مردجنسی تسکین کیلئے ریپ نہیں کرتے ، یہ ایک طرح کا حملہ ہے: ترک خاتون ماہرنفسیات

مردجنسی تسکین کیلئے ریپ نہیں کرتے ، یہ ایک طرح کا حملہ ہے: ترک خاتون ...
مردجنسی تسکین کیلئے ریپ نہیں کرتے ، یہ ایک طرح کا حملہ ہے: ترک خاتون ماہرنفسیات

  



استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی میں یونیورسٹی سے واپسی پر ٹرک ڈائیور کی طرف سے طالبہ سے جنسی زیادتی کی کوشش میں ناکامی پر قتل کیے جانے کے بعد ریپ اور جنسی تشدد کے خلاف احتجاجی مہم جاری ہے اور ایک معروف ماہر نفسیات ’شیکا یوکسل‘نے کہاہے کہ مرد جنسی تسکین کیلئے ریپ نہیں کرتے ، سڑک پر کوئی آدمی کسی عورت کا ریپ نہیں کرتا ہے، وہ رازداری سے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر ریپ کرتے ہیں،ریپ جنسی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک حملہ ہے جس کا مقصد جیتنا ہے۔

بی بی سی سے گفتگوکرتے ہوئے خاتون ماہرنفسیات کاکہناتھاکہ یہ ایک چیز پر قابو پانے کا عمل ہے اور اس عمل میں عورت وہ چیز بن جا تی ہے،ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جن کو اس سے جنسی تسکین حاصل ہوتی ہو۔اُن کاکہناتھاکہ جب عورتوں کے حقوق کو نظر انداز کیے جائے گا اور ان پر جسسمانی، مالی اور نفسیاتی تشدد کی اجازت دی جائے گی تو پھر ریپ بھی ہوں گے، ہمیں پتہ ہے کہ جن لڑکیوں کی ماوو¿ں کو اپنی شادی میں تشدد کا سامنا رہا ہوتا ہے ان کو بھی اکثر اپنی شادیوں میں تشدد جھیلنا پڑتا ہے،جن آدمیوں کے باپ ان کی ماں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں وہ بھی اپنی بیویوں کے ساتھ پر تشدد رویہ اختیار کر تے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں اُن کاکہناتھاکہ کوئی بھی شخص اپنی اصلاح نہیں کر سکتا اگر وہ اپنے غلط کاموں کی ذمہ داری قبول نہ کرے۔ اگر وہ غلط کام کرنے کے بعد پکڑا جائے اور پھر یہ کہے کہ وہ اصل میں ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا تو وہ اپنی اصلاح کبھی بھی نہیں کر سکے گا،ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جن میں ریپ کا رحجان ہو اور وہ پکڑے جانے سے پہلے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مدد حاصل کریں،اس کا یہ ہی حل ہے کہ ریپ کے جرم میں سزا یافتہ افراد کو نفسیاتی مدد فراہم کی جائے مگر ترکی میں اس کا کوئی انتظام نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں اُن کاکہناتھاکہ معاشرے میں جنسی معاملات پر بات کرنا معیوب اور شادی سے پہلے جنسی تعلقات کی ممانعت ہے ، جنسی جرائم کی شکایات بھی کم ہی درج کرائی جاتی ہیں لیکن اس صورتحال میں خواتین کا مزید استحصال ہوگا اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنیں گی ، اُنہیں قانون کا سہارا لیناچاہیے ۔ اُن کاکہناتھاکہ جنسی حملوں سے حمل اور جنسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں اس لیے ضروری ہے کہ متاثرہ خواتین فوراً طبی مدد حاصل کریں،ایسے مرد جن کے ساتھی کے ساتھ ریپ ہوا ہو وہ بھی ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہوتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ان کو بھی ہر طرح کی سماجی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جائے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...