افغانی پٹھان لاہور کے شہری بن گئے، جائیدادیں بھی خرید لیں

افغانی پٹھان لاہور کے شہری بن گئے، جائیدادیں بھی خرید لیں

  



لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقے افغانستان اور علاقہ غیر سے آ کر آباد ہونے والے افغانی نژاد پٹھانوں کا گڑھ بن گئے ہیں ان پٹھانوں نے پراپرٹی ڈیلروں کی مدد سے شہر لاہور کے طول و عرض میں کرایہ ،گروی اور مالکانہ حقوق پربنگلے خرید کر رہائش اختیار کر لی ہے اور ضلع کچہریوں میں بیٹھے ہوئے ٹاؤٹوں کی مدد سے شہر لاہور کے ڈومیسائل حاصل کر کے خود کو اور اپنے بچوں کو مقامی شہری کا درجہ دلوا لیا ہے ، لاہور کی 150یونین کونسلوں کے سابق ناظمین اور موجودہ سیکرٹریز اور کونسل افسروں سے مقامی شہری ہونے کے این او سی اور مستقل سکونت رکھنے کے سرٹیفکیٹ حاصل کر کے اپنے بیوی بچوں کے شناختی کارڈ تک حاصل کر لیے ہیں۔گزشتہ 7ماہ کے دوران افغانیوں اور شمالی وزیرستان سے آ کر آباد ہونے والے آباد کار پٹھانوں نے کیولری گراؤنڈ،ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی ،لارنس روڈ ،شمالی لاہور ،اندرون لاہور ،بادامی باغ ،راوی روڈ سے ملحقہ آبادیوں لنڈا بازار ،پیکو روڈ سمیت تمام ہاوسنگ سوسائٹیوں میں گھر خرید لیے ہیں اور دکانیں بھی خریدی ہیں جبکہ زیادہ تر نے گروی پر مکان حاصل کیے ہیں بعض نے رہائش کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی شروع کر رکھے ہیں ۔لنڈا بازار ،ریلوے اسٹیشن،اعظم کلاتھ مارکیٹ ،پیکو روڈ ،لوہا مارکیٹ ،بادامی باغ،سپیئر پارٹس مارکیٹ میں 70فیصد افغانیوں کے کاروبار ہیں بتایا گیا ہے کہ آ پریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد شمالی وزیرستان میں ایسے افغانی جو افغانستان سے آ کر وزیرستان کے طول و عرض میں آباد تھے ان کی بڑی تعداد لاہور میں پہلے سے موجود رہائش پذیر اپنے ملنے جلنے والوں کے ذریعے لاہور کے طول و عرض میں رہائش پذیر ہو چکی ہے۔اس وقت پسماندہ اور متوسط طبقہ کی آبادیوں کے ساتھ ساتھ ایسے علاقے جن میں شور و غل کم ہے اور پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیمیں جن میں لوگ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں وہاں یہ لوگ آباد ہو چکے ہیں ان لوگوں کو آباد کاری کا این او سی مقامی پولیس اسٹیشن سے حاصل کرنا تھا یہ کام مقامی پراپرٹی ڈیلروں نے اندر خانےکرا لیا ہے ۔ذرائع کے مطابق یونین کونسلوں کی انتظامیہ نے ان علاقوں میں پٹھانوں سے \'نذرانے" لے کر لاہور کے شہری بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کی لاہور میں مستقل سکونت ہونے کی تصدیق کی ہے بلکہ انہیں این او سی سرٹیفکیٹ بھی دے دیے ہیں اس حوالے سے ڈی سی او لاہور کیپٹن عثمان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کرا ئیں گے معاملہ پہلے بھی پولیس کے حوالے کیا گیا ہے اب پولیس کے متعلقہ افسروں سے رپورٹ طلب کریں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...