انتہاء پسندی سے نمٹنے کیلئے وائٹ ہاؤس میں3 روزہ کانفرنس کا افتتاح

انتہاء پسندی سے نمٹنے کیلئے وائٹ ہاؤس میں3 روزہ کانفرنس کا افتتاح

  



واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)امریکی نائب صدر جو بیڈن نے آج سہہ پہر وائٹ ہاؤس میں ایک تین روزہ کانفرنس کا افتتاح کیا جس میں امریکہ کے مختلف شہروں کے نمائندے شدید انتہا پسندی کے مقابلے کے لئے اقدامات پر غور کریں گے جس کے بعد ایک مربوط پالیسی تیار کی جائے گی۔صدراوبامہ بدھ کے روز اس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔جمعرات کے روز امریکی وزارت خارجہ میں دنیا کے ساٹھ ممالک کے دہشت گردی سے نمٹنے والے سکیورٹی ماہرین کی ایک اہم کانفرنس بھی ہو رہی ہے۔ صدر اوبامہ جمعرات کو غیر ملکی نمائندوں کے اس اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان بھی وزارت خارجہ کے اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وہ آج شام واشنگٹن پہنچ رہے ہیں۔اپنے ایک ہفتے کے امریکی دورے کے دوران وہ بدھ کے روز یہاں ایک امریکی تھنک ٹینک ’’یونائیٹڈسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس ‘‘ سے بھی خطا ب کریں گے۔واشنگٹن میں امریکی سفارت خانے کے اعلیٰ حکام نامعلوم وجوہات کی بناء پر وزیر داخلہ کی واشنگٹن میں سر گرمیوں کے بارے میں کچھ بتانے سے گریزاں ہیں۔ سفارت خانے کے پریس سیکشن کے ذرائع نے بتایا کہ انہیں فی الحال وزیرداخلہ کے تھنک ٹینک میں خطاب کی کوریج کی ہدایت کی گئی تھی۔اس کے علاوہ ان کے علم میں کچھ نہیں ہے۔ جیسے ہی انہیں معلومات حاصل ہوں گی وہ پریس کو اس سے آگاہ کریں گے۔دہشت گردی کو نمٹنے کے لئے امریکی شہروں کے نمائندوں کی وائٹ ہاؤس میں تین روز کانفرنس کے ساتھ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں غیرملکی نمائندوں کے اجلاس کے موقع پر واشنگٹن کے سکیورٹی سے متعلق حکام میں تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ساتھ ڈائریکٹر ریٹائرڈجنرل مائیکل ہیڈن نے ایک ٹی وی چینل ’’نیوز میکس ‘‘کو انٹرویودیتے ہوئے کہا کہ اوبامہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ امریکی عوام کو داعش کے حقیقی خطرے سے آگاہ کرے۔وہ کہتے ہیں کہ پتہ نہیں کہ صدر اوبامہ ان دہشت گردوں کے لئے ’’ریڈیکل اسلام ‘‘کی اصلاح استعمال کرنے سے کیوں گریزاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق اور شام میں اس دہشت گرد تنظیم کا عروج ایک ڈراؤنا خواب ہے لیکن ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہتے ۔کیونکہ عراق اور شام کی حکومتوں کو منتشرکرنے کے بعد وہ خطے کے باقی ملکوں کے لئے بھی خطرے کا باعث بن رہے ہیں۔ جنرل ہائیڈن کہتے ہیں کہ سارا اسلام یا سارے مسلمان ایسے نہیں ہیں لیکن بہر حال وہ نام تو اسلام کا استعمال کر رہے ہیں۔تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پیرس کی کوشرکٹیوران پر دہشت گردوں کے حملے کو صدر اوبامہ نے ’’اتفاقیہ‘‘ قرار دیا تھا جس کا نشانہ بننے والے سب یہودی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدراوبامہ نے ایسا کہہ کر سارے یورپی یہودیوں کے دل دکھائے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...