جنوبی پنجاب کے اضلاع پر مشتمل نیا صوبہ ،تمام سیاسی جماعتیں وعدے بھول گئیں

جنوبی پنجاب کے اضلاع پر مشتمل نیا صوبہ ،تمام سیاسی جماعتیں وعدے بھول گئیں

  



شوکت اشفاق

سیاستدان جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر ایسی چال چلتے ہیں کہ عوام انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھ بیٹھتے ہیں لیکن یہ ان کی شدید غلطی ہوتی ہے کیونکہ سیاستدان کا کام تو سیاست ہی کرنا ہے۔ اگر وہ ایشوز کو ختم کرنے کی پالیسی اپنائے گا تو بقول ان کے اپنے کہ وہ ووٹ کس طرح لے پائیں گے۔ جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے ایسا ہی ہو رہا ہے کہ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پنجاب کو تقسیم کر کے جنوبی پنجاب کے اضلاع پر مشتمل علیحدہ صوبہ تشکیل دے دیا جائے کیونکہ پنجاب کا آبادی کے لحاظ سے حجم بڑھ چکا ہے اور باقی تین صوبوں کی نسبت اس میں انتظامی مسائل کا سامنا بھی ہے جبکہ نوکریوں سمیت عدلیہ اور دوسرے وفاقی و صوبائی اداروں میں اس علاقے سے نمائندگی بہت کم ہے جبکہ سینٹ میں بھی تناسب کے لحاظ سے نمائندگی نہیں ہے اور اس علاقے سے مسلم لیگ (ن) کے صرف دو سینیٹر ہیں جبکہ باقی کسی کی جماعت کا یہاں سے کوئی سینیٹر نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی واحد جماعت تھی جس نے اپنے اقتدار میں جنوبی پنجاب کو الگ شناخت دینے کا بارہا اعلان کیا۔ خصوصاً اس علاقے سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے تو ضمنی انتخابات بھی الگ صوبے کے قیام کو یقینی بنانے کے نعرے پر ہی جیتے تھے جبکہ اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری بہت میٹھے انداز میں سرائیکی صوبہ کیلئے پارٹی کی طرف سے کئے اقدامات کی تفصیل بھی بتاتے تھے۔ دوسری طرف سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی بھی کافی عرصے تک اپنے آبائی علاقے احمد پور شرقیہ میں محض اس لئے مقیم رہے کہ ان کا مطالبہ تھا کہ بہاولپور صوبے کی پرانی حیثیت بحال کر کے اسے صوبے کا درجہ دے دیا جائے جس کیلئے انہوں نے بہاولپور صوبے کے مقامی سیاستدانوں اور دانشوروں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا جن کا مطالبہ تھا کہ باقی صوبے بنیں یا نہ بنیں لیکن بہاولپور صوبے کی پرانی حیثیت بحال کر دی جائے لیکن بوجوہ ان کا یہ مطالبہ ان کے اپنا علاقہ چھوڑ کر دوبارہ لاہور چلے جانے کی وجہ سے ادھورا رہ گیا۔ البتہ سرائیکیوں کی صوبے کی صورت میں الگ شناخت کا یہ مطالبہ نہ صرف مزید زور پکڑ گیا بلکہ اس کی صدائے بازگشت مسلم لگ (ن) قیادت کے پاس رائے ونڈ بھی پہنچ گئی اور انہوں نے بھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرتے ہوئے مختلف میٹنگز اور جلسے جلوسوں میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ اگر انہیں وفاق کے اندر بھی اقتدار مل گیا تو وہ سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے سنجیدہ کوشش کریں گے بلکہ یہ بھی کہتے رہے کہ پیپلز پارٹی محض انتخابی نعرے لگا رہی ہے لیکن ہم اصل میں یہ کام کریں گے حالانکہ پیپلز پارٹی نے صوبوں کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کیلئے کچھ کمیٹیاں بھی تشکیل دیں مگر اس پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی جس پر مسلم لیگ (ن) نے اسے انتخابی نعرہ قرار دے دیا۔ تاہم پیپلز پارٹی نے 2013ء کے عام انتخابات میں خصوصاً جنوبی پنجاب میں اس پارٹی سلوگن کے ساتھ انتخاب میں حصہ لیا کہ اگر وہ اس وقت اقتدار میں آگئے تو سرائیکی ریجن کو الگ صوبہ کی حیثیت دے دی جائے گی لیکن انہی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے بھی جنوبی پنجاب کے عوام کی اس دکھتی رگ پر ایک مرتبہ پھر ہاتھ رکھ دیا اور نعرہ لگا دیا کہ اگر ن لیگ اقتدار میں آ گئی تو پھر جنوبی پنجاب کو الگ صوبے کی حیثیت دے دی جائے گی جس کیلئے باقاعدہ قانون سازی ہو گی جبکہ اس سے قبل تمام سرکاری کمیٹیوں ‘ عدلیہ اور دوسرے اداروں اور نوکریوں میں جنوبی پنجاب کو تناسب کے لحاظ سے حصہ دیا جائے گا۔ مگر حقیقت میں ن لیگ بھی پیپلز پارٹی کی طرح منحرف ہو گئی اور ابھی تک تو انہوں نے اپنے کسی وعدے پر عمل نہیں کیا ہے بلکہ نوکریوں اور دوسرے اداروں میں تناسب سے تقرریوں کے وعدوں پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا جس کا علاقے میں منفی سیاسی اثر پیدا ہو رہا ہے اور سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں کہ اگر اس ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں اپنی کسی بات یا وعدہ کا پاس نہیں رکھ سکتی تو وہ باقی معاملات میں کیا کریں گی۔ اسی تناظر میں گزشتہ دنوں لاہور میں جناب مجیب الرحمان شامی کی طرف سے سی پی این ای (کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز) وزیراعظم میاں نواز شریف سے بہاولپور کے ایک سینئر اخبار نویس گلزار نے جب یہ سوال کیا کہ مسلم لیگ ن کے قائد کی حیثیت سے آپ نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس پر کیا عمل ہو رہا ہے جس پر وزیراعظم نے مکمل خاموشی اختیار کر لی اور اس سوال کا جواب دینا بھی مناسب خیال نہیں کیا۔ حالانکہ اس اجلاس میں وزیراعظم نے کئی ایسے سوالات کے جواب بھی دئیے جو کسی بھی طرح کسی اہمیت کے حامل نہ تھے۔

اس اجلاس کے بعد کھانے کے دوران ملک بھر سے آئے سینئر صحافیوں نے بھی میاں نواز شریف کی طرف سے اس سوال کے جواب کو گول کرنے پر محسوس کیا اور تبصرہ بھی کیا کہ کم از کم مسلم لیگ (ن) کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ وہ پنجاب کو دو صوبوں میں تقسیم کر دے اور اپنی سیاسی طاقت کو بھی تقسیم کرے کیونکہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا تمام دارومدار پنجاب تک ہی محدود ہے۔ اس صورت میں وہ کب چاہیں گے کہ پنجاب کی تقسیم ہو اور جنوبی پنجاب کے عوام کو حقوق ملیں اور سینٹ میں بھی مزید 20 سیٹوں کا اضافہ ہو جائے جو صرف اور صرف جنوبی پنجاب سے ہوں گی جبکہ اس وقت سینٹ میں پورے جنوبی پنجاب سے صرف 2 سینیٹرز ہیں باقی تمام لاہور اور اپر پنجاب سے ہیں جبکہ عدلیہ اور دوسرے اداروں میں بھی اس علاقے کا کوئی حصہ نہ ہے۔ اس لئے اب اس علاقے میں یہ شعور بیدار ہو رہا ہے اور وکلاء تنظیموں نے بھی الگ صوبہ اور الگ ہائی کورٹ کے قیام کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ایسی صورت میں آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی سمیت مسلم لیگ (ن) کو شدید سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...