افغانستان میں دہشت گردوں کے مراکز ختم کروانا ہو نگے

افغانستان میں دہشت گردوں کے مراکز ختم کروانا ہو نگے
افغانستان میں دہشت گردوں کے مراکز ختم کروانا ہو نگے

  



 لاہور میں پولیس لائنز کے سامنے خودکش حملہ کوئی سرپرائز نہیں تھا۔ اس حوالے سے اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ لاہور میں پولیس کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔ ایک دن قبل لاہور کے مرکز میں واقع سول سیکرٹریٹ کے اندر ہر قسم کی پرائیوٹ گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔ لیکن اگر دہشت گردوں نے پولیس کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ ہی کر لیا تھا تو پولیس کو کہیں چھپا یا نہیں جا سکتا تھا۔ پولیس تو ہر سڑک ہر گلی میں موجود ہے۔ یہ درست ہے کہ اس دفعہ بھی خود کش حملہ آور پولیس لائنز کے اندر داخل نہیں ہو سکا وہ اپنا ٹارگٹ حاصل نہیں کر سکا۔ اس طرح وہ نا کام بھی ہوا لیکن کامیاب بھی ہو ا۔اس بم دھماکہ نے ایک بار پھر یہ باور کروایا ہے کہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ دشمن نے بھی بتا یا ہے کہ وہ ابھی اتنا کمزور نہیں ہوا کہ ہم پر حملہ نہ کر سکے۔ ضرب عضب میں بے پناہ کامیابیوں کے باوجود دشمن میں ابھی حملہ کرنے کی طاقت باقی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان یہ کہتے ہیں کہ خود کش حملہ آور کو روکنا تقریباًنا ممکن ہے۔ جو گھر سے بم باندھ کر نکل آیا ۔ اس کو روکنا نا ممکن ہی ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی ترک وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد کابل چلے گئے۔ کہا جا رہا ہے کہ ملا فضل اللہ کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔لاہور کے بم دھماکہ کی بھی ذمہ داری ملا فضل اللہ کی تنظیم تحریک طالبان نے ہی قبول کی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ خود کش بمبار ملا فضل اللہ ہی بھیج رہا ہے۔ ایک دوست نے سوال کیا ہے جو قابل غور ہے۔ اس نے کہا پاکستان میں بد امنی کی کئی اقسام ہیں۔ ایک تحریک طالبان ۔ دوسرا قوم پرست بلوچ۔ تیسرا فرقہ واریت۔ اور پھر کراچی میں بد امنی۔ یہ سب الگ الگ ہیں۔ ان کے نظریات الگ الگ ہیں۔ اہداف الگ الگ ہیں۔ لیکن یہ سب پولیو ورکرز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آخر کون ہے جو ان سب کو پولیو ورکرز کو نشانہ بنانے کا کہہ رہا ہے۔ اس طرح کہیں ایسا تو نہیں کہ سب کو ایک ہی جگہ سے ٹارگٹ ملتا ہے۔ اس تناظر میں افغانستان میں پاکستانی سرحد کے ساتھ قائم بھارتی سفارتخانوں پر بھی انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے اصل مراکز یہ سفارتخانہ ہیں۔ یہ درست ہے کہ فوج کے سربراہ اور فوجی کمانڈرز کے افغانستان کے دورے صرف ملا فضل اللہ کی حوالگی کے لئے نہیں ہیں بلکہ ان کابڑا مقصد افغانستان میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے تمام مراکز کا خاتمہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی اور ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ لیکن اس تعاون کے نتیجے میں ابھی کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوا ہے۔ عوام کوفوجی جرنیلوں کے افغان دوروں کے نتیجے میں بڑے بریک تھرو کا انتظار ہے۔ بات سادہ اور قابل فہم ہے کہ جب تک افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹریننگ سنٹرز قائم رہیں گے پاکستان میں امن نہیں ہو سکتا۔ آخر ان خود کش حملہ آوروں کی ٹریننگ بھی تو ہوتی ہے۔ ان کو فنڈزفراہم بھی کئے جاتے ہیں۔ ضرب عضب کے بعد بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ پاکستان میں اس وقت د ہشتگردوں کی ٹریننگ کا کوئی سنٹر موموجود ہو ۔ اگر شمالی وزیر ستان میں ایسا کوئی سنٹر موجود بھی تھا تو اب نہیں ہو گا کیونکہ وہاں جس قدر بمباری کر دی گئی ہے۔ اب وہاں ایسی کوئی کارروائی ممکن نہیں ہے۔ شمالی وزیر ستان کو تو اس حد تک کلیئرکرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ سفارتکاروں کو بھی شمالی وزیر ستان کا دورہ کروا یا گیا ہے۔ اب یہ انفرا سٹرکچر افغانستان منتقل ہو چکے ہیں۔اس لئے جنرل راحیل شریف اور لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر افغانستان گئے ہیں۔ بات صرف ملا فضل اللہ کی حوالگی کی نہیں ۔ بلکہ ا فغانستان میں قائم دہشت گردی کے انفرا سٹرکچر کے خاتمہ کا بھی معاملہ ہے۔ اسی لئے چینی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں افغانستان میں امن کے لئے روڈ میپ پیش کیا۔ چینی وزیر خارجہ نے افغانستان میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مصالحت کی پیشکش کی تھی۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لئے طالبان سے مفاہمت کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ چین پاکستان کا دوست ہے۔ اور دوست کی بات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ پولیس کا کام عوام کا تحفظ کرنا ہے ۔ لیکن سب انسپکٹر یوسف بھی ایک شہید ہے۔ اس نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر دہشت گردوں نے پولیس کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو پولیس تو کہیں چھپ نہیں سکتی۔ سکولوں کی طرح تھانوں کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس جن وی آئی پیز کو تحفظ دے رہی ہے۔ اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح دہشت گردی کے اس واقعہ نے ایک بار پھر پولیس کی اہمیت کو واضع کیا ہے۔ اس وقت پولیس کے مورال کو بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اگر پولیس کا مورال ڈاؤن ہو گیا تو پھر عوام کو تحفظ کون دے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب ۔ آئی جی پنجاب ۔ اور سی سی پی او لاہور کو پولیس کا مورال بلند رکھنے کے لئے خصوصی اقدامات کرنا ہو نگے۔

مزید : کالم


loading...