لاہورہائی کورٹ نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے 21فروری کو ہونے والے انتخابات روک دیئے

لاہورہائی کورٹ نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے 21فروری کو ہونے والے ...
لاہورہائی کورٹ نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے 21فروری کو ہونے والے انتخابات روک دیئے

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے 21فروری کو ہونے والے انتخابات روکنے کا حکم دیتے ہوئے کالج انتظامیہ سے 6 مارچ تک جواب طلب کر لیا۔مسٹر جسٹس شہزادہ مظہر نے یہ عبوری حکم امتناعی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر عامر بندیشہ اور ڈاکٹر عبدالمنان کی درخواستوں پر جاری کیا ، درخواست گزاروں کے وکلاءنوشاب اے خان اورملک اویس خالد نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ کونسل آف کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے انتخابات 21فروری کو ہو رہے ہیں جس میں کالج کے فیلوز نے ووٹ کاسٹ کرنے ہوتے ہیں اور موجودہ عہدیداروں نے انتخابات میں دھاندلی کی پوری منصوبہ بندی کر لی ہے.
انہوں نے بتایا کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں ووٹر لسٹ فراہم نہیں کی جا رہی جبکہ بیلٹ پیپر زپر بھی برسراقتدار انتظامیہ نے اپنے گروپ کے امیدواروں کے نام پہلے شائع کروا لئے ہیں، موجودہ عہدیداروں کے مخالفین کا انتخابات میں راستہ روکنے کے لئے ان پر مختلف طرح کی بلاجواز پابندیاں لگائی جا رہیں جو غیرقانونی ہیں ،سی پی ایس پی کے انتخابات روکنے کا حکم دیا جائے اور شفاف انتخابات کرانے کا حکم دیا جائے، سی پی ایس پی کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے بتایا کہ انتخابات شفاف طریقے سے ہی کرائے جا رہے ہیں جبکہ انتخابات میں حصہ لینے کے لئے 40برس عمر کی شرط بھی سی پی ایس پی کی کونسل کی منظوری سے لگائی گئی ہے، عدالت نے دونوں طرف سے دلائل سننے کے بعد سی پی ایس پی کے 21فروری کو ہونے والے انتخابات روکنے کا حکم دیتے ہوئے کالج انتظامیہ سے 6 مارچ تک جواب طلب کر لیا۔

مزید : لاہور