حکومتی ناقص پالیسیوں سے پوراملک اندھیروں میں ڈوباہوا ہے، سید وسیم اختر

حکومتی ناقص پالیسیوں سے پوراملک اندھیروں میں ڈوباہوا ہے، سید وسیم اختر

  



لاہور( پ ر) امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب و پارلیمانی لیڈر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سید وسیم اختراور سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ نے کہاہے کہ ملک میں مہنگائی کاجن بے قابو ہوچکا ہے۔عوام کو کسی قسم کاکوئی ریلیف میسر نہیں۔دووقت کی باعزت روٹی کمانابھی مشکل ہوچکا ہے۔مہنگائی،بے روزگاری،لاقانونیت،دہشتگردی اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل ملکی ترقی وخوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران سنجیدگی کامظاہرہ کریں۔پٹرول کے نرخ کم ہونے کے باوجود ثمرات عوام کو منتقل نہیں ہورہے۔   اشیاء خوردونوش کی قیمتیں جوں کی توں ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سنگین بحرانوں کی زد میں ہے۔معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف کی اجازت سے تیار اور نافذالعمل ہورہی ہیں۔حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث18کروڑ عوام کی قوت خریدبری طرح متاثر ہوئی ہے۔رہی سہی کسرلوڈشیڈنگ نے پوری کردی ہے۔کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ملک اندھیروں میں ڈوباہوا ہے۔جماعت اسلامی پنجاب کے رہنماؤں نے مزیدکہاکہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کوقدرتی وسائل سے مالامال بنایاہے۔حکمران اگر اپنے اللے تللے کنٹرول اوربیرون ملک پڑی دولت پاکستان لے آئیں تو ہمیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ٹیکسوں کے نظام کو موثر بنایاجائے۔بڑے مگرمچھوں کے لئے ٹیکس کی چھوٹ اور قرضوں کی معافی جبکہ چھوٹے تاجروں کوتنگ کیاجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کوضروریات زندگی کی تمام سہولیات فراہم کرے۔18ماہ میں ہی حکومت عوام میں اپنی مقبولیت کھوچکی ہے۔حکومت اعلان کے باوجود قرضوں کاکشکول توڑنے سے مکمل طور پر نہ صرف ناکام رہی ہے بلکہ گزشتہ دنوں پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات کی کامیابی کے بعد518ملین ڈالر کی قسط منظور کروانے میں بھی کامیابی کوفخریہ اندازمیں بیان کیاجارہاہے۔ٹیکسوں کے ہدف کو60ارب روپے کی کمی کرکے2750ارب روپے کردیاگیا ہے جوکہ حکومتی ناکام پالیسیوں کی منہ بولتی مثال ہے۔امریکی دباؤپر پاک ایران گیس پائپ لائن جیساقومی مفاد کامنصوبہ مسلسل تاخیر کاشکار ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں ایک طرف حکمران اور سیاستدان اربوں ڈالر کے مالک ہیں جن کے صرف سوئس بنکوں میں200ارب ارب ڈالرجمع ہیں تودوسری جانب عوام مہنگائی کے باعث خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔2008میں پاکستان میں ہر پیداہونے والابچہ37ہزار روپے کامقروض تھاجبکہ آج وہ ایک لاکھ روپے کامقروض ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...