لاہور ہائی کورٹ کا پُرامن مشاعرہ

لاہور ہائی کورٹ کا پُرامن مشاعرہ
 لاہور ہائی کورٹ کا پُرامن مشاعرہ

  



جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں پیدا ہونے والے عدالتی بحران نے جہاں آمریت کی جڑوں کو کمزور کیا، وہاں اس نے وکلاء برادری کی بکھری ہوئی طاقت کو بھی مجتمع کیا۔ وکلاء برادری نے جس مقصد کے لئے دن رات سڑکوں کی خاک چھانی وہ تو اس نے بالآخر حاصل کرہی لیا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے بونس کے طور پر ایک اور تحفہ بھی ملا۔ وہ ہے اس کی طاقت توانائی اور اجتماعی ۔ وکلاء میں لاکھ انتشار ہو لیکن جب یہ گروہ کی شکل میں نکلتے ہیں تو حکمرانوں کے دل دہل جاتے ہیں۔ ان کے محلات کی دیواریں کانپنے لگتی ہیں۔ یہ کالی آندھی اتنے زوروں سے چلتی ہے کہ سب کچھ بہا کر لے جاتی ہے۔ حتی کہ کالے کوٹ سے اب کالی وردی بھی ڈرتی ہے۔ کسی زمانے میں صحافی اس بات پر نازاں رہا کرتے تھے کہ کالی وردی والے ان کے سامنے چوں چراں تک نہیں کرتے۔ اب یہ اعزاز ہمارے وکلاء کو بھی حاصل ہو گیا ہے، بلکہ اب اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ پولیس والے صحافی کی رجسٹرد گاڑی کو بھی روک لیتے ہیں لیکن وکیل کی بغیر نمبر گاڑی کو بھی جانے دیتے ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر ان صحافی بھائیوں نے اپنی گاڑیوں کی نمبر پلیٹ سے پریس کا لفظ ہٹا کر ایڈووکیٹ لکھوا لیا ہے جنہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ جس طرح صحافت کے ہمارے بڑے بار بار یہ بات کہتے نظر آتے ہیں کہ اظہار کی آزادی ہمیں کسی نے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی، اسی طرح ہمارے وکیل بھائی بھی اب بلا توقف کہہ سکتے ہیں کہ یہ طاقت توانائی اور اجتماعی رعب کسی نے انجکشن لگا کر ہمارے جسموں میں نہیں بھرا، بلکہ ہم نے بزورِ بازو حاصل کیا ہے۔ چند روز پہلے پنجابی انسٹی ٹیوٹ فار کلچر اینڈ لینگوئج کی ڈائریکٹر محترمہ صغرا صدف نے فون پر بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہائی کورٹ کے احاطے میں واقع تاریخی برگد کے سائے تلے ایک قومی مشاعرے کا اہتمام کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اپنے انداز میں مجھے اس مشاعرے میں شرکت کی دعوت دے رہی تھیں۔ ویسے بھی صغرا صدف کو میں کم ہی انکار کر پاتا ہوں۔ یہ بی بی اتنی اپنائیت اور محبت سے آپ کو کسی تقریب میں شرکت کے لئے کہتی ہیں کہ انکار کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ لاہور ہائی کورٹ کے اس تاریخی برگد کے بارے میں، میں نے اپنے بعض صحافی دوستوں سے سنا تھا کہ یہ ہماری سیاسی تاریخ کے بہت سے اتار چڑھاؤ کا امانت دار ہے۔ سرفراز سید نے ایک بار کہا تھا کہ اگر اس برگد کو زبان مل جائے تو یہ بہت سی کتابوں کی تخلیق و تکمیل کا سبب بن سکتا ہے اس برگد نے بہت بڑے بڑے ججوں اور وکلاء کی باتیں سنی ہیں۔ یہ بتا سکتا ہے کہ کس نے کب جرات سے کام لیا اور کس نے کب مصلحت کوشی کا رویہ اختیار کیا۔ اب یہ برگد ایک بہت بڑے قومی مشاعرے کا راز دار بھی ہو گیا ہے۔ اس نے دیکھ لیا ہے کہ ڈاکٹر صغرا صدف کس طرح کمپیرنگ کرتی ہے اور کس طرح مشاعرہ لوٹتی ہے؟ اس برگد نے اب سن لیا ہے کہ ہمارے عہد کے اچھوتے اور منفرد شاعر ڈاکٹر خورشید رضوی کس طرح رات کی خاموشی سے ہم کلام ہوتے ہیں؟ اس برگد نے جان لیا ہے کہ نجیب احمد غزل کس پیرائے میں سناتے ہیں؟ اس برگد نے بعض وکلاء کی شاعری بھی سن لی ہے جن میں احسان الحق مظہر اور کامران ناشط کے نام نمایاں ہیں۔ مجھے ظفر علی راجا اور بیدار سرمدی یہاں دکھائی نہیں دیئے، حالانکہ دونوں ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں۔ اگر سرفراز سید اور سعید آسی بھی یہاں دکھائی دے جاتے تو یہ مشاعرہ اور بھی جان دار ہو سکتا تھا کہ یہ دونوں اصحاب برسوں ہائی کورٹ کے رپورٹر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں اور اس برگد کے سائے تلے ججوں اور وکلاء کے ساتھ بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتے رہے ہیں۔ میرے دوست اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے ہائیکورٹ رپورٹر جناب سعید چودھری نہایت عمدہ شعری ذوق رکھتے ہیں، لیکن اللہ جانے وہ مشاعرے کی شام، کہاں غائب تھے؟ اس مشاعرے میں لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر جناب شفقت چوہان اور سیکرٹری جناب میاں محمد احمد چھچھر آخر تک موجود رہے، لیکن مجھے چونکہ ایک اور تقریب میں پہنچنا تھا اس لئے مَیں نے مشاعرے کی ابتداء ہی میں کلام سنایا اور لوٹ آیا۔ میرے سامنے بشریٰ حزیں، احسان الحق مظہر، کامران ناشط، صوفیہ بیدار، صغرا صدف اور حسن عباس نے کلام سنایا۔ ڈاکٹر خالد جاوید جان، نجیب احمد، ندیم بھابھا، حمیدہ شاہین، سعد اللہ شاہ، عباس تابش، اصغر ندیم سید، باقی احمد پوری، عطاء الحق قاسمی اور ڈاکٹر خورشید رضوی کو ابھی کلام سنانا تھا۔ کس کا کلام کیسا تھا؟ یہ تو مجھے کسی شاعر نے نہیں بتلایا لیکن کئی دوستوں نے بتایا کہ کھانا وافر بھی تھا اور لذیذ بھی تھا۔ کوئی شاعر اور وکیل کسی چیز سے محروم نہیں رہا۔ شاعروں کو داد ملی اور وکیلوں کو پورا کھانا۔ ہمارے بعض اداروں میں مشاعرہ ہوتا ہے تو وہاں اکثر اوقات شاعروں کی تقدیم و تاخیر کے سلسلے میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے چنانچہ وہ شاعروں اور مشاعروں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باغی ہو جاتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے اس مشاعرے میں امن و امان کی صورت حال بالکل ٹھیک رہی، کسی شاعر کو کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی اس کا ایک سبب تو ڈاکٹر صغرا صدف، میاں محمد احمد چھچھر اور جناب شفقت چوہان کا حسنِ انتظام تھا دوسرا وکلاء برادری کا وہ اجتماعی رعب تھا جو اس نے آمر پرویز مشرف کے دور میں بزورِ بازو حاص کیا ہے۔

مزید : کالم