کیانی پر غصہ کیوں؟

کیانی پر غصہ کیوں؟
کیانی پر غصہ کیوں؟

  



چودھری پرویز الٰہی کو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی پر غصہ نکالنا مہنگا پڑ گیا۔ دو روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں مسلم لیگ(ق) کے رہنما نے بڑے طمطراق سے سابق آرمی چیف پر سنگین الزامات لگائے تھے، اب وضاحتیں کرتے پھر رہے ہیں۔ یقینی طور پر حاضر سروس والوں نے اپنی ناپسندیدگی ظاہر کی ہو گی ،جسے نظرانداز کرنا کسی طور پر بھی ممکن نہیں تھا۔ اس سے قبل چودھری شجاعت حسین نے بھی ایک بار جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی پر بعض الزامات لگائے تھے۔ اگلے ہی روز ایسی چپ سادھنا پڑی کہ تاحال خاموش ہیں۔ حیرانگی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے باربار اپنے کندھے پیش کرنے کے لئے ہر دم تیار رہنے والے چودھریوں کو اتنی سی بات کی سمجھ نہیں جو اپنے یحییٰ خان جیسے متنازعہ سابق چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو بچانے کے لئے ایک مقبول جماعت کی حکومت کے ’’کڑاکے‘‘ نکال سکتے ہیں ،وہ ایک نسبتاً ’’نیک نام‘‘ سربراہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کی ذات پر حرف کیونکر آنے دیں گے۔

ہر بڑے آدمی کے ایک نہیں، بلکہ کئی ایک مخالف ہوتے ہیں۔ پاکستان میں آرمی چیف کا عہدہ ہی درحقیقت سب سے اہم عہدہ ہے۔ دوران سروس تو بشمول میڈیا کسی کو جرأت نہیں ہوتی کہ اس کی طرف انگشت نمائی کرے۔ ریٹائرمنٹ پر بھی مکمل تحفظ دیا جاتا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ بعض متاثرین کے دُکھ ہی اس قدر شدید ہوتے ہیں کہ ان کی چیخیں، سسکیوں میں تبدیل ہو کر لبوں تک آ جاتی ہیں۔ چودھری برادران بھی اپنے سابق آقا جنرل (ر) پرویز مشرف کی طرح جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے ہاتھوں بری طرح سے متاثر ہونے والوں کی صف میں شامل ہیں۔

یوں تو کئی حلقے یہ بات بھی وثوق سے کہتے ہیں کہ جب امریکہ اور برطانیہ نے جنرل پرویز مشرف پر واضح کیا کہ اب انہیں وردی ہر صورت میں اتارنا ہو گی، تو کوئی اور چارہ نہ پا کر پرویز مشرف نے ایک ایسا جانشین ڈھونڈنے کی کوشش کی جو مسلح افواج پر پرویز مشرف کی بالواسطہ گرفت برقرار رکھے۔ کہا جاتا ہے کہ پرویز مشرف کی اپنی چوائس تو لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید تھے۔ حالات نے مگر کچھ یوں پلٹا کھایا کہ قرعہ فال جنرل اشفاق پرویز کیانی کے نام نکل آیا۔ پرویز مشرف کو امریکہ سمیت بعض بیرونی ممالک نے پیپلزپارٹی کے ساتھ این آر او کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ کیسی مضحکہ خیز بات ہے کہ پرویز مشرف آج سینہ تان کر کہتے ہیں کہ این آر او ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ وہ غلط طور پر یہ تاثر دیتے ہیں ، جیسے محترمہ بینظیر بھٹو سے معاہدہ انہوں نے اپنی رضامندی سے کیا تھا۔ اگر ایسا تھا تو پھر امریکہ کی انتہائی بااثر اور ’’جنگجو‘‘ سیاہ فام وزیرخارجہ کنڈولیزا رائس کا اس معاملے میں براہ راست کردار کیوں تھا؟کونڈی نے تو ساری کہانی اپنی کتاب’’نو ہائر آنر‘‘ میں کھول کھول کر بیان کر دی ہے۔ برطانیہ کے جواں سال وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سارے معاملے کو کیونکر ڈیل کر رہے تھے؟ متحدہ عرب امارات والے معاہدے کی جزئیات کیسے طے کرا رہے تھے؟ این آر او دراصل جنرل (ر) پرویز مشرف کی مجبوری بن چکا تھا۔ وہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ کنڈو لیزا رائس اور ڈیوڈ ملی بینڈ کے احکامات کی سرتابی کا انجام کیا ہو سکتا ہے؟

27دسمبر 2007ء کو بینظیر بھٹو کو ان کے خدشات کے عین مطابق قتل کر دیا گیا۔ یہ واردات محض پاکستان ہی نہیں ،بلکہ دنیا کے کئی ممالک کے نزدیک ایک دھچکے سے کم نہیں تھی۔ افراتفری کے شکار ملک میں پرویز مشرف نے سیاسی فائدہ اٹھانے کی بھونڈی کوششیں جاری رکھیں۔ وردی اتارنے کے باوجود ان کوششوں میں لگے رہے کہ اقتدار بچانے اور عام انتخابات میں دھاندلی کرانے کے لئے پاک فوج اور خفیہ ایجنسیاں ان کا ساتھ دیں۔ 2008ء کے عام انتخابات کے موقع پر سابق جنرل کی ساری منصوبہ بندی اس وقت دھری رہ گئی کہ جب آرمی چیف جنرل کیانی نے تمام اداروں کو دوٹوک احکامات جاری کئے کہ انتخابات میں دھاندلی ہو گی، نہ ہی کوئی فوجی ادارہ اس میں ملوث ہو گا۔ ظاہر ہے کہ انتخابی نتائج کسی طور مسلم لیگ (ق) کے حق میں تو آنے نہیں تھے، ساتھ ہی پرویز مشرف کی ایوان صدر سے رخصتی کی بنیاد بھی رکھ دی گئی۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی نے عام انتخابات میں دھاندلی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا کر سب سے بڑا احسان دراصل اپنے ہی ادارے پر کیا۔ پرویز مشرف کے پے در پے اقدامات کے باعث پاک فوج کی ساکھ اس سطح پر آ چکی تھی کہ جو جنرل یحییٰ خان کے دور میں بھی نہیں آئی تھی۔۔۔ (اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس دور میں بڑے پیمانے پر آزاد میڈیا کا وجود ہی نہیں تھا)۔۔۔ پاک فوج اور اس کے سربراہ کے نزدیک سب سے پہلا ٹارگٹ وردی کی ساکھ کی بحالی کا تھا۔پرویز مشرف دور کی بے شمار خرابیوں کے باوجود جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بعض ایسے اقدامات کئے جو نہ صرف عوام،بلکہ بیشتر سیاسی جماعتوں کے لئے خوش آئند تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی پاک فوج کی ساکھ کو بحال کرنے میں خاصی حد تک کامیاب رہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس بات کا کریڈٹ یقیناًجنرل اشفاق پرویز کیانی کو ہی جاتاہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ پورے ادارے کی مشترکہ خواہش اور کاوش تھی۔ پرویز مشرف کو ایوان صدر سے رخصت کرنا بھی دراصل اِسی کی جانب ایک اہم اور ناگزیر اقدام تھا، تاہم بطور ادارہ فوج کی یہ خواہش ضرور تھی کہ پرویز مشرف کو ایوان صدر، بلکہ ملک سے رخصت ہونے کے لئے باعزت راستہ فراہم کیا جائے۔ حیرت ہے کہ اس کے باوجود پرویز مشرف آج بھی جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی پر دانت پیس رہے ہیں۔

ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر وزارت اعلیٰ کا انعام حاصل کرنے پر چودھری برادران عملاً ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ مسلم لیگ (ق) کے رہنما آنکھوں میں سپنے سجائے بیٹھے تھے کہ ان کی اگلی منزل پرائم منسٹر ہاؤس ہے۔ پرویز مشرف کی رخصتی کے ساتھ ہی مسلم لیگ(ق) بکھرنا شروع ہو گئی۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا نے تحریک انصاف کو کھڑا کرنے کا منصوبہ بنایا تو مسلم لیگ(ق) حرف غلط کی طرح مٹنا شروع ہو گئی۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ چودھری برادران اس حوالے سے اپنی شکایات اور بعض شواہد لے کر جنرل اشفاق پرویز کیانی کے روبرو حاضر ہوئے تھے۔ انہوں نے نوٹس لینے کا وعدہ تو ضرور کیا، مگر کوئی افاقہ نہ ہو سکا۔ شجاع پاشا نے اپنا کام جاری رکھا، بلکہ ریٹائر ہونے کے بعد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔۔۔ (مستقل مزاجی ہو تو ایسی ہی ہونی چاہئے)

2013ء کے عام انتخابات مسلم لیگ(ق) کے خدشات کے عین مطابق ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے۔ اب آگے مزید سیاسی خطرات ہیں۔ وہ کچھ یوں کہ مسلم لیگ(ن) تو انہیں کسی طور معاف کرنے پر آمادہ نہیں۔ تیزی سے ابھرتی ہوئی تحریک انصاف بھی معمولی ’’لفٹ‘‘ کرانے پر تیار نظر نہیں آتی۔ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف تو بہرحال مقبول سیاسی جماعتیں ہیں یہاں تو یہ ’’المیہ‘‘ بھی رونما ہو چکا کہ طاہر القادری نے بھی مسلم لیگ (ق) کو فارغ کر ڈالا۔ مایوسی اور ناامیدی کے ایسے بھرپور منظر میں چودھری برادران میرٹ پر کام کرنے پر جنرل(ر) اشفاق پرویز کیانی کو نہ کوسیں تو اور کسے بددعائیں دیں؟چودھری پرویز الٰہی جمعرات کو دیئے گئے، جس انٹرویو پر اتوار کو سرعام پشیمانی کا اظہار کرنے پر مجبور ہو گئے، اس میں کہا گیا ہے کہ ’’جنرل اشفاق پرویز کیانی نے آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے خط لکھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے قافلے پر حملہ کرایا جائے، لیکن ہم نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، ضرورت پڑی تو خط سامنے لے آؤں گا۔ پرویز مشرف اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے مسلم لیگ(ق) کو پیچھے ڈال کر این آراو کرکے غلطی کی تھی‘‘۔

انٹرویو میں یوں تو کئی اور بھی دعوے کئے گئے ہیں، لیکن چیف جسٹس کے قافلے پر حملہ کرانے کے لئے آئی ایس آئی کے چیف کے خط والی بات کسی طور بھی ہضم نہیں ہو رہی۔ پاکستان کی ٹاپ خفیہ ایجنسی، جس کی پوری دنیا میں پیشہ ورانہ صلاحیت کے حوالے سے ایک نمایاں پہچان ہے، کا سربراہ کسی پر حملہ کرنے کے لئے وزیراعلیٰ کو خط لکھے، یہ کیسے ممکن ہے؟ فوجی آمر کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی تو کیا مناسب رینک کے ایک فوجی افسر کا اشارۂ ابرو ہی وزیراعلیٰ کے لئے حکم کا درجہ رکھتا تھا۔ آئی ایس آئی کے سرونگ جنرل سربراہ پر خط لکھنے کی تہمت بذات خود ایک مضحکہ خیز حرکت ہے۔ چودھری پرویز الٰہی نے اگرچہ دو روز کے بعد آئی ایس آئی جنرل اشفاق پرویز کیانی کی پھر سے تعریف کر دی ہے ،ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے قافلے کو روکنے کے معاملے پر جنرل پرویز مشرف اور جنرل اشفاق پرویز کیانی نے میری تجویز مان لی تھی، معاملہ پنجاب حکومت پر چھوڑ دیا گیا، یوں یہ جلوس اسلام آباد سے پُرامن طور پر لاہور پہنچ گیا۔

’’کھاریاں کے قریب چیف جسٹس کے قافلے پر حملہ‘‘ کے عنوان سے اس منصوبے کا چودھری پرویز الٰہی پہلے بھی کئی بار ذکر کر چکے ہیں، ساتھ ہی وہ یہ کریڈٹ بھی لیتے رہے ہیں کہ حملہ کرانے کی واضح ہدایات پر عمل درآمد سے انکار پر پرویز مشرف ان سے ناراض ہو گئے تھے۔ بعض صحافیوں سے ملاقاتوں اور نجی محفلوں میں گفتگو کے دوران اس حوالے سے وہ بعض دیگر شخصیات کے نام بھی لیتے رہے ہیں۔ اسلام آباد میں مقیم ملک کے صف اول کے ایک صحافی کو انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سازش کچھ یوں تیار کی گئی تھی کہ معزول چیف جسٹس کے قافلے پر فائرنگ کرا کے الزام وجاہت فورس پر لگا دیا جائے۔ صوبائی حکومت نے خطرہ بھانپتے ہوئے ایسے کسی منصوبے کا حصہ بننے سے واضح انکار کر دیا۔ پرویز مشرف ہوں یا چودھری برادران! اقتدار اور سیاست سے بے دخلی ایک پھانس بن کر ان کے دلوں میں چبھ چکی ہے، حالانکہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ادراک کر لینا چاہئے تھا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جو کچھ کیا، وہ اس وقت کے حالات کے تحت محض درست اور اصولی ہی نہیں، بلکہ ناگزیر بھی تھا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بجائے جنرل طارق مجید یا پھر کوئی تیسرا افسر بھی آرمی چیف ہوتا تو یہی کچھ ہونا تھا۔ ذرا تصور کیجئے، بے نظیر بھٹو جیسی قدآور سیاست دان کے عہد میں انتخابات میں دھاندلی کے لئے پرویز مشرف اور مسلم لیگ (ق) کے منصوبے پر عمل درآمد کر دیا جاتا تو ملک میں کیا حالات پیدا ہوتے۔ مذہبی شدت پسندوں نے پہلے ہی خون خرابے کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ علیحدگی پسند بیرونی امداد کے بل پر پوری طرح سرگرم تھے۔ تشدد کی بڑی بڑی لہروں میں ملک کی مقبول سیاسی جماعتوں کے احتجاج کی موجیں بھی شامل ہو جاتیں تو کیا قیامت برپا ہو تی؟

مزید : کالم


loading...