کراچی

کراچی

  



کراچی

نصیر احمد سلیمی

سیاسی ڈائری

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کا پیر کے دن کا دورہ کراچی سیاسی و صحافتی حلقوں میں بڑی اہمیت کا حامل تصور کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کراچی میں جاری ٹارگیٹیڈ آپریشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آخری دہشت گرد کے خاتمہ تک تیز رفتاری کے ساتھ جاری رکھنے کے دو ٹوک موقف کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا قومی ایکشن پلان حکومت کا نہیں ’’ریاست‘‘ کا قومی ایکشن پلان ہے۔ وزیر اعظم کو رہیڈ کوارٹر بھی گئے جہاں ان کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس قومی ایکشن پلان کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی تھے اور دیگر اعلیٰ عسکری قیادت بھی ۔ جس میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر ،ڈی جی رینجرز جنرل بلال اکبر، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل سلیم عاصم باجوہ بھی تھے اور وزیر اعظم کی خصوصی دعوت پر سندھ میں حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر مملکت جناب آصف علی زرداری بھی موجود تھے۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی موجودگی میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تجویز پر وزیر اعظم نے اہم فیصلے کئے ہیں جس میں ’’نادرا‘‘ اور دیگر رجسٹریشن کرنے والے قومی اداروں میں انٹیلی جنس اہلکاروں کی تعیناتی ہے۔ اس میں سب سے اہم فیصلہ تو یہی ہے کہ وزیر اعظم نے کراچی میں جاری ٹارگٹیٹڈ آپریشن کو بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا حصہ قرار دیا ہے اور پوری تیز رفتاری کے ساتھ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے اس آپریشن پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آپریشن تمام دہشت گردوں کے خلاف کسی امتیاز کے بغیر جاری رکھا جائے گا۔ بلدیہ ٹاؤن کے سانحہ کے ذمہ داروں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب پرویز رشید پہلے ہی بتا چکے تھے کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت سول اور عسکری قیادت کے اجلاس میں زیر غور ایجنڈے میں معاملہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن پر تفصیلی غور کرنا بھی ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر چیف سیکرٹری نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن پر جو بریفننگ دی اس کے بعد وزیر اعظم نے چیف سیکرٹری سندھ سے کہا ہے کہ وہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی پوری باریک بینی کے ساتھ از سر نو تحقیقات کر کے وزیر اعظم ہاؤس کو رپورٹ پیش کریں۔ سانحہ کے ذمہ دار کوئی بھی ہوں وہ قانون کے شکنجے سے بچ نہیں پائیں گے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تجویز پر وزیر اعظم نے یہ احکامات بھی جاری کئے ہیں کہ پولیس کے محکمہ کو مکمل طور پر قانون کے مطابق سیاست سے پاک رکھنے کے لئے آئندہ سندھ حکومت پولیس افسران کی تقرری و تبادلے قومی ایکشن پلان کے تحت قائم کمیٹی کی مشاورت سے کیا کرے گی۔ اس فیصلے پر سندھ حکومت عمل درآمد کرے گی یا نہیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس فیصلے کے بارے میں سندھ حکومت کے ترجمان صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے اپنی لاعلمی کا اظہار کر دیا ہے جس کے بعد اس حوالے سے ایک قیاس آرائی یہ گردش کرنے لگی ہے شائد اس فیصلے سے وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزیر اطلاعات اس وجہ سے لا علم ہوں کہ وہ کچھ دیر کے لئے اہم اجلاس سے باہر تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری تو عسکری قیادت کی موجودگی میں ہونے والے فیصلوں سے آگاہ بھی ہیں اور اس کا انہیں ادراک بھی ہوگا کہ ان کی اجلاس میں شرکت کی دعوت کا مطلب ہی یہ تھا کہ سندھ کے اصل حکمران وہی ہیں اور فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کے لئے ضروری تھا کہ وہ تمام فیصلوں کے وقت موجود رہیں

جہاں تک معاملہ ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں سندھ حکومت کی دلچسپی کا ، اسکا اندازہ اس امر سے ہو جاتا ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کے لئے حکومت سندھ کی اپنی مقرر کردہ پبلک پراسیکیوٹر محترمہ شازیہ ہنجرا نے اس کیس کی پیروی کرنے سے انکار کر کے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان عین اسی روز ہوا ہے جس روز وزیر اعظم کراچی میں موجود تھے اور وزیر اعظم نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی تھی کہ اس کی تحقیقات کرتے وقت یہ امر پیش نظر رکھے کہ سانحہ کے اصل مجرم قانون کے شکنجے سے کسی طور بچ نہ پائیں اور اس میں کسی کی پروا نہ کی جائے کون سانحہ میں ملوث مجرموں کا پشت پناہ ہے اور کتنا با اثر ہے پبلک پراسیکیوٹر محترمہ شازیہ ہنجرا نے مستعفی ہوتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس کیس میں اصل رکاوٹ کیس کے تفتیشی افسران ہیں جو کیس کو خراب کر رہے ہیں اور یہ کہ یہ کیس بین الاقوامی اہمیت اختیار کر گیا ہے اس کیس میں تین سال بعد 900 گواہ بھی آ دھمکے ہیں ۔ محترمہ شازیہ ہنجرا نے اس کیس کی پیروی کے دوران ملنے والی دھمکیوں کا بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ پیروی کرنے کی وجہ سے ان کی جان کو خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ محترمہ شازیہ ہنجرا کے مستعفی ہونے کے بعد سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ان خدشات کا اظہار ہونے لگا ہے کہ اس کیس کی پیروی کرنے والوں کا انجام بھی کہیں خدا نخواستہ وہ نہ ہو جائے جو ’’جیو نیوز‘‘سے تعلق رکھنے والے معروف دبنگ نوجوان صحافی بابر ولی کے قتل کی کیس کی پیروی کرنے والوں کا ہوا تھا۔ واضح رہے کہ ولی خان بابر قتل کے عینی گواہ اور تفتیش کرنے والے پولیس اہلکار اور پبلک پراسیکیوٹر اور عدالتوں میں پیروی کرنے والے وکیل یکے بعد دیگرے غیر فطری موت سے دو چار ہوتے چلے گئے تھے۔ کراچی میں ولی خان بابر قتل کیس کی سماعت بھی نا ممکن ہو گئی تھی جس کی وجہ سے آخر کار کیس کی سماعت کرنے والی عدالت کو اندرون سندھ منتقل کیا گیا تھا۔ عدالت نے تو مجرموں کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب حکومت کیا کرتی ہے۔ معاملہ عدالتوں کی کارکردگی سے زیادہ مجرموں کے خلاف تفتیش کی ناقص کارکردگی ہے جس میں مجرموں کو قانون کے شکنجے سے بچ نکلنے کے لئے جان بوجھ کر ایسے قانونی سقم رکھے جاتے ہیں جس سے مجرم بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور بات عدالتوں کی کارکردگی پر شروع ہوجاتی ہے، نچلی سطح کی عدالتوں کی ناقص کارکردگی اپنی جگہ کیس میں غلط تفتیش اور کیس میں جان بوجھ کر قانونی سقم چھوڑے جانے کی وجہ سے مجرموں کو قانونی تقاضے پورے کئے بغیر عدالتوں کے لئے سزا ئیں دینا آسان نہیں رہتا ہے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا یہ موقف سو فیصد درست اور صائب ہے کہ جب تک پولیس کے محکمے کو سیاست سے پاک نہیں کیا جائے گا سندھ میں دہشت گردی کی جنگ میں رکاوٹیں دور نہیں ہوں گی۔ ویسے بھی اس حقیقت سے کسی ذی ہوش کو انکار نہیں ہو سکتا ۔ شہروں کے اندر جرائم پیشہ عناصر اور داخلی اور خارجی گماشتے اور دہشت گردی کرنے والے عناصر کے سرپرستوں کی بیخ کنی کرنا بنیادی ذمہ داری پولیس کی ہے اور پولیس کو سیاست سے پاک کئے بغیر یہ ممکن نہیں ہے پولیس کی اصلاح کے بغیر یہ جنگ جیتنا آسان نہیں ہو گا۔ وزیر اعظم کا یہ عزم اپنی جگہ بالکل درست ہے۔ مگر ماضی کی تلخ تاریخ یہ ہے کہ ’’ریاست‘‘ کے فیصلے کے تحت آپریشن کرنے والے پولیس افسران نے کسی مجرم کو قانون کے شکنجے میں کسنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے سندھ میں دیانت دار اور اہل پولیس افسران کا زندگی گزارنا ہی نا ممکن ہو گیا اب بھی ایسا نہیں ہے کہ سندھ میں دیانت دار اور اہل افسران کا بالکل ہی قحط ہو گیا ہے آج بھی اہل اور دیانت دار پولیس افسران موجود ہیں۔ مگر سیاست کے کھیل نے انکو بھی ناکارہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کو خانوں میں بانٹنے کے بجائے قانون کی زبان میں ان کی ایک ہی شناخت طے کر دی جائے انہوں نے کسی بھی نام اور شناخت سے دہشت گردی کی وہ دہشت گرد ہیں، اب سے ہمہ اقسام کے دہشت گرد گروہوں اور انکے سرپرستوں کی واحد شناخت صرف اور صرف دہشت گرد اور ریاست کے باغی کے طور پر چاہئے جب تک یہ کنفیوژن ختم نہیں ہوگا نہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے مجرم قانون کی گرفت میں آئیں گے اور نہ ہی بارہ مئی 2007ء کے سانحہ میں ملوث عناصر کا پتہ چلے گا جنہوں نے کراچی کی سڑکوں پر خون کی ہولی کھیلی تھی اور نہ ہی 18 اکتوبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے استقبال کے لئے آنے والے پیپلزپارٹی کے سینکڑوں جیالوں کو دہشت گردی کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارنے والے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے گا۔

سندھ میں صرف پولیس ہی سیاست زدہ نہیں بلکہ کئی عشروں سے سیاسی اور غیر سیاسی حکومتوں کے گروہی مفادات اور وقتی سیاسی مصلحتوں کے مکروہ کھیل نے قریب قریب ساری سول انتظامی مشینری کو ’’میرٹ کا قتل‘‘ کر کے سیاست زدہ کر دیا ہے اب کسی میرٹ پر بھرتی ہونے والے اہل دیانت دار افراد کے لئے سندھ میں کام کرنا اگر نا ممکن نہیں تو آسان بھی نہیں رہا ہے۔ سندھ کی ایک بڑی بدقسمتی یہ بھی رہی ہے سندھ کے کسی بھی منتخب انتظامی سربراہ کو اتنی صوبائی خود مختاری بھی استعمال کرنے کی آزادی نہیں رہی جتنی صوبائی خود مختاری دوسرے صوبوں کے انتظامی سربراہ فوجی چھتری کے سائے تلے قائم ہونے والی نیم جمہوری حکومتوں میں استعمال کرنے میں آزاد رہے ہیں۔ سندھ میں منتخب وزیر اعلیٰ کی کیا حیثیت رہی اور ہے۔ اس کا اندازہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں ان کے قومی سلامتی کے مشیر اور ذوالفقار علی بھٹو کے ذاتی تعلق دار اقبال اخوند کی کتاب ’’بے نظیر بھٹو کی حکومت‘‘ کی تحریر کے مطابق بے نظیر حکومت کے دور میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی زبانی کہ’’ سندھ کے پانچ وزرائے اعلیٰ‘‘ کی موجودگی میں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے کے اعترافی بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس وقت تو صورت حال اور بھی زیادہ خراب ہے۔ اس کا اندازہ پبلک سروس کمشن کے چیئرمین کا استعفیٰ ہے۔ واضح رہے پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کا تقرر بھی آصف علی زرداری کی ذاتی دوستی کی بنیاد پر ہوا تھا۔ مگر وہ زرداری خاندان کی ایک اہم شخصیت کی مداخلت کی تاب نہ لا کر مستعفی ہو گئے تھے ۔کسی اور کی کیا اوقات ہے کہ وہ آزادانہ قاعدے قانون کے مطابق کام کر پائے، وزیراعظم کو اس کا بھی حل نکالنا ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...