سیلاب، دھرنوں سے معیشت کو نقصان پہنچا، پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے سے مہنگائی کم ہو گی، سٹیٹ بینک

سیلاب، دھرنوں سے معیشت کو نقصان پہنچا، پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے سے مہنگائی ...

  



                لاہور(کامرس رپورٹر)بینک دولت پاکستان نے مالی سال2014-15ءکی پہلی سہ ماہی کی رپورٹ بعنوان ’پاکستانی معیشت کی کیفیت‘ پارلیمنٹ کو پیش کر دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی تین ماہ جولائی تا ستمبر میں پاکستانی معیشت کو کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑاجن میں اسلام آباد میں وسط اگست کا لانگ مارچ اور احتجاجی دھرنا تھا جس کے باعث ملکی معیشت بری طرح متاثر ہوئی جبکہ پنجاب سمیت ملک بھر میں سیلاب سے زراعت کو نقصان پہنچا جس سے غذائی اشیاءکی قیمت بڑھنے سے مہنگائی بڑھ گئی تاہم اس سال مالیات و بیمے اور ٹیلی مواصلات کے متحرک ہونے سے بظاہر خدمات کے شعبے میں تیزی آئی ہے۔معیشت کے امکانات پر بحث کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بیرونی شعبے کو سب سے زیادہ فائدہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے ہو گا کیونکہ ہمارے درآمدی بل کا تقریباً 35 فیصد پٹرولیم پر مشتمل ہے۔ مہنگائی بھی ابتدائی توقعات سے کافی کم رہنے کا امکان ہے کیونکہ حکومت بین الاقوامی نرخوں کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی خردہ قیمتیں باقاعدگی سے گھٹا رہی ہے۔ رپورٹ میں مالیاتی خسارے کا ساختی جز کم کرنے کے لئے اہم اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے مالیاتی اصلاحات نافذ کرنے کے لئے ایک وسط مدتی حکمت عملی تشکیل دی ہے جس میں محاصل کی پیداوار بہتر بنانے سے لے کر گھاٹے میں جانے والی پی ایس ایز میں نجی شعبے کی شرکت بڑھانے تک مختلف اصلاحات شامل ہیں۔ پاکستان ریلویز، جینکوز اور ڈسکوز کی تشکیل نو کے منصوبے بھی شروع کئے جا رہے ہیں تاکہ یہ پی ایس ایز پاکستان کی معاشی ترقی میں مثبت حصہ ڈال سکیں۔ تاہم ان منصوبوں میں تیزی لائی جانی چاہئے اور ان کی انتظامی و عملی نا اہلیوں اور مالیاتی شعبے اور بقیہ معیشت پر ان کے اثرات پر توجہ دی جانی چاہئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی سہ ماہی میں جاری اور مالیاتی کھاتے میں زیادہ خسارے دیکھے گئے جنھیں ملکی وسائل سے پورا کرناپڑا۔ تاہم رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران معیشت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے جس کے سال کے بقیہ حصے میں برقرار رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ میںرواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران بیرونی شعبے کی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جولائی تا ستمبر2014-15ءکے دوران مجموعی تجارتی خسارہ گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.6 ارب ڈالر بڑھ گیا۔ سہ ماہی کے دوران ترسیلات زر 765 ملین ڈالر بڑھ جانے کی وجہ سے اس اضافے کی جزوی تلافی ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق جاری کھاتے کا بڑھتا ہوا خسارہ، بازار مبادلہ کی غیر یقینی کیفیت کے ہمراہ ان کلیدی عوامل میں شامل تھا جو زری پالیسی کو جولائی تا ستمبر 2014 ءکے دوران سخت رکھنے کے اسٹیٹ بینک کے فیصلے کا سبب بنے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے دوران حکومتی قرض پچھلے سال کے مقابلے میں کم رہا کیونکہ حکومت پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور بچت اسکیموں کے ذریعے غیر بینک اداروں سے زیادہ قرض لے سکی۔ رپورٹ کے مطابق بینکاری نظام کے اندر حکومت نے مرکزی بینک کے بجائے کمرشل بینکوں سے زیادہ قرض لیا اور وہ بھی پچھلے برس کی اسی مدت کے مقابلے میں کم رہا۔رپورٹ کے مطابق صنعتی شعبہ ملی جلی تصویر پیش کر رہا ہے۔ سیمنٹ کی زیادہ مقدار، فولاد کی درآمدات اور پی ایس ڈی پی کے زیادہ اخراجات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی سہ ماہی میں تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی آئی۔ مزید برآں، چین اور بنگلہ دیش سے دھاگے اور کپڑے کی پست طلب کی بنا پر ٹیکسٹائل میں بھی سست رفتاری ہے۔شعبہ اجناس کی کمزوری کا نتیجہ تھوک اور خردہ تجارت کی سرگرمی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...