پولیس میں سیاسی مداخلت

پولیس میں سیاسی مداخلت

  



پولیس کو غیر سیاسی اور با اختیار بنائے بغیرکراچی میں جاری آپریشن ہر گز کامیاب نہیں ہو سکتا۔ آرمی چیف راحیل شریف نے سوموار کو کراچی میں ہونے والی ایپکس کمیٹی کی میٹنگ کے دوران واضح الفا ظ میں کہا کہ کراچی میں امن اور مطلوب نتائج کے حصول کیلئے پولیس کو غیر سیاسی اور بااختیار بنانا ضروری ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ پولیس میں سیاسی مداخلت ختم اور تمام تقرریاں اپیکس کمیٹی کے ذریعے میرٹ پر کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں قیام امن کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے اور سیاسی اتفاق رائے سے کراچی میں امن کو پائیدار بنایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں آپریشن موثر اور کامیاب بنانے کے لیے تمام اداروں میں روابط کے نظام کو مزید بہتر بنانا ہو گا کیونکہ مضبوط رابطے سے ہی اس آپریشن کے مزید مثبت نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رینجرز آپریشن سے کراچی میں امن قائم ہورہا ہے اور فوج کراچی میں امن کی بحالی کے لیے جاری آپریشن میں مدد کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔انہوں نے تمام مجرموں کے خلاف لسانی، سیاسی، مذہبی اور فرقہ وارنہ وابستگی سے بالاتر ہوکر کارروائی کرنے کا عزم بھی کیا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی ملکی معیشت میں مرکزی حیثیت ہے اور وہاں امن قائم ہونا ملکی ترقی و خوشحالی کا ضامن ہے۔وزیرا عظم میاں محمد نواز شریف نے بھی سندھ حکومت اور پولیس کی کارکردگی پر شدید برہمی اور ناراضی کا اظہارکرتے ہوئے پولیس پر زور دیا کہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنائے تاکہ موثر انٹیلی جنس شیئرنگ عمل میں آ سکے۔اس موقع پر کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے بھی سندھ حکومت کی انتظامی نااہلی پر شدید تنقید کی اور اسے اپنی راہ کی رکاوٹ قرار دیا۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف اس وقت ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور امن قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں، اس مقصد کے لئے وہ کسی بھی حد سے گزر جانے کا عزم رکھتے ہیں۔آرمی چیف کی بات مکمل طور پر درست ہے،کراچی میں آپریشن کی کامیابی پولیس کی کارکردگی کے ساتھ مشروط ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ سندھ میں سیاسی مداخلت نے پولیس کو ایک طرح سے غیر فعال بنا رکھا ہے،پولیس سیاست دانوں کی آلہ کار بنی ہوئی ہے، انہی کی مرضی کے مطابق چلتی ہے۔ سندھ پولیس میں تقرر و تعیناتی کے لئے قابلیت سے زیادہ سیاسی اثر و رسوخ معنی رکھتا ہے ،بنیادی معیارِ تقرر پر ہی پورا نہ اترنے والے اہلکاروں سے اعلیٰ کارکردگی کی توقع بھلا کیسے کی جا سکتی ہے؟سندھ میں اول توافسران کے تبادلے ہی نہیں ہوتے اور ہوتے بھی ہیں تو اس میں زیادہ عمل دخل سیاست دانوں کی ذاتی پسند و ناپسندکا ہوتا ہے۔سندھ انتظامیہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے، حسب منشا اعلیٰ عہدیداروں اور افسران کی’’ اگاڑ پچھاڑ‘‘سے ہر کوئی واقف ہے،کبھی چیف سیکر ٹری عتاب کا نشانہ بنتے ہیں تو کبھی نزلہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پر گرتا ہے۔

اگر ایسے ہی پولیس میدان سیاست کے کھلاڑیوں کے ہاتھ میں کھیلتی رہی تو وہاں کسی بھی قسم کا آپریشن کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان کے دوسرے صوبوں میں پولیس ’’آئیڈیل‘‘ ہے لیکن سندھ میں تو یہ معاملہ انتہائی بد تر ہے۔ خیبر پختونخوا میں پولیس کو مکمل خود مختاری دی گئی ہے ا گرچہ اس کے لئے قانونی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ انتظامی حکم کے تحت یہ کام کیا گیا ہے۔ پنجاب اور بلوچستان میں بھی اندھا دھند تبادلوں اور تقرریوں کی روایت نہیں ہے،سیاسی افراد کی من مانی نسبتاً کم ہی دیکھنے میں آتی ہے،تھوڑی بہت شکایات تو موجودہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ سیاسی طاقت کے سامنے بالکل ہی سر تسلیم خم کر دیا گیا ہو۔

دیکھا جائے تو پولیس فوج کا ہی دوسرا نام ہے،ایک ہی تصویر کے دو رخ بھی ہو سکتے ہیں، جس طرح فوج ملک کی حفاظت کا بیڑہ اٹھاتی ہے اسی طرح داخلی نظم و نسق پولیس کی ذمہ داری ہے۔پولیس بھی فوج جتنی ہی آزادی و خود مختاری کی مستحق ہے لیکن اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ پولیس میں بھرتی کا بھی وہی معیاراور طریقہ کار ہونا چاہے جو فوج کا ہے،جس طرح فوج میں بھرتی سیاسی اثر و رسوخ کی محتاج نہیں ہے وہی اصول پولیس پر بھی لاگو ہونا چاہئے۔ترکی میں بجٹ پولیس اور فوج کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوتا ہے یعنی دونوں برابر کی طاقتیں سمجھی جاتی ہیں، ہمیں اپنی پولیس کو بھی یہی اعتماددیناچاہئے۔اب بھی یہی خبریں گرم ہیں کہ سندھ میں آئندہ ہونے والی بھرتیوں میں بھی بندر بانٹ ہی ہونے والی ہے توکب تک ایسے کام چلے گا؟ اور اسی لیے ان کے تقرر و تبادلے ایپکس کمیٹی کی منظوری سے مشروط کر دیے گئے ہیں۔پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پرایک موثر انتظامی وقانونی ڈھانچہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے،پولیس کے وسائل میں اضافہ کرنا ہو گاتاکہ وہ تندہی سے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف رہے۔چاروں صوبوں میں ایپکس کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہے جو اپنا اپناکام کر رہی ہیں، اشتراک عمل جاری ہے اور کور کمانڈر آفس سے مانیٹر بھی ہو رہا ہے۔یہ فوج اور حکومت کا مشترکہ آپریشن ہے، دونوں کو ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنا ہے لیکن اس میں سیاسی قوتوں کا تعاون یقینی بنایا جانا چاہئے۔

ہمارے اہل سیاست کو اس بات کا احساس کرنا ہی ہو گا کہ جب تک انتظامیہ اپنا مزاج اور رویہ درست نہیں کرے گی تب تک کراچی آپریشن میں کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔جبب تک پولیس میں اصلاحات عمل میں نہیں لائی جائیں گی تب تک تمام تر اقدامات چھلنی میں پانی ڈالنے کے ہی مترادف ہیں۔ہمیں ہر حال میں کرپشن جیسے موذی مرض کو شکست دینی ہے،بد نظمی کا علاج کرنا ہے،محکموں میں سیاسی عمل دخل کا راستہ بند کرنا ہے۔اس بات کا اچھی طرح ادراک کرنا ہو گا کہ یہ وقت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا نہیں ہے،یہاں ایک ایسی لڑائی لڑی جا رہی ہے جس میں ہار کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے، ہر قیمت پر فتح ہی درکار ہے ا س لئے اس کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کا سرکچل دیناڈالنالازمی ہے ۔

مزید : اداریہ


loading...