دہشت گردی کے خاتمے، امن کے قیام اور استحکام کے لئے مکمل اتفاق رائے

دہشت گردی کے خاتمے، امن کے قیام اور استحکام کے لئے مکمل اتفاق رائے
دہشت گردی کے خاتمے، امن کے قیام اور استحکام کے لئے مکمل اتفاق رائے

  



تجزیہ، چودھری خادم حسین

ایک بار پھر یہی مترشح ہو رہا ہے کہ مُلک میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان تعاون مثالی ہو گیا ہے۔ کئی حضرات اس معاملے کو کسی اور نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں، لیکن کراچی سے موصول ہونے والی اطلاعات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ امن و استحکام کے لئے سیاسی مصلحت اور دباﺅ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ اگرچہ یہ مشکل راہ ہے لیکن تعاون اسی طرح ہو تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور جذبہ سلامت رہا تو اس کا پھل بھی ملے گا۔ اس سلسلے میں پاکستان نژاد سابق برطانوی وزیر سعیدہ وارثی کی یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان نے ماضی میں جو غلطیاں کیں اب اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ تفصیل تو انہوں نے بیان نہیں کی،بظاہر ان سے مراد مغربی نقطہ نظر ہے، جس کے مطابق پاکستان نے بعض گروپوں کی حمایت کی جس کے نتیجے میں ان کو مُلک میں پاﺅں جمانے کا موقع ملا ہے۔ بہرحال اگر وہ یہ بھی کہنا چاہتی ہیں تو اب پوری سیاسی قیادت نے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دے کر اور سیاسی اور عسکریت قیادت نے باہمی طور پر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جہاد شروع کر کے تلافی کی بھرپور کوشش کی ہے۔ حکومت اور فوج کے مطابق اب آپریشن کسی امتیاز کے بغیر جاری ہے۔

اسی روشنی میں کراچی آپریشن کے حوالے سے بات اور فیصلے ہوئے۔ اندر کی کئی کہانیاں بیان کی جا رہی ہیں، لیکن بہتر عمل یہ ہے کہ جو سرکاری طور پر کہا گیا اس پر ہی یقین کیا جائے تو بہتر ہو گا۔ بہرحال جب عملی شکل سامنے آئے گی تو فیصلوں کی افادیت بھی آ جائے گی۔ قومی مفاہمت کا جو سلسلہ شروع کیا گیا اور جس کے بڑے ترجمان آصف علی زرداری ہیں اسے مزید آگے بڑھنا چاہئے۔ سیاسی مفاہمت بھی لازمی ہے اور یہ ایسی ہونی چاہئے کہ سب فریق زیادہ حد تک مطمئن ہو جائیں اور یہ ناممکن نہیں، صرف ضد چھوڑ کر دلائل اور موقف کی سچائی پر بات کرنا اور ماننا ہو گی۔ یہ اچھا موقع ہے۔

ہمارا روزِ اول سے یہ مشورہ تھا اور ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کاصرف نام نہ لیا جائے، اسے مانا اور ثابت بھی کیا جائے۔ پارلیمنٹ سے نئے انتخابی نظام(جسے انتخابی اصلاحات کہا جا رہا ہے) اور نئے احتسابی نظام پر اتفاق رائے کیوں نہیں ہوتا؟ اس سلسلے میں آئینی ترامیم اور نئے قوانین کی منظوری کے لئے سب کیوں مل کر کام نہیں کرتے اور یہ سب دنوں میں کیوں نہیں ہوتا۔ اگر احتساب اور انتخابات قطعی شفاف، غیر جانبدار انہ اور منصفانہ نہیں ہوں گے تو پھر یہ محاذ آرائی تو رہے گی اگر مفاہمتی عمل کے نتیجے میں یہ سب ہو جائے تو ملک کو بھی فائدہ ہو گا اور امکانی طور پر نظام سے نفرت کرنے والے بھی مطمئن ہوں گے، مسئلہ صرف دہشت گردی نہیں، بلوچستان والوں کے مسائل بھی اسی طرح حل ہوں گے اور وہاں بھی مکمل امن ہو گا کہ قومی سطح پر ہی مفاہمت ہو، اب ایسا وقت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ”عسکری ونگز“ یا دوسرے معنوں میں تشدد پسند حضرات سے نجات حاصل کر سکتی ہیں اور ان کو کرنا چاہئے اس کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ جو یہ کہتے ہیں وہ خود بھی عمل کریں، جن کے پاس اختیار ہے وہ ذمہ دار بھی زیادہ ہیں۔

گزارش کی تھی کہ بلاول بھٹو زرداری اور پیپلزپارٹی کے مسئلے پر احتیاط کی جائے۔ انتظار کیا جائے اب صورت حال مزید پیچیدہ ہوئی ہے کیا بلاول کا تازہ ترین ٹویٹ اسی مقصد کے لئے تھا جسے سمجھا گیا ہے یا یہ بھی مصلحت پسندی کے لئے کرایا گیا۔ مسائل یقینا لیکن میڈیا میں جس طرح پیش کئے جا رہے ہیں ویسے نہیں ہیں۔ ابھی بھی انتظار کرنا چاہئے اور مخدوم امین فہیم کی حکمت عملی یا ”موومنٹ“ پر توجہ رکھنا چاہئے۔

مزید : تجزیہ