سانحہ امامیہ مسجدآرمی پبلک سکول کا ایکشن ری پلے

سانحہ امامیہ مسجدآرمی پبلک سکول کا ایکشن ری پلے

  



دہشتگردوں نے ایک بار پھر پشاور پرمنظم حملہ کیا اس مرتبہ دہشت گردوں نے حیات آباد میں ا ہل تشیع کی جامع مسجد کو نشانہ بنایا جہاں سینکڑوں لوگ اللہ کی عبادت میں مصروف تھے 16 دسمبر 2014 ء کو آرمی پبلک سکول پر وحشیانہ حملے کے بعد 2 ماہ کے عرصہ میں دہشت گردوں کی یہ تیسری بڑ ی کاروائی تھی اس سے پہلے شکار پور کی جامع مسجد کو خون میں نہلایا گیا حیات آباد پشاور کی جامع مسجد اور آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے میں واضع مماثلت پائی جاتی ہے جس سے کئی سوال از خود واضع ہوجاتے ہیں امامیہ مسجد پر حملے کیلئے ملحقہ زیرتعمیر عمارت کو مورچے کے طورپر استعمال کیاگیا اس سے قبل دہشت گردوں نے اپنی وہ گاڑی خود ہی نذر آتش کردی جس پر سوار ہو کر وہ جاتے وقوعہ پرپہنچے تھے گاڑی کو نذر آتش کرنے کا مقصد لوگوں کی توجہ آتشزدگی کی جانب مبذول کرانا تھا دہشت گرد ایلیٹ فورس کی سیاہ وردی میں ملبوس تھے اوردہشت گرد یہ چاہتے تھے کہ مسجد میں موجود کم و بیش400 نمازیوں میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ سکے تاہم پہلا خودکش دھماکہ جس کے ذریعے عقبی دیوار گراکر باقی خودکش بمباریوں اور دہشت گردوں کیلئے راستہ ہموار کرنا تھا یہی مرحلہ ناکام رہا اور دیوار گرنے سے بچ گئی اس دوران ملحقہ عمارت سے دستی بم پھینکے جاتے رہے اور خود کار اسلحہ سے فائرنگ کی جاتی رہی اتنی دیر میں غازی خود کش حملہ آوروں کا خالی ہاتھ مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہوگئے اس بات کے باوجود کہ مسجد کے ہال میں ایک خود کش بمبار نے خود کودھماکے سے اڑایا نمازیوں میں شامل عباس نامی نو عمر لڑکے نے چند لمحوں بعد ہال میں داخل ہونے والے دوسرے خودکش بمبار کو دبوچ لیا کافی دیر کی ہاتھا پائی کے بعد خودکش بمبار دھماکہ کرنے میں کامیاب ہوا اوربہادر نوجوان عباس کئی لوگوں کی زندگی بچاتے ہوئے خود رتبہ شہادت پر فائز ہوگیا مجموعی طورپر کم سے کم تین خود کش دھماکے ہوئے اور متعدد دستی بم پھینکے گئے ہزاروں گولیاں فائر کی گئیں اس کے نتیجے میں 23 نمازی شہید اور 70 کے لگ بھگ زخمی ہوئے یہ بات تسلیم کی گئی کہ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں 95 فیصد ناکام رہے اور ان کی ناکامی کی وجہ ابتدائی مرحلے میں اس وقت ہوئی جب (منصوبے کے مطابق) پہلے خود کش دھماکے سے عقبی دیوار گرنے سے بچ گئی اوردہشت گردوں کو مسجد کے اندر داخل ہونے میں نصف گھنٹہ لگ گیا اس دوران ملحقہ عمارت سے مسلسل فائرنگ کر کے نمازیوں کو مسجد کے اندر محصور رکھا گیا افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا کی طرف سے کوئیک ریسیانس فورس کے بلند وبانگ دعوئے کئے اور بتایا گیا کہ ایک اطلاع پر یہ فورس دو منٹوں میں جائے وقعہ پر پہنچ کر دہشت گردوں کامقابلہ کرئے گی مگر سانحہ ا مامیہ مسجد حیات آباد میں اول یہ فورس سرے سے دیکھی ہی نہیں گئی دوئم یہ کہ مقامی پولیس اس قدر تاخیر سے پہنچی کہ اس وقت تک دہشت گرد اپنے کام کابہت سارا حصہ مکمل کرچکے تھے تیسری بڑ ی بات یہ کہ مقامی پولیس نے دہشت گردوں کی کاروائی ختم ہونے کے بعد دکھاؤے کیلئے فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا جس سے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں مزید تاخیر ہوئی اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ ملحقہ زیر تعمیر عمارت سے فائرنگ کرنے والے 2 یا اس سے زیادہ دہشت گرد اسوقت فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جب پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ چکی تھی اس دلخراش اورافسوسناک واقعے کے بعد اہل تشیع کے رہنماؤں نے مشتعل نوجوانوں کو قانون کے ہاتھ میں لینے سے باز رکھا ایس ایس پی پشاور ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق سانحہ حیات آباد کی تفتیش جدید خطوط پرتیزی کے ساتھ کی جارہی ہے اور اس میں کئی اہم کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں جس کے مطابق اس واقع کے ماسٹر مائینڈ کو اس کے ساتھی سمیت رنگ روڈ پشاور سے گرفتار کرلیا گیا ہے آرمی پبلک سکول کی طرح اس سانحہ کی بھی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی ہے جبکہ ایک خود کش کی شناخت کر لی گئی ہے جس کا تعلق پشاور سے محض 5کلو میٹر دورخیبرایجنسی کی تحصیل باڑہ سے پاکستان کی کم و بیش تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے امامیہ مسجد کے لواحقین کیساتھ اظہار یکجہتی کیا اورشہدا کی یاد میں شمعیں روشن کیں عوامی نیشنل پارٹی پیپلز پارٹی ایم کیو ایم پاکستان عوامی تحریک جماعت اسلامی جے یو آئی اوردیگر پارٹیوں کے صوبائی و مرکزی قائدین دورہ کرنے والوں میں شامل ہیں تاہم اہل تشیع کے رہنماؤں کو اس بات کاشکو ہ ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے کوئی بھی نمائندہ وفد تعزیت کیلئے نہیں آیا حیات آباد کی امامیہ مسجد پر جس وقت دہشتگرد حملہ کیا گیا اسوقت تحریک انصاف کے قائد عمران خان پشاور میں موجود تھے وہ وزیر اعلی پرویز خٹک کے ہمراہ فوری طورپر جائے وقوعہ پر پہنچے مگر فورسز نے سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر ان کو آگے جانے سے روک دیا عمران خان نے اسی روز پشاور انسداد پولیو کیلئے ’’ صحت کا اتحاد‘‘ مہم کا افتتاح کیا اور دعوی کیا گیا کہ 15 مئی تک جاری رہنے والی اس مہم میں 36لاکھ کے لگ بھگ بچوں کو ویکسنیشن کی جائے گی عمران خان اسی روز پشاورمیں بہت پرجوش اور سرگرم تھے انہوں نے ریڈیو پاکستان کے ایک پروگرام کے ذریعے لوگوں کے سوالات کے براہ راست جواب دیئے اس سے قبل تحریک انصاف کی طرف سے سینٹ کے امیدواروں کی کی فہرست کو حتمی شکل دی گئی بعض اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف میں موجود فارورڈ بلاک اوراپوزیشن میں اختلافات کے باعث حکمران جماعت کو سینٹ انتخابات کے حوالے سے کئی پریشانیوں کا سامنا ہے۔

پی ٹی آئی کے صدر اورجنرل سیکرٹری کے بارے میں بھی چہ مگوئیاں ہورہی ہیں کہ سینٹ الیکشن میں نظرانداز ہونے پر انکی طرف سے بھی ردعمل آسکتا ہے مسلم لیگ ن کے صدر پیر صابر شاہ پریس کانفرنس کے ذریعے اپنی ناراضی کااظہار کرچکے ہیں جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب نے کاغذات جمع نہ کراکر اپنی ناراضی کااظہار کیا سینئر ارکان کی طرف سے اپنی پارٹیوں سے ناراضی اور قائدین کی طرف سے انہیں منانے کاسلسلہ جاری ہے جو سینٹ الیکشن کے نتائج سامنے آنے تک جاری رہے گا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...