پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ39ہزار افراد میں کینسر کی تشخیص ہورہی ہے،ماہرین

پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ39ہزار افراد میں کینسر کی تشخیص ہورہی ہے،ماہرین

  



 لاہور(پ ر) پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ 39 ہزار افراد میں کینسر کی تشخیص ہورہی ہے۔ جبکہ یومیہ 381 افراد کینسر میں مبتلا اور 278 افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ مردوں کے مقابلہ میں اس مرض کی تشخیص میں زیادہ تر خواتین چھاتی کے کینسر کا شکار ہوئی ہیں کیونکہ غیر معیاری اور غیر متناسب خواراک انسانی وجود کی 80 فیصد بیماریوں کی وجہ ہے جن میں سے بعض بیماریاں جان لیوا بھی ہو سکتی ہیں۔ زیادہ اور لگاتار گوشت کھانے والے افراد میں امونیا کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو کینسر کے خلیے بننے کی وجہ ہو سکتی ہیاِن خیالات کا اظہار کینسر کے حوالے سے ادارہ فروغ طب یونانی پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار \"کینسر اور اس کی احتیاطی تدابیر\" کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے حکیم عبدالواحید سلیمانی ، حکیم طلحہ وحید سلیمانی، حکیم عروہ وحید سلیمانی، حکیم محمد افضل میونے کیا حکیم سید عمران فیاض، حکیم شوکت علی سندھو، حکیم فیصل نواز ہنجرا، حکیم غلام فرید میر، حکیم احمد حسن نوری، حکیم سید عارف رحیم اور طبیبہ سمیرا گلزار نے کیا کینسر میں بادام، امرود، ٹماٹر، پیاز، اجوائن، سلاد کے پتے،ا سٹابری، شہد، گاجر کا جوس، براکلی، گوبھی، چقندر، ہلدی، انناس، رس بھری، شکر قندی، سامن مچھلی، السی کے بیج اور انار کا استعمال اس مرض کے خاتمہ میں انتہائی معاون ثابت ہو تا ہے۔ اسکے علاوہ فالسہ، اخروٹ، شملہ مرچ، گریپ فروٹ، کنو، مالٹا، مسمی بھی انتہائی سود مند ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سبزیوں اور پھلوں کے استعمال سے جسم کی قوت مدافعت کو بڑھایا جا تا ہے تاکہ وہ کینسر کے خلاف دفاع کر سکے۔ مزید یہ کہ موجودہ دور میں کینسر کا علاج کافی حد تک ممکن ہے وقت پر مرض کی تشخیص اور علاج سے کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کی قدرتی کچے پھل اور سبزیا ں اپنے اندر ایسے اجزاء رکھتے ہیں جو کینسر کے خلیوں کو ختم کر سکتے ہیں۔ اس لیئے کینسر سے بچاؤ اور علاج کے دوران ان کا استعمال بہت زیادہ مقدار میں کرنا ضروری ہے۔ جبکہ گوشت، فاسٹ فوڈز، کولا مشروبات، جنک فوڈز کا استعمال اس دوران ترک کر دینا چاہیے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...