موثر اقدامات کی بدولت روا ں برس پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعدادمیں کمی متوقع ہے ،پاکستان

موثر اقدامات کی بدولت روا ں برس پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعدادمیں کمی متوقع ...

  



 اسلام آباد( مانییٹرنگ ڈیسک ،اے این این) پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ رواں برس پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں کمی آئے گی، حکومت اس وائرس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور بھرپور کوششوں میں مصروف ہے،انسداد پولیو مہم کے رضا کاروں کی سکیورٹی کے لیے جامع انتظامات کیے گئے ہیں،پولیو وائرس کے خاتمے میں پوری قوم کو کردار ادا کرنا ہوگا،رواں سال اب تک پولیو سے سات بچے متاثر ہو چکے ہیں جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 306 تک پہنچ گئی تھی۔وزیراعظم کی زیر صدارت قائم انسداد پولیو سیل کی سربراہ عائشہ رضا فاروق نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ حکومت اس وائرس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور بھرپور کوششوں میں مصروف ہے جس سے توقع ہے اس سال پولیو سے متاثر بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہو گی۔انھوں نے کہا کہ پولیو وائرس کے خاتمے میں پوری قوم کو کردار ادا کرنا ہوگا۔پولیو وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان میں اس مرض سے بچا کے قطرے پلانے کی قومی مہم کا آغاز پیر سے ہوا جس کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں مرحلہ وار پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلائے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ رواں سال اب تک پولیو سے سات بچے متاثر ہو چکے ہیں جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 306 تک پہنچ گئی تھی۔پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والے پولیو وائرس پر تاحال پوری طرح سے قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔دیگر دو ملکوں میں افغانستان اور نائیجیریا شامل ہیں لیکن گزشتہ سال وہاں رپورٹ ہونے والے پولیو کے نئے کیسز کی تعداد پاکستان سے انتہائی کم ہے۔ملک میں پولیو کے کیسز میں تشویشناک اضافے کی ایک بڑی وجہ حکام کے بقول قبائلی علاقوں خصوصا شمالی وزیرستان میں انسداد پولیو مہم کی ٹیموں کی دو سال سے زائد عرصے تک رسائی کا نہ ہونا بتائی گئی۔تاہم حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن کے آغاز کے بعد وہاں سے، جو بچے اپنے خاندانوں کے ساتھ نکلے انھیں اس مرض سے بچا کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔پاکستان کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو کی ٹیموں پر گزشتہ دو سالوں کے دوران ہونے والے ہلاکت خیز حملوں کی وجہ سے اس وائرس کے انسداد کے لیے چلائی جانے والی قومی مہم بری طرح متاثر ہوتی رہی۔حکومت کا کہنا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے رضا کاروں کی سکیورٹی کے لیے جامع انتظامات کیے گئے ہیں۔ پاکستان

مزید : صفحہ آخر


loading...