بائیومیٹرک تصدیق لازم ہونے پر وکلاء اور ریونیو سٹاف میں ہاتھا پائی

بائیومیٹرک تصدیق لازم ہونے پر وکلاء اور ریونیو سٹاف میں ہاتھا پائی

  



 لاہور(عامر بٹ سے)پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ انتظامیہ کے شعبہ آئی ٹی کی جانب سے وکلاء صاحبان کے ثبت انگوٹھوں کی بائیومیٹرک سے تصدیق لازم قرار،انکار کرنے والے وکلاء صاحبان کی رجسٹریاں پاسنگ سے روک دی گئی ،وکلاء کا شدید احتجاج ،نشتر ٹاؤن ،گلبر گ ٹاؤن سیمت دیگر رجسٹریشن برانچوں میں پرمیشن کا کام بند کر وا دیا گیا،محکمہ ریونیو کی انتظامیہ نے حسب روٹین بے بسی ظاہر کردی ،شہری ،وکلاء اور پی ایم یو انتظامیہ کے معاملات سلجھنے کا انتطار کرنے لگے ،مزید معلوم ہوا ہے کہ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ انتظامیہ کے شعبہ آئی ٹی کی جانب سے صوبائی دارلحکومت میں قومی شناختی کارڈ کی تصدیق کے ساتھ ساتھ رجسٹری ہٰذٰا پر مقر ر کئے جانے والے( لوکل کمیشن )وکلاء صاحبان کی بائیومیٹرک سسٹم پر تصدیق لازم قرار دے دیئے جانے پر وکلاء صاحبان کی بھی بائیومیٹرک سسٹم پر تصدیق لاز م قرار دیئے جانے پر وکلاء صاحبان کی کثیر تعداد سراپا احتجاج بن گئی،وکلاء صاحبان نے بائیومیٹرک سسٹم پر تصدیق کرنے سے انکاری ظاہر کر دی جس پر پی ایم یو انتظامیہ کی ہدائت پر ایسے وکلاء صاحبان جو بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے انگوٹھا تصدیق نہیں کروا رہے ان کی رجسٹری دستاویزات کو بھی روک دیا گیا ہے جس پر وکلاء صاحبان کی بڑی تعداد مشتعل ہو چکی ہے، اس ضمن میں نشتر ٹاؤن اور گلبر گ ٹاؤن کی رجسٹریشن برانچوں کو بھی بند کر وا دیا گیا اس طرح داتا گنج بخش ٹاؤن ،سمن آباد ،راوی ٹاؤن ،واہگہ ٹاؤن،عزیز بھٹی ٹاؤن اور شالیمار ٹاؤن کی رجسٹریشن برانچوں میں بھی وکلاء صاحبان کے ساتھ ریونیو سٹاف کے جھگڑے بڑھتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں بعض مقامات پر ہاتھا پائی اور گالی گلوچ بھی آزادانہ استعمال کیا جارہا ہے،اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں رجسٹریاں بھی التواء میں ڈال دی گئی ہے جس سے سیلرز اور پرچیزر کی کثیر تعداد بھی انتہائی پریشان حال نظر آرہی ہے وکلاء صاحبان اور پی ایم یو انتطامیہ کے درمیان شروع ہونے والی اس سرد جنگ میں عوام الناس کی بڑی تعداد پس کر رہ گئی ہے وکلاء صاحبان کی جانب سے موقف اختیار کیا جارہا ہے کہ وہ بائیومیٹرک پر اپنے انگوٹھے ثبت نہیں کریں گے ،دوسری جانب پی ایم یو انتظامیہ کا کہناہے بعض منشی اور پرائیویٹ افراد بھی لوکل کمیشن بنے ہوئے ہیں بائیومیٹرک پر انگوٹھا ثبت کرنے میں ان کو کوئی اعتراض نہیں ہو نا چاہیے بلکہ پرفیشنل اور سینئر وکلاء حضرات تو بائیومیٹرک ذریعے کروانے کے حامی ہیں ۔ ہاتھا پائی

مزید : صفحہ آخر