پاکستان ابھرتی ہوئی معیشت ہے ،ملک چھوڑ کر جانیوالے جلد واپس آئینگے ،تُرک وزیر اعظم

پاکستان ابھرتی ہوئی معیشت ہے ،ملک چھوڑ کر جانیوالے جلد واپس آئینگے ،تُرک ...

  



                                  اسلام آ با د (ما نیٹرنگ ڈیسک +ا ے این ین) ترک وزیراعظم احمد داﺅد اوگلو نے کہا ہے کہ پاکستان ابھرتی ہوئی معیشت ہے، ملک چھوڑ کر جانے والے بھی جلد واپس آئیں گے۔ اسلام آباد میں پاک ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم میرا پاکستان کا پہلا دورہ ہے ، وزیر خارجہ کی حیثیت سے کئی بار پاکستان آچکا ہوں، میں پاکستان کو اپنا دوسرا گھر مانتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ہمارے لئے بھی کچھ مسائل پیدا ہوئے تھے جن سے حکمت اور تدبر کے ساتھ نمٹا گیا ہے، کامیابی کیلئے استحکام اور اسٹرٹیجک ویژن ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان مستقبل قریب میں ابھرتی ہوئی معیشت ہے جو لوگ پاکستان چھوڑ کر جارہے ہیں وہ بھی جلد واپس آجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ 80ءکی دہائی میں جو لوگ ترکی سے ہجرت کرکے یورپ چلے گئے تھے آج وہ وطن واپس آگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ معیشت کی بحالی کیلئے اصلاحات ضروری ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آنے سے خوشی ہوئی ہے۔ پاکستان اور ترکی کی دوستی کو مزید مستحکم کرنے کیلئے کام کرنا ہوگا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ترک وزیر اعظم کا دورہ باہمی تعلقات کی نئی راہیں کھولے گا،تجارت کیلئے ترکی کے ساتھ ریل کا نظام بھی متعارف کروانا چاہتے ہیں،حکومت دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ جیتنے کے لئے پر عزم ہے،2017تک بجلی بحران پر قابو پا لیں گے،معاشی اصلاحات کے باعث اسٹاک ایکس چنیج بلند ترین سطح پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میرا دوسرا نہیں، پہلا گھر ہے،مستقبل قریب میں دونوں ملکوںکے تعلقات مزید مضبوط ہونگے، دونوں ملکوںکے تعلقات کو مستحکم کرنامیرا وژن ہے۔آئی ڈی پیز کی امداد کرنے پر ترک وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انھوں نے کہا کہ احمد داو¿د اوگلو کے پاکستان کے دورے سے دوطرفہ تعاون تجارت اور سرمایہ کاری کےلیے نئی راہیں کھلیں گی۔دونوں ملکوں کے درمیان مزید تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ معاشی اصلاحات کے باعث اسٹاک ایکس چنیج بلند ترین سطح پر ہے۔ ہم ہشتگردی کے خلاف جنگ ہر صورت جیتنے کیلیے پرعزم ہیں۔انھوں ے کہا کہ حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کیلیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں،2017 تک بجلی بحران پر قابو پالینگے۔ توانائی بحران کے خاتمے کے نجی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہیں گے۔وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ تجارت کیلئے ترکی کے ساتھ ریل کا نظام بھی متعارف کروانا چاہتے ہیں۔پاکستان کو ایک کامیاب جمہوری اور مستحکم ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ میرے دل میں ترکی کے لوگوں کے لئے بہت محبت ہے۔بزنس فورم سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر تجارت خرم دستگیر نے بھی خطاب کیا۔

اسلام آباد(اے پی پی) پاکستان اور ترکی نے معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، مواصلات، توانائی، تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور دوطرفہ تجارت میں اضافہ کےلئے آزاد تجارت کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا ہے اور اس سلسلے میں مفاہمت کی تین یادداشتوں، پانچ پروٹوکولز، ایک معاہدے، ایک اضافی پروٹوکول اور پاک ترکی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے گئے۔ یہ سمجھوتے وزیراعظم ہاﺅس میں پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ سطحی سٹریٹجک تعاون کونسل کے اجلاس میں طے پائے ۔اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم محمد نواز شریف اور ترکی کے وفد کی قیادت ترکی کے وزیراعظم احمد داﺅد اولو نے کی۔ سٹریٹجک کونسل کے اجلاس میں پاکستان اور ترکی کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے چیمبرز اور کاروباری برادری کے درمیان روابط کے فروغ کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا اور دونوںممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافے کے لئے آزاد تجارت کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے اور دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانے کے لئے بھرپور اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ سٹریٹجک تعاون کونسل کے اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان چیمبرز کی سطح پر رابطے بڑھانے کے ساتھ ساتھ سائنسی تعاون کے فروغ، تحفظ حقوق دانش کے لئے مشترکہ اقدامات اور تیل و گیس کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے علاوہ جہاز رانی و بندرگاہوں کے شعبے میں دوطرفہ روابط مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان بین الریاستی اور عوام کی سطح پر انتہائی مثالی تعلقات ہیں، ترکی کے وزیراعظم احمد داﺅد اولو کی اپنے دوسرے گھر پاکستان آمد پر ہمیں خوشی ہوئی ہے، ترکی نے پشاور میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان کی بھرپور حمایت کی، ترکی کی قیادت نے ہر مشکل کی گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور دونوں اقوام ہر مشکل میں عالمی، علاقائی اور دوطرفہ معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے سٹریٹجک تعاون کونسل کے چوتھے سیشن میں دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں میں تعاون کے فروغ کا جائزہ لیا گیا، ہم نے تجارت، توانائی، مواصلات، تعلیم، ثقافت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی ہے، پاکستان اور ترکی اپنے اہم تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں تبدیل کریں گے اور ہم دوطرفہ تجارت میں فروغ چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے دونوں ملکوںکے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کے لئے تیزی سے پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج جن معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں اور دستخط ہوئے ہیں ان سے معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو استحکام حاصل ہو گا، پاکستان اور ترکی کا اپنے اپنے خطے میں انتہائی اہم کردار ہے اور ہم نے ترکی کے وزیراعظم کو جنوبی ایشیاءمیں امن، استحکام اور ترقی کے لئے پاکستان کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں بتایا ہے، پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے اور تنازع کشمیر کا ہم پر امن حل چاہتے ہیں، امید ہے کہ بھارت بھی خطہ کے استحکام کے لئے اسی قسم کے جذبات کا اظہار کرے گا۔افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمہ اور امن و استحکام کے لئے بھی ہم مل کر کام کریں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ ترکی کے وزیراعظم کے ساتھ ہماری ملاقات پیرس حملے کے بعد ہو رہی ہے، آزادی اظہار کے نام پر حضور اکرم اور دیگر مقدس ہستیوں کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہم ہر قسم کی دہشت گردی اور اسلام فوبیا کی مذمت کرتے ہیں، سٹریٹجک تعاون کونسل کے اجلاس سے دوطرفہ تعلقات کو مزید استحکام ملے گا، پاکستان اور ترکی دوطرفہ، علاقائی اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ترکی کے وزیراعظم احمد داﺅد اولو نے کہا کہ ترکی کا وزیراعظم بننے کے بعد ان کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے، اس سے پہلے وہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے پاکستان کے کئی دورے کر چکے ہیں۔ اعلیٰ سطحی سٹریٹجک تعاون کونسل کا اجلاس ہمارے لئے بہت اہم ہے، پاکستان اور ترکی کے تعلقات کئی دہائیاں پرانے ہیں اور ہمارے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے عوام مشکل حالات پاکستان کی طرف سے اپنی حمایت کو نئی بھلا سکتے، پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں ترکی اور اس کے عوام کی مدد کی ہے جبکہ ترکی نے بھی سیلاب سے متاثرہ افراد اور بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی سمیت مشکل اوقات میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ سٹریٹجک تعاون کونسل کے اجلاس میں دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تجارت، توانائی، نقل و حمل اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے معاملات کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دو سال کے دوران دوطرفہ تجارت کا حجم 3 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا، ترکی اور پاکستان کے درمیان ریلوے، سول ایوی ایشن، میری ٹائم اور فضائی رابطے مزید بڑھانا ہوں گے، ہم نے مفاہمت کی جن یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کئے ہیں ان سے پاکستان اور ترکی کے درمیان تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان اپنے اپنے خطے میں انتہائی اہم کردار کے حامل ممالک ہیں اور افغانستان میں امن پاکستان اور ترکی دونوں کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے، ترکی میں افغانستان کے معاملے پر سہ فریقی کانفرنس کا انعقاد اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان شاندار تعاون موجود ہے جو افغانستان میں امن و استحکام کے لئے مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ اچھے ہمسائیگی تعلقات کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں، دہشت گردی سے نمٹنے اور اسلام فوبیا کے حوالے سے ہمارا موقف ایک ہے اور ہم مل کر اسلام فوبیا کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکہ میں مسلمانوں کی ہلاکتوں اور یورپ میں مساجد کو نذر آتش کرنے کے معاملے پر بھی تشویش ہے، یہی اسلام فوبیا ہے، پاکستان اور ترکی ایشیاءکی دو اہم جمہوریتیں ہیں اور ہم ایک دوسرے کی حمایت اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہ صرف جاری رکھیں گے بلکہ اسے مزید فروغ دیں گے۔ قبل ازیں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر مزمل حسین صابری اور انقرہ چیمبر آف کامرس کے وائس چیئرمین کورے گنگورسنال نے تعاون سے متعلق پروٹوکول پر، ایوان صنعت و تجارت لاہور اور انقرہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان تعاون کے ایک پروٹوکول پر ایوان صنعت و تجارت لاہور کے صدر اعجاز احمد ممتاز اور انقرہ چیمبر کے نائب صدر کورے گنگورسنال، لاہور چیمبر اور کیسری چیمبر آف کامرس کے درمیان تعاون کے پروٹوکول پر لاہور چیمبر کے صدر اعجاز احمد ممتاز اور صدر کیسری چیمبر آف کامرس مہمت ہزلیماس، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے لئے پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے صدر انور نسیم اور ترک اکیڈمی آف سائنسز کے صدر احمد جواد جبکہ سائنس کے شعبہ میں تعاون کے لئے ایک معاہدے پر پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے صدر انور نسیم اور ترک اکیڈمی آف سائنسز کے صدر احمد جواد، ترک اکریڈیٹیشن ایجنسی اور پاکستان نیشنل اکریڈیٹیشن کونسل کی مفاہمت کی ایک اور یادداشت پر ڈائریکٹر پی این اے سی عصمت گل خٹک اور قائم مقام سیکرٹری جنرل ترک اکریڈیٹیشن ایجنسی ہلال ابراہیم، تعاون کے ایک اور پروٹوکول پر تحفظ حقوق دانش کے ڈائریکٹر جنرل عامر احسان، او جی ڈی سی ایل اور ترک آئل کمپنی کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر قائمقام سیکرٹری پٹرولیم ارشد مرزا اور ترک نیشنل آئل کمپنی کے نمائندے بیسم سسمان، مفاہمت کی ایک اور یادداشت پر وزارت جہاز رانی و بندرگاہیں کے سیکرٹری خالد پرویز اور ٹی سی ڈی ڈی کے شعبہ بندرگاہوں کے سربراہ یوسف تنابلو، سرمایہ کاری کے اضافے اور فروغ سے متعلق ایک اور اضافی پروٹوکول پر سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین مفتاح اسماعیل اور ترک وزیر معیشت نہت زیبچی جبکہ پاکستان اور ترکی کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے مشترکہ اعلامیہ پر وزیراعظم محمدنواز شریف اور ترک وزیراعظم احمد داﺅد اولو نے دستخط کئے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ سینیٹر پرویز رشید، وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر جہاز رانی و بندرگاہیں کامران مائیکل، وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ مفتاح اسماعیل بھی موجود تھے۔

مزید : صفحہ اول


loading...