پہاڑوں پر برف، اسلام آباد میں بارش، سردی لوٹ آئی

پہاڑوں پر برف، اسلام آباد میں بارش، سردی لوٹ آئی

  



اسلام آباد سے ملک الیاس

سرد موسم میں سینٹ کے انتخابات کی گرمی، کیا ہارس ٹریڈنگ رک سکے گی؟

وفاقی وزیر برجیس طاہر، گورنر گلگت، بلتستان، پیپلزپارٹی سمیت سیاسی جماعتوں کی تنقید

پمز کے ڈاکٹر پر قاتلانہ حملہ، ڈاکٹر سراپا احتجاج، سیکیورٹی کا مطالبہ

اسلام آباد ، راولپنڈی میں گزشتہ دنوں کی تیز بارش سے موسم سرد ہواور پہاڑی علاقوں میں برفباری کابھی نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ ملک میں بارش برسانے والی ہواں کا نیا سلسلہ داخل ہونے سے سردی ایک بار پھر جاتے جاتے لوٹ آئی ہے، مری اور گرد و نواح میں آسمان پر چھائے بادلوں نے موسم دلکش بنا دیا ہے،اسلام آباد کا سیاسی موسم بھی ان دنوں سینٹ انتخابات کی لپیٹ میں ہے الیکشن کمیشن نے سینٹ انتخابات کی تاریخ میں دوروز توسیع کرکے 5مارچ کردی ہے اس وقت سینیٹ انتخابات کیلئے 184 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جن کے کاغذات کی جانچ پڑتال 19اور 20فروری کو ہوگی، 5مارچ کو سینیٹ کی 52نشستوں پر انتخابات کیلئے پنجاب سے 23، سندھ سے 28، خیبر پختونخوا سے 39جبکہ بلوچستان سے 42امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ فاٹا سے 43اور اسلام آباد سے 9امیدوار ہیں۔مسلم لیگ ن نے سب سے زیادہ 32امیدوار میدان میں اتارے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں جن کی تعداد 19ہے،تحریک انصاف نے بھی 11امیدواروں کو سینٹ کے ٹکٹ تھمائے ہیں ملک بھر سے 64آزاد امیدوار بھی سینٹ کی نشست کے حصول کیلئے طبع آزمائی کررہے ہیں، جنرل نشستوں پر 116 اور خواتین کی سیٹوں پر 28 امیدوار سامنے آئے ہیں۔ ٹیکنو کریٹس کی نشست پر 26 اور اقلیتی نشست پر 12 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں،سینٹ الیکشن کے نتائج کیا نکلتے ہیں یہ تو تقریبا سب کے سامنے ہے کیونکہ پارلیمان میں جس پارٹی کی زیادہ نشستیں ہوں گی وہ وہ زیادہ سیٹیں جیتے گی اس لحاظ سے مسلم لیگ ن کا پلا بھاری نظرآرہا ہے دوسری بات جو اہم ہے وہ سینٹ الیکشن میں خریدوفروخت ہے اس بار تقریبا ساری جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ دولت کی چمک سے یہ الیکشن صاف و شفاف ہونگے ،.وزیر اطلاعات پرویز رشید کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کیخلاف تمام جماعتیں متحد ہیں،ایسے امیدواروں کو ٹکٹ دئے جا رہے ہیں جن کیلئے تمام جماعتیں جتوانے کی مثبت کوششیں کر سکتی ہیں۔

وزیر اعظم کی تجویز پر صدر پاکستان ممنون حسین نے چوہدری محمد برجیس طاہر کو گلگت بلتستان کا گورنر تعینات کر دیا ہے۔ چوہدری محمد برجیس طاہر ممبر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر ہیں ان کے پاس وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کا قلمدان ہے۔ وہ دونوں عہدوں پر بیک وقت کام کریں گے۔ چوہدری محمد برجیس طاہر حلقہ این۔اے 135 سانگلہ ہل سے گزشتہ عام انتخابات میں ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ پانچ دفعہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے علاوہ قومی اسمبلی کی متعدد سٹینڈنگ کمیٹیوں کے سر براہ و رکن بھی رہے۔ چوہدری محمد برجیس طاہر پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ انکی وابستگی بہت پرانی ہے۔ان کی گورنر گلگت و بلتستان نامزدگی کو پیپلز پارٹی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ساتھ ہی ساتھ پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کو خودمختاری دینے کے حکم مجریہ 2009 کو لپیٹ دینے ‘وفاقی وزیر برائے امور کشمیر کو گلگت بلتستان کو گورنر گلگت بلتستان چھٹی کے روز نامزد کرنے کا معاملہ سینٹ میں زیر بحث لانے کیلئے تحریک التوا جمع کرائی۔پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر کا اس پر کہنا تھا کہ اس وقت جبکہ گلگت بلتستان میں انتخابات ہونے والے ہیں، ایک ایسے گورنر کی تقرری جس کا تعلق گلگت بلتستان سے نہیں ہے، علاقے کی خودمختاری پر حملہ ہے اور علاقے کے 20 لاکھ عوام پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔یہ حملہ علاقے کی خود مختاری اور اس کے عوام پر سیاسی اور سماجی طور پر منفی اثرات مرتب کرے گا اس لئے اس پر فوری بحث کی ضرورت ہے جس کے لئے ایوان کی معمول کی کارروائی کو معطل کرکے اس پر بحث کی جائے۔ انکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام میں اس مسئلے پر سخت ناراضی پائی جاتی ہے۔ اور اس کے نوجوان اسے احساسِ محرومی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں گورنر گلگت بلتستان کی تقرری اس وقت کی گئی جب تمام دفاتر بند تھے اور دفاتر کھلوا کر یہ حکم جاری کیا گیا جس سے علاقے کے عوام میں سخت مایوسی اور احساسِ لا تعلقی پیدا ہوا ہے 21ویں آئینی ترمیم کو گلگت بلتستان تک توسیع دی گئی ہے جس کیلئے گلگت بلتستان کونسل کو بائی پاس کیا گیا ہے کیونکہ حکومت کو خطرہ تھا کہ کونسل اس کی مخالفت کرے گی۔

سینیٹر میاں رضاربانی کی سربراہی میں انسانی حقوق کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو پہلے ہی سے گلگت بلتستان کے لئے اصلاحات پر رپورٹ تیار کر رہی ہے اور جلد ہی یہ رپورٹ مکمل ہو جائے گی۔ گلگت بلتستان کے نگراں وزیراعلیٰ نے پہلے ہی اپنی کابینہ کے اراکین کی تعداد تین سے بڑھا کر 12 کر دی ہے اور اس کے بعد اب قومی اسمبلی کے رکن کو انتخابات سے قبل گورنر بنا دیا گیا ہے جس سے بہت سارے سوالات اٹھتے ہیں اور انتخابات کے منصفانہ ہونے پر بھی اعتراضات ہوں گے اور یہ ایک عوامی مسئلہ ہے۔گورنر گلگت بلتستان کی نامزدگی پر اپوزیشن مزید کیا سٹینڈ لیتی ہے یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوجائے گا مگر ملک میں اس وقت جو امن و امان کی صورتحال ہے اس میں کوشش یہ ہونی چاہیے کہ سیاسی معلاملات کو مفاہمت سے سلجھایا جائے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز کے ڈاکٹر پر قاتلانہ حملے اور ساہیوال میں ڈاکٹر کے قتل کیخلاف اسلام آباد میں ڈاکٹر سراپا احتجاج بن گئے۔ پمز اسپتال کے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے علامتی طور پر کام چھوڑ دیا اور احتجاجی ریلی نکالی۔ احتجاج میں پولی کلینک اسپتال کے ڈاکٹرز بھی شامل ہو گئے۔ مظاہرین نے پمز اسپتال کے سامنے سڑک ٹریفک کے لیے بلاک کر دی۔ ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر شاہد نواز پر حملہ کرنے والے ملزموں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ ادھر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی کال پر پنجاب بھر میں ڈاکٹروں نے سرکاری اسپتالوں کے آؤٹ ڈور میں کام بند کر دیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی گرفتاری تک اسپتالوں کے آؤٹ ڈورز میں روزانہ کی بنیاد پر ہڑتال کی جائے گی،کتنے افسوس کی بات ہے کہ اب ڈاکٹر جو عوام کامسیحا ہوتا ہے انہیں بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے پمز ہسپتال میں وی آئی پیز سے لیکر عام آدمی تک علاج معالجہ کرانے آتے ہیں مگر سکیورٹی انتظامات انتہائی ناقص ہونیکی وجہ سے یہ دن دیکھنے پڑرہے ہیں،حکومت کو فی الفور سرکاری ہسپتالوں کی سکیورٹی کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...