لئے ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اللہ کی ذات ہی کو علم ہے قیامت کب آئے گی؟ بارش کب اور کہاں ہو گی؟ مادرِ رحم میں جو کچھ ہے، وہی جانتا ہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ کل اس نے کیا کمانا، اور کیا کھانا ہے، اور زمین کے کس مقام پر اسے دفن کیا جائے گا (فی ای ارض تموت)

غرضیکہ خدام الحرمین الشریفین خاندان آل سعود پورے عالمِ اسلام میں منفردانہ محاسن و صفات کی شخصیات ہیں، وہ تمام مسلم ممالک کے مربی اور محسن ہیں، مسلمانوں کے مصائب اور مشکلات دور کرنے کے لئے ہمہ وقت مستعد ہوتے ہیں، شاہ عبداللہ کا سانحۂ ارتحالِ آخرت امت مسلمہ کے لئے شدید صدمے کا موجب اور ملت اسلامیہ کا نقصانِ عظیم ہے۔شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد ان کے بھائی سلمان بن عبدالعزیز مسندِ حکومت پر فائز ہوئے ہیں، آپ بھی اپنے مرحوم بھائیوں کی اسلامی روایات کے سچے امین اور اعلیٰ صلاحیتوں سے متصف شخصیت ہیں، ان کے تقوے، للہیت اور رجوع الی اللہ کا اس سے اندازہ لگایئے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر اوباما شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی فات کے بعد تعزیت کے سلسلے میں سعودی عرب گئے تو شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا، ابھی استقبالیہ تقریب جاری تھی کہ نماز کی اذان بلند ہو گئی، شاہ سلمان بن عبدالعزیز بزعم خویش مادی دنیا کے سپر پاور کے سربراہ کو وہیں چھوڑ کر اصل سپر پاور (احکم الحاکمین) کے حضور سجدہ ریز ہونے کے لئے مسجد کو چلے گئے تو دنیا نے اس ایمان افروز اقدام پر دادِ تحسین دیتے ہوئے اللہ اکبر کے نعرے بلند کئے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی نصرتِ خاص کے ساتھ ان کا دورِ حکومت با برکت و باسعادت بنائے، کامرانی سے سرفراز کرے، اور غیر مسلم اقوام کے شروروفتن سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

خدام الحرمین الشریفین کے پاکستان کے ساتھ برادرانہ گہرے تعلقات کا سلسلہ استوار ہے، نئے سعودی حکمران شاہ سلمان بن عبدالعزیز بھی حسب سابق پاکستان کی تمام نوعیت کی ضرورتوں کی تکمیل میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گے تاکہ دونوں ملک اخوت و محبت کے جذبے کے ساتھ استحکام و ترقی کی منازل خوش اسلوبی سے طے کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ملتِ اسلامیہ کی حامی و نصر اور محافظ ہے۔شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کو اللہ تعالیٰ جنت میں مقام علیین پر فائز کرے اور ان کی دینی، علمی اور ملی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین۔

مزید : کالم


loading...