منگنی پر ہیرے کی انگوٹھی دینے کی روایت کیسے شروع ہوئی ؟ لاچار مردوں کے لیے مفیدمعلومات

منگنی پر ہیرے کی انگوٹھی دینے کی روایت کیسے شروع ہوئی ؟ لاچار مردوں کے لیے ...
منگنی پر ہیرے کی انگوٹھی دینے کی روایت کیسے شروع ہوئی ؟ لاچار مردوں کے لیے مفیدمعلومات

  



نیویارک(نیوزڈیسک)ہیرے کی انگوٹھی کا خیال دل میں آتے ہی سب سے پہلے اس کی قیمتی ہونے کا احساس دل میں آتا ہے کیونکہ ہم سب کا ہی یہ خیال ہے کہ منگنی یا کسی اور موقع پر ہیرے کی انگوٹھی دینے کا مطلب ہے کہ آپ اپنے محبوب سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کر رہے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس تما سوچ کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟اگر آپ کو اس حقیقت کا علم ہوجائے گا تو آپ دنیا میں ہونے والی اس بے وقوفی پر بے انتہا ہنسیں گے۔

ایڈروڈ جے نامی امریکی تحقیقاتی صحافی نے Have You Ever Tried to Sell a Diamondنامی آرٹیکل 1982ءمیں لکھا جس میں اس نے دقیق تحقیق کے بعد یہ بات ثابت کی کہ اصل میں ہیرے کی کوئی خاص قیمت نہیں لیکن دنیا بھر میں صرف اور صرف اشتہارات ،پروگراموں اور بڑی بڑی مشہور شخصیات کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھا دی گئی کہ اگر آپ نے اپنی محبت کا اظہار کرنا ہے اور اسے سچا ثابت ہونے کا ثبوت دینا ہے تو جتنا بڑا آپ کی انگوٹھی میں ہیرا لگا ہوگا اتنا ہی زیادہ آپ اپنا پیار نچھاور کر رہے ہوں گے۔ لڑکے اور لڑکیوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھا دی گئی کہ صرف اور صرف ہیرا ہی اصل محبت کا اظہار ہے۔یہ اشتہاری مہم اس قدر کامیاب تھی کہ امریکہ میں جو بھی شخص ہیرے کی انگوٹھی کا انتخاب نہیں کرتا اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کنجوس اور محبت نہ کرنے والا ہے۔

عروسی لباس کے بٹن نہ کھلنے پر دولہے نے دلہن کو مار مار کر حشر کر دیا،موقع سے فرار

ایڈروڈ جے لکھتا ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں جنوبی افریقہ میں بہت بڑی ہیر ے کی کانیں ملیں اور دنیا بھر کی مارکیٹ اعلیٰ طرح کے ہیروں سے بھر گئیں لیکن اب مسئلہ یہ درپیش تھا کہ سرمایہ کاروں نے ہیروں کی تلاش میں بہت زیادہ پیسہ لگا رکھا تھا جبکہ اس کی قیمت بہت کم تھی لہذا برطانوی سرمایہ کاروں نے اس کا حل یہ نکالا کہ دنیا بھر میں اس تاثر کو ابھارا جائے کہ ہیرے انتہائی قیمتی اور نایاب پتھر ہوتے ہیں اور اسی طرح ہیرے کی قیمت بڑھا کر اپنا ڈوبا ہوا سرمایہ بچایا جا سکتا ہے۔انہوں نے 1888ءمیں De Beers Consolidated Minesنامی کمپنی جسے اب De Beers کے نام سے بھی جانا جاتا ہے لانچ کی ۔یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہ کمپنی نہ صرف سپلائی کو یقینی بناتی بلکہ دنیا بھر میں ہیرے کی طلب میں بھی اضافہ کرتی۔1938ءکے لگ بھگ دنیا بھر میں کساد بازاری عروج پر تھی اور ہر طرف معاشی مسائل کا سامنا تھا لیکن ایسے حالات میں ’ڈی بیرز‘ کے مالک کے بیٹے Harry Oppenheimerنے ایک اشتہاری کمپنی N.W. Ayer کی خدمات حاصل کرتے ہوئے پورے امریکہ میں ہیروں کے بیش بہا ہونے اور ان کا پیار ست گہرا تعلق ہونے کے متعلق مہم چلائی۔اس دوران دنیا بھر میں ہیرے کی قیمتیں تیزی سے گر رہی تھیں لیکن Ayerکمپنی نے فیصلہ کیا کہ وہ نوجوان جوڑوںکے دل میں یہ بات راسخ کردے گی کہ صرف اور صرف ہیرے ہی اصل محبت اور کامیابی کا نعم البدل ہوسکتے ہیں۔اس سے قبل منگنی کے لئے ہیرے کی انگوٹھی استعمال نہیں کی جاتی تھی اور عام انگوٹھی سے کام چلا لیا جاتا تھا۔اس مہم میں یہ بات کامیابی سے بتائی گئی کہ کوئی برانڈ نہیں بلکہ ہیرے اہم ترین ہیں اور اس کو اپنی منگنی اور شادی کی انگوٹھیوں میں لگا کر اپنی اصل محبت کا اظہار کریں اور اپنے پیار کو لازوال بنا لیں۔ہالی ووڈ کے اداکاروں اور اداکاراﺅں کو مہم میں شامل کیا گیا اور ساتھ ہی اخبارات اور میگزین میں یہ بات بتائی گئی کہ کون سا فلمی ستارہ کس سائز کا ہیرا استعمال کرتا ہے۔

ملک میں مقیم غیرملکی خاتون صحافی نے پاکستان کے طاقتور ترین طبقے کی نجی محفلوں سے پردہ اٹھادیا

1947ءمیں اشتہاری کمپنی نے تعلیمی اداروں کا رخ کیا اور خصوصی لیکچرز کے ذریعے یہ بات ثابت کی گئی کہ صرف اور صرف ہیرے کی محبت کا اظہار کے لئے ضروری ہیں اور باقی تمام اشیاءفضول ہیں۔اس کامیاب مہم کے ذریعے De Beersکی سیل جو کہ 1939ءمیں 23 ملین ڈالر تھی،صرف 40سال کے عرصے میں 1979ءتک 2.1ارب ڈالر ہوگئی۔بات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب جاپان بھی ایک بڑی مارکیٹ کے طور پر سامنے آیا اور 1981ءمیں ہیرے کی خریداری میں دوسرا بڑا ملک بن گیا۔

ایڈورڈ نے مثالوں سے یہ بات ثابت کی ہے کہ کمپنی نے ایک کامیاب ترین اشتہاری مہم کے ذریعے یہ بات لوگوں کے دلوں میں بیٹھا دی کہ صرف ہیرے کی انگوٹھی ہی کامیابی کی ضمانت ہے اور یہ کہ محبت کا اظہار کے لئے اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...