غیرملکی سرمایہ کاری کم ہوگئی‘ حکومت نے اخراجات پورے کرنے کیلئے دوبارہ نوٹ چھاپنا شروع کردیئے

غیرملکی سرمایہ کاری کم ہوگئی‘ حکومت نے اخراجات پورے کرنے کیلئے دوبارہ نوٹ ...
غیرملکی سرمایہ کاری کم ہوگئی‘ حکومت نے اخراجات پورے کرنے کیلئے دوبارہ نوٹ چھاپنا شروع کردیئے

  

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں غیر ملکیوں نے سرمایہ کاری کم کر دی ہے، سات ماہ کے دوران نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں 57 فیصد کمی ہوئی ہے صرف چینی سرمایہ کار ہی رہ گئے دوسرے بڑے ملکوں کے سرمایہ کار غائب ہونا شروع ہو گئے۔ رواں مالی سال کے دوران جولائی سے جنوری تک غیر ملکی نجی شعبے کی طرف سے پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری کا حقیقی حجم صرف 33 کروڑ 62 لاکھ ڈالر رہا۔ گزشتہ سال اس عرصے میں 78 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ سٹیٹ بینک کے مطابق 7ماہ کے دوران غیر ملکی نجی شعبے کی طرف سے صنعتی شعبے میں ایک ارب 17 کروڑ 68لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔ اور 53 کروڑ ڈالر کا انخلاءدیکھا گیا جبکہ سٹاک مارکیٹ سے 31 کروڑ 17 لاکھ ڈالر نکالے گئے۔ گزشتہ مالی سال اس عرصے کے دوران سٹاک مارکیٹ میں 16 کروڑ 54 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ رواں مالی سال پاکستان میں غیر ملکی نجی شعبے کی مجموعی سرمایہ کاری کا 65 فیصد چین سے آیا۔ چینی سرمایہ کاروں کی طرف سے سات ماہ کے دوران پاکستان میں 42 کروڑ 4 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہانگ کانگ سے 9 کروڑ 86 لاکھ ڈالر اور اٹلی سے 6کروڑ 12لاکھ ڈالر آئے ان کے برعکس امریکی سرمایہ کار 29کروڑ 25لاکھ ڈالر، سعودی عرب کے سرمایہ کار 7 کروڑ 39لاکھ ڈالر اور برطانوی 7کروڑ 36لاکھ ڈالر نکال کر لے گئے۔ علاوہ ازیں بینکوں سے ریکارڈ مالیت میں قرضے لینے کے بعد اب حکومت نے اخراجات پورے کرنے کے لئے دوبارہ نئے نوٹ چھاپنا شروع کر دیئے ہیں۔ ایک ہفتے کے دوران زیر گردش نوٹوں میں 60 ارب 85 کروڑ روپے کا اضافہ فروری کے پہلے ہفتے کے دوران حکومت کی طرف سے مجموعی طور پر 60ارب 78کروڑ 92لاکھ 31ہزار روپے مالیت کے نئے نوٹ جاری کیے گئے جس کے باعث ملک میں زیر گردش نوٹوں کا مجموعی حجم ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ فروری کے پہلے ہفتے کے اختتام پر زیر گردش نوٹوں کا حجم 31کھرب 54ارب ایک کروڑ 7لاکھ 34ہزار روپے رہا۔ رواں مالی سال کے دوران اب تک حکومت کی طرف سے مجموعی طور پر 427 ارب 75کروڑ 17لاکھ روپے کے نوٹ جاری کیے جا چکے ہیں جو گزشتہ سال سے 83 فیصد زیادہ ہیں۔

مزید : بزنس