سانحہ ماڈل ٹاﺅن کمیشن رپورٹ میں ذمہ دار ٹھہرائی گئی شخصیات کو بچانے کی کوشش ،ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کرلیا

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کمیشن رپورٹ میں ذمہ دار ٹھہرائی گئی شخصیات کو بچانے کی کوشش ...
سانحہ ماڈل ٹاﺅن کمیشن رپورٹ میں ذمہ دار ٹھہرائی گئی شخصیات کو بچانے کی کوشش ،ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کرلیا

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں ماڈل ٹاﺅن جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں ذمہ دار ٹھہرائی گئی اعلیٰ شخصیات کوبچانے کی کوشش کی جا رہی ہیں، مسٹر جسٹس خالد محمود خان کی سربراہی میں قائم اس فل بنچ نے یہ ریمارکس جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر بنائی گئی جائزہ کمیٹی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیئے۔ان درخواستوں میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کی استدعا بھی کی گئی ہے ۔فاضل بنچ نے ان درخواستوں پر پنجاب حکومت سے جواب بھی طلب کرلیا ہے ۔تین رکنی فل بنچ نے درخواست گزاروں کے وکلاءاظہر صدیق ، شیراز ذکا اور آفتاب باجوہ ایڈووکیٹس کی طرف سے موقف اختیار کیا گیاکہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی جارہی بلکہ حکومت نے ہائیکورٹ کے جج پر مشتمل کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لئے ایک نئی جائزہ کمیٹی بنا دی جس نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو ناقص قرار دیدیا جو توہین عدالت اور عدلیہ کا مذاق اڑانے کے برابر ہے.
انہوں نے استدعا کی حکومت کی جائزہ کمیٹی کالعدم کی جائے اور ماڈل ٹاو ¿ن کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیا جائے، جس پر بنچ نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں ماڈل ٹاﺅن جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں ذمہ دار ٹھہرائے گئے افراد کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، عدالت کو بھی خدشہ ہے کہ اگر ماڈل ٹاو ¿ن کمیشن کی رپورٹ غائب ہو گئی تو کون ذمہ دار ہو گا کیونکہ یہ بات ریکارڈ پر آ چکی ہے کہ پنجاب حکومت نے 90کی دہائی میں طاہر القادری پر قاتلانہ حملے کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ گم کر دی ہے، بنچ کو بتایا گیا کہ حکومت نے رپورٹ منظر عام پر لانے کی مزید دو درخواستوں میں جواب داخل نہیں کرایا جس پر عدالت نے پنجاب حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ پنجاب حکومت نے عدالتوں کو مذاق سمجھ رکھا ہے، آٹھ،آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود عدالتوں میں جواب داخل نہیں کرائے جاتے، فل بنچ نے پنجاب حکومت سے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر بنائی گئی جائزہ کمیٹی کے خلاف اور جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ ہائیکورٹ کے ریکارڈ پر لانے کی درخواستوں پر جواب طلب کرتے ہوئے مزید کارروائی تین مارچ تک ملتوی کر دی۔

مزید : لاہور